السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2423. -- باب: ما جاء في الوكيل ينعزل إذا عزل وإن لم يعلم به
-- باب: اس بیان میں کہ جب وکیل کو معزول کر دیا جائے تو وہ معزول ہو جاتا ہے اگرچہ اسے (معزولی کا) علم نہ ہو۔
حدیث نمبر: 11445
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي الْفُرَاتِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: قَضَى عُمَرُ فِي أَمَةٍ غَزَا مَوْلَاهَا وَأَمَرَ رَجُلًا بِبَيْعِهَا، ثُمَّ بَدَا لِمَوْلَاهَا فَأَعْتَقَهَا وَأَشْهَدَ عَلَى ذَلِكَ، وَقَدْ بِيعَتِ الْجَارِيَةُ، فَحَسَبُوا فَإِذَا عِتْقُهَا قَبْلَ بَيْعِهَا، فَقَضَى عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" أَنْ يُقْضَى بِعِتْقِهَا، وَيُرَدَّ ثَمَنُهَا، وَيُؤْخَذَ صَدَاقُهَا، لَمَّا كَانَ قَدْ وَطِئَهَا".
محمد بن زید سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس لونڈی کا فیصلہ کیا جس کا مالک غزوے پر گیا اور اس نے ایک آدمی کو اسے فروخت کرنے کا حکم دیا، پھر اس کے مالک نے اسے آزاد کر دیا اور اس پر گواہ بھی بنایا اور اسے فروخت بھی کر دیا گیا۔ پس انہوں نے حساب لگایا تو معلوم ہوا کہ اس کی آزادی اس کی بیع سے پہلے ہو چکی تھی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فیصلہ کیا کہ اس کی آزادی برقرار رکھی جائے اور اس کی قیمت واپس کر دی جائے اور اس کا حقِ مہر لیا جائے جو اس سے وطی کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَكَالَةِ/حدیث: 11445]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 11446
قَالَ: وَأنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، عَنْ حِبَّانَ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَقَالَ فِيهِ: فَقَضَى عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
پچھلی روایت کی طرح ہے، لیکن اس میں یہ الفاظ ہیں: فیصلہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَكَالَةِ/حدیث: 11446]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن