السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2443. -- باب: ليس لعرق ظالم حق
-- باب: ”ظالم کی رگ (ناحق بوئے گئے پودے یا تعمیر) کا کوئی حق نہیں ہے“۔
حدیث نمبر: 11538
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيْتَةً فَهِيَ لَهُ، وَلَيْسَ لِعِرْقٍ ظَالِمٍ حَقٌّ".
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے بنجر زمین آباد کی وہ اسی کی ہے اور ظالم کے لیے کسی رگ پر کوئی حق نہیں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الغَصْبِ/حدیث: 11538]
تخریج الحدیث: «منكر الاسناد۔ ابو داؤد 3073»
الحكم على الحديث: منكر الاسناد
حدیث نمبر: 11539
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيْتَةً فَهِيَ لَهُ، وَلَيْسَ لِعِرْقٍ ظَالِمٍ حَقٌّ"، قَالَ: فَاخْتَصَمَ رَجُلَانِ مِنْ بَيَاضَةَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، غَرَسَ أَحَدُهُمَا نَخْلًا فِي أَرْضِ الْآخَرِ، فَقَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَاحِبِ الْأَرْضِ بِأَرْضِهِ، وَأَمَرَ صَاحِبَ النَّخْلِ أَنْ يُخْرِجَ نَخْلَهُ مِنْهَا. قَالَ: قَالَ عُرْوَةُ: فَلَقَدْ أَخْبَرَنِي الَّذِي حَدَّثَنِي قَالَ: رَأَيْتُهَا وَإِنَّهُ لِيُضْرَبُ فِي أُصُولِهَا بِالْفُئُوسِ، وَإِنَّهُ لَنَخْلٌ عُمٌّ حَتَّى أَخْرَجَتْ.
یحییٰ بن عروہ اپنے والد عروہ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے بنجر زمین آباد کی وہ اسی کی ہے اور ظالم کا کسی رگ پر حق نہیں ہے۔“ فرماتے ہیں: بیاضہ قبیلے کے دو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جھگڑا لے کر آئے، ان میں سے ایک نے دوسرے کی زمین میں کھجوروں کا باغ لگایا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین والے کے لیے زمین کا فیصلہ کیا اور کھجور والے کو حکم دیا کہ اپنی کھجوریں نکال لے۔ عروہ فرماتے ہیں: جس نے مجھے حدیث بیان کی اس نے فرمایا: اس کی جڑیں کلہاڑیوں سے کاٹی گئی تھیں اور وہ مضبوط کھجوریں تھیں جب نکالی گئیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الغَصْبِ/حدیث: 11539]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11540
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَلَقَدْ حَدَّثَنِي صَاحِبُ هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّهُ أَبْصَرَ رَجُلَيْنِ مِنْ بَيَاضَةَ يَخْتَصِمَانِ، فَذَكَرَهُ..
محمد بن اسحاق سے اسی معنی میں روایت منقول ہے، اس میں اضافہ ہے کہ راوی نے دیکھا کہ بیاضہ قبیلے کے دو آدمی جھگڑ رہے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الغَصْبِ/حدیث: 11540]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11541
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا وَهْبٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ عِنْدَ قَوْلِهِ مَكَانَ الَّذِي حَدَّثَنِي هَذَا: فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَكْبَرُ ظَنِّي أَنَّهُ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ: فَأَنَا رَأَيْتُ الرَّجُلَ يَضْرِبُ فِي أُصُولِ النَّخْلِ.
پچھلی حدیث کی طرح ہے سوائے ان الفاظ کے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک آدمی نے کہا، اور میرا زیادہ گمان یہ ہے کہ وہ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ تھے: میں نے آدمی کو دیکھا وہ کھجور کی جڑوں کو ضرب لگا رہے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الغَصْبِ/حدیث: 11541]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف