السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2468. -- باب: كسب الرجل وعمله بيديه
-- باب: آدمی کی اپنی کمائی اور اس کے اپنے ہاتھوں سے کام کرنے (کی فضیلت) کا بیان۔
حدیث نمبر: 11691
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو يَحْيَى الرُّويَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ هُوَ ابْنُ مُوسَى الْفَرَّاءُ، أنبأ عِيسَى هُوَ ابْنُ يُونُسَ، ثنا ثَوْرٌ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ مِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ يَكْرِبَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا أَكَلَ أَحَدٌ مِنْ بَنِي آدَمَ طَعَامًا خَيْرًا لَهُ مِنْ أَنْ يَأْكُلَ مِنْ عَمَلِ يَدَيْهِ، إِنَّ نَبِيَّ اللهِ دَاوُدَ كَانَ يَأْكُلُ مِنْ كَسْبِ يَدَيْهِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُوسَى.
سیدنا مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان جو کھانا کھاتا ہے اس میں سب سے بہتر وہ کھانا ہے جو اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھائے، اور اللہ کے نبی داود علیہ السلام اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھاتے تھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الإِجَارَةِ/حدیث: 11691]
تخریج الحدیث: «بخاري 2072»
الحكم على الحديث: بخاري 2072
حدیث نمبر: 11692
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفُ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خُفِّفَ عَلَى دَاوُدَ الْقُرْآنُ، فَكَانَ يَأْمُرُ بِدَوَابِّهِ تُسْرَجُ، فَكَانَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مِنْ قَبْلِ أَنَ تُسْرَجَ دَابَّتُهُ، وَكَانَ لَا يَأْكُلُ إِلَّا مِنْ عَمَلِ يَدَيْهِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ مُوسَى عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ آخِرَ الْخَبَرِ. وَرُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَإِسْحَاقَ بْنِ نَصْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ أَوَّلَ الْخَبَرِ. وَقَدْ رُوِّينَا عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمًا عُمَّالَ أَنْفُسِهِمْ، وَفِي رِوَايَةٍ: كَانُوا يُعَالِجُونَ أَرَضِيهِمْ بِأَيْدِيهِمْ وَرُوِّينَا عَنْ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ قَيْنًا وَرُوِّينَا عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فِي قِصَّةِ إِبْرَاهِيمَ ابْنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ دَفَعَهُ إِلَى أُمِّ سَيْفٍ، امْرَأَةِ قَيْنٍ بِالْمَدِينَةِ وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي قِصَّةِ الْمِنْبَرِ، بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى امْرَأَةٍ:" أَنْ مُرِي غُلَامَكِ النَّجَّارَ يَعْمَلُ لِي أَعْوَادًا أَجْلِسُ عَلَيْهِنَّ" وَعَنْ سَهْلٍ فِي الْمَرْأَةِ الَّتِي جَاءَتْ بِبُرْدَةٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي نَسَجْتُ هَذِهِ بِيَدِي أَكْسُوكَهَا وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ: كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ: أَبُو شُعَيْبٍ، وَكَانَ لَهُ غُلَامٌ لَحَّامٌ، وَفِي رِوَايَةٍ: قَصَّابٌ، فَقَالَ: اصْنَعْ لِي طَعَامًا أَدْعُو رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي قِصَّةِ تَحْرِيمِ مَكَّةَ، قَالَ الْعَبَّاسُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِلَّا الْإِذْخَرَ؛ لِصَاغَتِنَا وَلِسُقُفِ بُيُوتِنَا، قَالَ:" إِلَّا الْإِذْخَرَ" وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: احْتَجَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ، وَلَوْ عَلِمَهُ خَبِيثًا لَمْ يُعْطِهِ وَفِي كُلِّ هَذَا دَلَالَةٌ عَلَى جَوَازِ الِاكْتِسَابِ بِهَذِهِ الْحِرَفِ وَمَا فِي مَعْنَاهَا، وَقَدْ مَرَّ فِي الْكِتَابِ إِسْنَادُ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهَا، أَوْ سَيَمُرُّ إِنْ شَاءَ اللهُ، وَفِي الْأَحَادِيثِ الثَّلَاثَةِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ الَّذِي:.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”داؤد (علیہ السلام) پر زبور کی تلاوت آسان کر دی گئی تھی۔ چنانچہ وہ اپنی سواری پر زین کسنے کا حکم دیتے تھے اور زین کسی جانے سے پہلے ہی پوری زبور پڑھ لیتے تھے اور وہ صرف اپنے ہاتھوں کی کمائی ہی کھاتے تھے۔“
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کام کرنے والے لوگ تھے۔ ایک روایت میں ہے کہ وہ اپنے مریضوں کا علاج خود کرتے تھے۔ سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”میں لوہار کا کام کرتا تھا۔“ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ابراہیم کے قصہ میں فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابراہیم کو مدینہ کی ایک لوہارہ عورت ام سیف کی طرف بھیجا۔ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ منبر والے قصہ میں فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو پیغام بھیجا کہ وہ اپنے غلام کو حکم دے کہ وہ میرے بیٹھنے کے لیے منبر بنائے۔ سیدنا سہل رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چادر لے کر آئی اور عرض کرنے لگی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے اسے اپنے ہاتھ سے تیار کیا ہے تاکہ آپ کو پہناؤں۔“ سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انصاریوں کا ایک آدمی تھا جس کا نام ابو شعیب تھا، اس کا غلام گوشت کا کام کرنے والا تھا۔ ایک روایت میں قصاب کے لفظ ہیں؛ اس نے کہا: ”کھانا تیار کرو تاکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلاؤں۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے حرمتِ مکہ کے قصہ میں منقول ہے کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اذخر (بوٹی) کو چھوڑ دیں، داغنے کے لیے اور اپنی چھتوں کے لیے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اذخر کو چھوڑ دیا جائے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوائی اور حجام کو اس کی اجرت دی۔ اگر یہ آپ کے نزدیک خبیث چیز ہوتی تو نہ دیتے اور یہ سارے آثار کمائی کے جواز پر دلالت کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الإِجَارَةِ/حدیث: 11692]
