السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2448. -- باب: الشفعة فيما لم يقسم
-- باب: اس چیز میں شفعہ کا بیان جو ابھی تقسیم نہ کی گئی ہو۔
حدیث نمبر: 11574
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" الشُّفْعَةُ فِيمَا لَمْ يُقْسَمْ، فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ فَلَا شُفْعَةَ".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شفعہ اس چیز میں ہے جو تقسیم نہ ہوئی ہو، جب حدود قائم ہوجائیں تو کوئی شفعہ نہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشُّفْعَةِ/حدیث: 11574]
حدیث نمبر: 11575
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ خَمِيرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" إِذَا صُرِفَتِ الْحُدُودُ، وَعَرَفَتِ النَّاسُ حُدُودَهُمْ، فَلَا شُفْعَةَ بَيْنَهُمْ".
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب حدود الگ ہو جائیں اور لوگ اپنی حدود پہچان لیں تو ان میں شفعہ باقی نہیں رہتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشُّفْعَةِ/حدیث: 11575]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11576
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" إِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ فِي الْأَرْضِ فَلَا شُفْعَةَ فِيهَا، وَلَا شُفْعَةَ فِي بِئْرٍ وَلَا فَحْلِ نَخْلٍ".
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب زمین میں حدیں واقع ہو جائیں تو ان میں شفعہ نہیں ہے اور نہ کنویں میں شفعہ ہے اور نہ ہی کھجور کے نر درخت میں شفعہ ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشُّفْعَةِ/حدیث: 11576]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ المؤطا 2/717»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 11577
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ ⦗١٧٤⦘ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ فِي حَدِيثِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" إِذَا وَقَعَتِ السُّهْمَانُ فَلَا مُكَابَلَةَ" قَالَ الْأَصْمَعِيُّ: الْمُكَابَلَةُ تَكُونُ مِنَ الْحَبْسِ، يَقُولُ: إِذَا حُدَّتِ الْحُدُودُ فَلَا يُحْبَسُ أَحَدٌ عَنْ حَقِّهِ، وَأَصْلُ هَذَا مِنَ الْكَبْلِ وَهُوَ الْقَيْدُ قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: وَالَّذِي فِي هَذَا الْحَدِيثِ مِنَ الْفِقْهِ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ لَا يَرَى الشُّفْعَةَ لِلْجَارِ، إِنَّمَا يَرَاهَا لِلْخَلِيطِ الْمُشَارِكِ، وَهُوَ بَيِّنٌ فِي حَدِيثٍ لَهُ آخَرَ قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: حَدَّثَنَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ أَوْ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، الشَّكُّ مِنْ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: لَا شُفْعَةَ فِي بِئْرٍ وَلَا فَحْلٍ، وَالَأرَفُ يَقْطَعُ كُلَّ شُفْعَةٍ قَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ: الَأرَفُ: الْمَعَالِمُ وَقَالَ الْأَصْمَعِيُّ: هِيَ الْمَعَالِمُ وَالْحُدُودُ، قَالَ: وَهَذَا كَلَامُ أَهْلِ الْحِجَازِ، يُقَالُ مِنْهُ: أَرَفْتَ الدَّارَ وَالْأَرْضَ تَأْرِيفًا، إِذَا قَسَّمْتَهَا وَحَدَّدْتَهَا قَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ: وَقَوْلُهُ: لَا شُفْعَةَ فِي بِئْرٍ وَلَا فَحْلٍ، أَظُنُّ الْفَحْلَ فَحْلَ النَّخْلِ، وَرُوِّينَا فِي ذَلِكَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، وَعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ.
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ جب حصے واقع ہو جائیں تو کوئی قید نہیں ہے۔ اصمعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: قید تو روکنے سے ہوتی ہے۔ جب حدود واقع ہو جائیں تو کسی کو اس کے حق سے روکا نہیں جا سکتا اور لفظ «الْكَبْلُ» سے مراد قید ہے۔ ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ہمسائے کے لیے حقِ شفعہ کے قائل نہ تھے، وہ خیال کرتے تھے کہ حقِ شفعہ شریک کے لیے ہے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے یہ بھی منقول ہے کہ شفعہ نہ کنویں میں ہے اور نہ سانڈ میں اور حد بندی ہر حقِ شفعہ کو ختم کر دیتی ہے۔ عبداللہ بن ادریس رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ارف سے مراد نشانات ہیں۔ اصمعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ نشانات اور حدود ہیں، یہ اہل حجاز کا کلام ہے (اس میں سے) یہ بھی ہے «أَرَّفْتُ الدَّارَ وَالْأَرْضَ تَأْرِيفًا» ”جب میں نے اس کو تقسیم کر دیا اور اس کی حد بندی کر دی۔“ ابن ادریس رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان کے قول «لَا شُفْعَةَ فِي بِئْرٍ وَلَا فَحْلٍ» میں میرے گمان کے مطابق فحل سے مراد کھجور کا نر درخت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشُّفْعَةِ/حدیث: 11577]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف