🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

2395. -- باب: الخبر الذي ورد في عطية المرأة بغير إذن زوجها
-- باب: اس حدیث کا بیان جو عورت کے اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر ہبہ (تحفہ) دینے کے متعلق وارد ہوئی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11330
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَرَوِيُّ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ، أنبأ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَجُوزُ لِلْمَرْأَةِ عَطِيَّةٌ فِي مَالِهَا إِذَا مَلَكَ زَوْجُهَا عِصْمَتَهَا".
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مرد کسی عورت کی عصمت کا مالک بن جائے تو عورت اپنے مال سے بھی بغیر اجازت کے عطیہ نہیں کر سکتی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجْرِ/حدیث: 11330]
تخریج الحدیث: «ترمذي 1585»

الحكم على الحديث: ترمذي 1585
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11331
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ حَمَّادٍ، ثنا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا مَلَكَ الرَّجُلُ الْمَرْأَةَ لَمْ تَجُزْ عَطِيَّتُهَا إِلَّا بِإِذْنِهِ".
انہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی کسی عورت کا مالک بن جائے تو عورت بغیر اجازت کے عطیہ نہیں کرسکتی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجْرِ/حدیث: 11331]
تخریج الحدیث: «ابو داؤد 3546»

الحكم على الحديث: ابو داؤد 3546
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11332
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، قَالَا: ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، وَحَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَجُوزُ لِامْرَأَةٍ أَمْرٌ فِي مَالِهَا إِذَا مَلَكَ زَوْجُهَا عِصْمَتَهَا" رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ.
انہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب خاوند عورت کی عصمت کا مالک بن جائے تو عورت اپنے مال سے بھی بغیر اجازت کے کوئی تصرف نہیں کر سکتی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجْرِ/حدیث: 11332]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11333
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو كَامِلٍ، ثنا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا الْحُسَيْنُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَجُوزُ لِامْرَأَةٍ عَطِيَّةٌ إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا".
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت کا عطیہ اس کے خاوند کی اجازت کے بغیر جائز نہیں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجْرِ/حدیث: 11333]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11334
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ، يَعْنِي فِي هَذَا الْحَدِيثِ: سَمِعْنَاهُ وَلَيْسَ بِثَابِتٍ، فَيَلْزَمُنَا نَقُولُ بِهِ، وَالْقُرْآنُ يَدُلُّ عَلَى خِلَافِهِ، ثُمَّ السُّنَّةُ، ثُمَّ الْأَثَرُ، ثُمَّ الْمَعْقُولُ، وَقَالَ فِي مُخْتَصَرِ الْبُوَيْطِيِّ، وَالرَّبِيعُ: قَدْ يُمْكِنُ أَنْ يَكُونَ هَذَا فِي مَوْضِعِ الِاخْتِيَارِ، كَمَا قِيلَ: لَيْسَ لَهَا أَنْ تَصُومَ يَوْمًا وَزَوْجُهَا حَاضِرٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ، فَإِنْ فَعَلَتْ فَصَوْمُهَا جَائِزٌ، وَإِنْ خَرَجَتْ بِغَيْرِ إِذْنِهِ فَبَاعَتْ فَجَائِزٌ، وَقَدْ أَعْتَقَتْ مَيْمُونَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَبْلَ أَنْ يَعْلَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَعِبْ ذَلِكَ عَلَيْهَا، فَدَلَّ هَذَا مَعَ غَيْرِهِ عَلَى أَنَّ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنْ كَانَ قَالَهُ، أَدَبٌ وَاخْتِيَارٌ لَهَا ⦗١٠١⦘ قَالَ الشَّيْخُ: الطَّرِيقُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ إِلَى عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ صَحِيحٌ، وَمَنْ أَثْبَتَ أَحَادِيثَ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ لَزِمَهُ إِثْبَاتُ هَذَا، إِلَّا أَنَّ الْأَحَادِيثَ الَّتِي مَضَتْ فِي الْبَابِ قَبْلَهُ أَصَحُّ إِسْنَادًا، وَفِيهَا وَفِي الْآيَاتِ الَّتِي احْتَجَّ بِهَا الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ دَلَالَةٌ عَلَى نُفُوذِ تَصَرُّفِهَا فِي مَالِهَا دُونَ الزَّوْجِ؛ فَيَكُونُ حَدِيثُ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ مَحْمُولًا عَلَى الْأَدَبِ وَالِاخْتِيَارِ كَمَا أَشَارَ إِلَيْهِ فِي كِتَابِ الْبُوَيْطِيِّ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث ہم نے سنی ہے لیکن یہ صحیح سند سے ثابت نہیں کہ ہم پر اس کا قائل ہونا لازم ہو۔ قرآن میں بھی اس کے خلاف دلائل ہیں، پھر سنت بھی اس کے خلاف ہے، آثارِ صحابہ بھی اس کے خلاف ہیں اور یہ عقل کے بھی خلاف ہے، اور مختصر بویطی اور ربیع میں کہا ہے کہ یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ یہ پسندیدہ فعل ہو جیسا کہ کہا گیا ہے کہ ”جب عورت کا خاوند گھر پر ہو تو وہ ایک دن کا نفلی روزہ بھی خاوند کی اجازت کے بغیر نہ رکھے“، لیکن اگر وہ روزہ رکھ لے تو جائز ہے اور اگر خاوند کی اجازت کے بغیر گھر سے نکلے اور بیع کرے تو جائز ہے، اور سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے اپنی لونڈی آزاد کی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بعد میں پتا چلا تھا لیکن آپ نے کوئی عیب محسوس نہیں کیا۔ اس حدیث سے اور دوسرے دلائل سے بھی ثابت ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مذکورہ فرمان ادب کے لیے ہے اور پسندیدہ ہے اور اس کا معنی یہ نہیں ہے کہ عورت اپنے مال کا تصرف بالکل نہیں کر سکتی، شیخ صاحب فرماتے ہیں: اس حدیث کی سند عمرو بن شعیب کے حوالے سے صحیح ہے اور جو شخص عمرو بن شعیب کی احادیث ثابت کرتا ہے اس پر اس حدیث کو بھی ثابت ماننا لازم ہے، مگر گزشتہ باب میں جو احادیث گزری ہیں وہ اصح الاسناد ہیں۔ انہی احادیث اور آیاتِ قرآنی سے امام شافعی رحمہ اللہ نے دلیل لی ہے کہ عورت خاوند کے بغیر اپنے مال میں تصرف کر سکتی ہے اور اس کا تصرف نافذ ہوگا، لہٰذا عمرو بن شعیب کی حدیث ادب اور اختیار پر محمول ہوگی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجْرِ/حدیث: 11334]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں