السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2384. -- باب: ما جاء في الملازمة
-- باب: ملازمہ (قرض دار کے ساتھ چمٹے رہنے یا اس کا پیچھا کرنے) کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 11285
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ رَبِيعَةَ، عَنِ الْأَعْرَجِ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ كَانَ لَهُ مَالٌ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ، فَلَقِيَهُ فَلَزِمَهُ، فَتَكَلَّمَا حَتَّى ارْتَفَعَتِ الْأَصْوَاتُ، فَمَرَّ بِهِمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" يَا كَعْبُ" وَأَشَارَ بِيَدِهِ كَأَنَّهُ يَقُولُ النِّصْفَ، فَأَخَذَ نِصْفَ مَا عَلَيْهِ وَتَرَكَ نِصْفًا رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فَقَالَ: قَالَ اللَّيْثُ، فَذَكَرَهُ.
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی حدرد اسلمی رضی اللہ عنہما سے کچھ پیسے لینے تھے، میری ملاقات ان سے ہوئی تو میں نے انہیں روک لیا، ہم ایک دوسرے سے جھگڑنے لگے اور ہماری آواز بلند ہوگئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس سے گزرے تو فرمایا: ”اے کعب!“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا، جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہہ رہے ہوں کہ نصف قرضہ لے، چنانچہ میں نے آدھا قرضہ لے لیا اور آدھا چھوڑ دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ التَّفْلِيسِ/حدیث: 11285]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 457، و مسلم 1558»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 11286
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُعَاذُ بْنُ أَسَدٍ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، ثنا هِرْمَاسُ بْنُ حَبِيبٍ، رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِغَرِيمٍ لِي، فَقَالَ لِي:" الزَمْهُ"، ثُمَّ قَالَ لِي:" يَا أَخَا بَنِي تَمِيمٍ مَا تُرِيدُ أَنْ تَفْعَلَ بِأَسِيرِكَ؟".
ہرماس بن حبیب (جو ایک دیہاتی تھے) اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے ایک مقروض کو لایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”اسے پکڑے رکھ“، پھر مجھے فرمایا: ”اے بنی تمیم کے جوان! تو اپنے قیدی کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہتا ہے؟“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ التَّفْلِيسِ/حدیث: 11286]
حدیث نمبر: 11287
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بِهَرَاةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، ثنا هِرْمَاسُ بْنُ حَبِيبٍ الْعَنْبَرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ اسْتَعْدَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى غَرِيمِهِ، فَقَالَ:" الزَمْهُ"، ثُمَّ لَقِيَهُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَالَ" مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ يَا أَخَا بَنِي الْعَنْبَرِ؟".
ہرماس بن حبیب عنبری اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ اپنے ایک مقروض کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پکڑے رکھ۔“ پھر کچھ عرصہ بعد ملے تو فرمایا: ”اے بنی عنبر کے جوان! تیرے قیدی کا کیا بنا؟“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ التَّفْلِيسِ/حدیث: 11287]
حدیث نمبر: 11288
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُعَاوِيَةَ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ وَارَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سَابِقٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَخِيهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُبِيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: دَخَلَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ وَأُبِيُّ بْنُ كَعْبٍ مُلَازِمٌ رَجُلًا، قَالَ: فَصَلَّى وَقَضَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ خَرَجَ فَإِذَا هُوَ مُلَازِمُهُ، قَالَ:" حَتَّى الْآنَ يَا أُبِيُّ حَتَّى الْآنَ يَا أُبِيُّ مَنْ طَلَبَ أَخَاهُ فَلْيَطْلُبْهُ بِعَفَافٍ، وَافٍ أَوْ غَيْرِ وَافٍ"، فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ تَرَكَهُ وَتَبِعَهُ، قَالَ: فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ، قُلْتَ قَبْلُ:" مَنْ طَلَبَ أَخَاهُ فَلْيَطْلُبْهُ بِعَفَافٍ، وَافٍ أَوْ غَيْرِ وَافٍ"، قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ، مَا الْعَفَافُ؟ قَالَ:" غَيْرَ شَاتِمِهِ، وَلَا مُتَشِدِّدٍ عَلَيْهِ، وَلَا مُتَفَحِّشٍ عَلَيْهِ، وَلَا مُؤْذِيهِ" قَالَ:" وَافٍ أَوْ غَيْرِ وَافٍ"؟ قَالَ:" مُسْتَوْفٍ حَقَّهُ، أَوْ تَارِكٌ بَعْضَهُ".
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے مسجد میں ایک آدمی کو پکڑ کر بٹھایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگئے۔ آپ نے نماز پڑھی، پھر اپنا جو کام کرنے آئے تھے وہ کیا۔ ابھی تک میں نے اسے پکڑا ہوا تھا۔ یہ دیکھ کر آپ نے فرمایا: ”اے ابی! تم نے ابھی تک پکڑا ہوا ہے؟ جو شخص اپنے بھائی سے قرض واپس کرنے کا مطالبہ کرے تو «الْعَفَافِ» ”عفاف“ کے ساتھ کرے اور «وَافٍ أَوْ غَيْرِ وَافٍ» ”وفا کرتے ہوئے یا غیر وفا کرتے ہوئے“ کرے۔“ جب میں نے یہ بات سنی تو اسے چھوڑ دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور پوچھا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے کچھ دیر پہلے کہا ہے کہ «الْعَفَافِ» ”عفاف“ کے ساتھ اور «وَافٍ أَوْ غَيْرِ وَافٍ» ”واف اور غیر واف“ کے ساتھ قرض کا مطالبہ کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! «الْعَفَافِ» ”عفاف“ کسے کہتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا مطلب ہے نہ اسے گالی دے، نہ اس پر سختی کرے، نہ فحش گوئی کرے اور نہ اسے تکلیف دے۔“ میں نے کہا: «وَافٍ أَوْ غَيْرِ وَافٍ» ”واف اور غیر واف“ کا کیا مطلب ہے؟ ”پورا حق لے یا کچھ چھوڑ دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ التَّفْلِيسِ/حدیث: 11288]