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کام کرنے والے لوگ تھے۔ ایک روایت میں ہے کہ وہ اپنے مریضوں کا علاج خود کرتے تھے۔ سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”میں لوہار کا کام کرتا تھا۔“ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ابراہیم کے قصہ میں فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابراہیم کو مدینہ کی ایک لوہارہ عورت ام سیف کی طرف بھیجا۔ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ منبر والے قصہ میں فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو پیغام بھیجا کہ وہ اپنے غلام کو حکم دے کہ وہ میرے بیٹھنے کے لیے منبر بنائے۔ سیدنا سہل رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چادر لے کر آئی اور عرض کرنے لگی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے اسے اپنے ہاتھ سے تیار کیا ہے تاکہ آپ کو پہناؤں۔“ سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انصاریوں کا ایک آدمی تھا جس کا نام ابو شعیب تھا، اس کا غلام گوشت کا کام کرنے والا تھا۔ ایک روایت میں قصاب کے لفظ ہیں؛ اس نے کہا: ”کھانا تیار کرو تاکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلاؤں۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے حرمتِ مکہ کے قصہ میں منقول ہے کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اذخر (بوٹی) کو چھوڑ دیں، داغنے کے لیے اور اپنی چھتوں کے لیے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اذخر کو چھوڑ دیا جائے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوائی اور حجام کو اس کی اجرت دی۔ اگر یہ آپ کے نزدیک خبیث چیز ہوتی تو نہ دیتے اور یہ سارے آثار کمائی کے جواز پر دلالت کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الإِجَارَةِ/حدیث: 11692]
تخریج الحدیث: «بخاري 2073»
الحكم على الحديث: بخاري 2073
حدیث نمبر: 11693
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الْوَاسِطِيُّ، ثنا ابْنُ عَائِشَةَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي مَاجِدَةَ قَالَ: قَاتَلْتُ غُلَامًا فَجَدَعْتُ أُذُنَهُ، أَوْ جَدَعَ أُذُنِي، ⦗٢١١⦘ قَالَ: فَقَدِمَ عَلَيْنَا أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَرُفِعْنَا إِلَيْهِ وَهُوَ خَارِجٌ، فَاخْتَصَمْنَا إِلَيْهِ، فَرَفَعَنَا إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: قَدْ بَلَغَ الْقِصَاصُ، ادْعُوا لِي حَجَّامًا يَقْتَصُّ مِنْهُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا؛ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنِّي وَهَبْتُ لِخَالَتِي غُلَامًا أَرْجُو أَنْ يُبَارَكَ لَهَا فِيهِ، وَقُلْتُ لَهَا: لَا تُسَلِّمِيهِ حَجَّامًا وَلَا قَصَّابًا وَلَا صَائِغًا".
ابو ماجدہ رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ میں ایک غلام سے لڑا، میں نے اس کا کان کاٹ ڈالا یا اس نے میرا کان کاٹ ڈالا۔ ہماری طرف ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے تو ہمیں ان کی طرف پیش کیا گیا، ہم نے ان پر اپنا جھگڑا پیش کیا تو انہوں نے ہمیں عمر رضی اللہ عنہ کی طرف بھیج دیا۔ آپ نے فرمایا: یہ معاملہ قصاص تک پہنچ گیا ہے، حجام کو بلاؤ وہ اس سے کاٹ دے۔ دو یا تین دفعہ فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ”میں نے اپنی خالہ کو غلام ہبہ کیا، اس امید سے کہ اس میں خالہ کے لیے برکت ہو اور میں نے کہا: اس کو حجام، قصائی اور داغنے والے کے سپرد نہ کرنا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الإِجَارَةِ/حدیث: 11693]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11694
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادٌ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ أَوْ جُزْءٍ مِنْهُ. قَالَ وَثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُرَقِيُّ، عَنْ أَبِي مَاجِدَةَ، رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَهْمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِمَعْنَاهُ، مَحْمُولٌ عَلَى التَّنْزِيهِ لَا عَلَى التَّحْرِيمِ. وَأَمَّا كَسْبُ الْحَجَّامِ فَالْكَلَامُ فِيهِ مَذْكُورٌ فِي الْمُخْتَصَرِ فِي الرُّبُعِ الْأَخِيرِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
یہ نہیِ تنزیہی پر محمول ہے نہ کہ تحریمی پر، اور حجام کی کمائی میں کلام ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الإِجَارَةِ/حدیث: 11694]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11695
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ السَّرَّاجُ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" طَلَبُ كَسْبِ الْحَلَالِ فَرِيضَةٌ بَعْدَ الْفَرِيضَةِ" تَفَرَّدَ بِهِ عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ الرَّمْلِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: قَرَأْتُ بِخَطِّ أَبِي عَمْرٍو الْمُسْتَمْلِي، سَمِعْتُ أَبَا أَحْمَدَ الْفَرَّاءَ يَقُولُ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ يَحْيَى يُسْأَلُ عَنْ حَدِيثِ عَبَّادِ بْنِ كَثِيرٍ فِي كَسْبِ الْحَلَالِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنْ كَانَ قَالَهُ.
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حلال کمائی کی طلب فرض کے بعد فرض ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الإِجَارَةِ/حدیث: 11695]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف