السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2360. -- باب: أصل الوزن والكيل بالحجاز، وهذا من مسائل الربا إذا بيع الجنس الواحد بعضه ببعض
-- باب: وزن اور ماپ کی اصل حجاز کے مطابق ہے، اور یہ سود کے مسائل میں سے ہے جب ایک ہی جنس کو ایک دوسرے کے عوض فروخت کیا جائے۔
حدیث نمبر: 11159
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَيُّوبَ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمِكْيَالُ مِكْيَالُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، وَالْوَزْنُ وَزْنُ أَهْلِ مَكَّةَ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مکیال (ناپنے کا آلہ) اہل مدینہ کا ہی قابل اعتبار ہے اور وزن کے پیمانے اہل مکہ کے ہوں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 11159]
تخریج الحدیث: «ابوداؤد 3340، نسائي 4/224»
الحكم على الحديث: ابوداؤد 3340، نسائي 4/224
حدیث نمبر: 11160
وَأَخْبَرَنَا عَلِيٌّ، أنبأ سُلَيْمَانُ، ثنا ابْنُ حَنْبَلٍ، ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، ح وَأَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَا: ثنا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ حَنْظَلَةَ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمِكْيَالُ مِكْيَالُ أَهْلِ مَكَّةَ، وَالْمِيزَانُ مِيزَانُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ" قَالَ سُلَيْمَانُ: هَكَذَا رَوَاهُ أَبُو أَحْمَدَ فَقَالَ: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَخَالَفَ أَبَا نُعَيْمٍ فِي لَفْظِ الْحَدِيثِ، وَالصَّوَابُ مَا رَوَاهُ أَبُو نُعَيْمٍ بِالْإِسِنَادِ وَاللَّفْظِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مکیال اہل مکہ کا اور وزن اہل مدینہ کا معتبر ہے۔“
سلیمان (طبرانی) کہتے ہیں: ابو احمد نے اسے اسی طرح روایت کیا ہے اور کہا: ابن عباس سے، چنانچہ انہوں نے حدیث کے الفاظ میں ابو نعیم کی مخالفت کی ہے، اور درست وہی ہے جو ابو نعیم نے سند اور الفاظ دونوں کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 11160]
سلیمان (طبرانی) کہتے ہیں: ابو احمد نے اسے اسی طرح روایت کیا ہے اور کہا: ابن عباس سے، چنانچہ انہوں نے حدیث کے الفاظ میں ابو نعیم کی مخالفت کی ہے، اور درست وہی ہے جو ابو نعیم نے سند اور الفاظ دونوں کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 11160]