السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2481. -- باب: لا يترك ذمي يحييه؛ لأن رسول الله صلى الله عليه وسلم جعلها لمن أحياها من المسلمين
-- باب: کسی ذمی کو اسے آباد کرنے کے لیے نہیں چھوڑا جائے گا؛ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اسے مسلمانوں میں سے اس شخص کے لیے قرار دیا ہے جو اسے آباد کرے۔
حدیث نمبر: 11783
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ زَيْدُ بْنُ أَبِي هَاشِمٍ الْعَلَوِيُّ، وَعَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ النَّجَّارِ بِالْكُوفَةِ، قَالَا: أنبأ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا قَبِيصَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ أَحْيَا مَيْتًا مِنْ مَوَتَانِ الْأَرْضِ فَلَهُ رَقَبَتُهَا، وَعَادِيُّ الْأَرْضِ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ، ثُمَّ لَكُمْ مِنْ بَعْدِي" وَرَوَاهُ هِشَامُ بْنُ حُجَيْرٍ عَنْ طَاوُسٍ فَقَالَ:" ثُمَّ هِيَ لَكُمْ مِنِّي".
ابن طاؤس رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے بنجر زمین میں سے کچھ آباد کی تو اس کے لیے اس کی نگرانی ہے اور پہلے زمین اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہے اور تمہارے لیے بعد میں ہے۔“
ایک روایت کے الفاظ ہیں: ”پھر وہ تمہارے لیے ہے میری طرف سے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ إِحْيَاءِ المَوَاتِ/حدیث: 11783]
ایک روایت کے الفاظ ہیں: ”پھر وہ تمہارے لیے ہے میری طرف سے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ إِحْيَاءِ المَوَاتِ/حدیث: 11783]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11784
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَادِيُّ الْأَرْضِ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ ثُمَّ لَكُمْ مِنْ بَعْدُ، فَمَنْ أَحْيَا شَيْئًا مِنْ مَوَتَانِ الْأَرْضِ فَلَهُ رَقَبَتُهَا".
طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلے زمین اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہے، پھر بعد میں تمہارے لیے ہے۔ پس جس نے بنجر زمین کو آباد کیا اس کی نگرانی کا وہی حق دار ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ إِحْيَاءِ المَوَاتِ/حدیث: 11784]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11785
وَبِهِ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" إِنَّ عَادِيَّ الْأَرْضِ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَلَكُمْ مِنْ بَعْدُ، فَمَنْ أَحْيَا شَيْئًا مِنْ مَوَتَانِ الْأَرْضِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ".
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ ”پہلے زمین اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہے اور تمہارے لیے بعد میں ہے، پس جس نے بنجر زمین کو آباد کیا وہ اس کا زیادہ حق دار ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ إِحْيَاءِ المَوَاتِ/حدیث: 11785]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11786
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ نَاجِيَةَ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" مَوَتَانِ الْأَرْضِ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ، فَمَنْ أَحْيَا مِنْهَا شَيْئًا فَهِيَ لَهُ" تَفَرَّدَ بِهِ مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ مَرْفُوعًا مَوْصُولًا.
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنجر زمین اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہے۔ پس جس نے بنجر زمین آباد کی وہ اسی کی ہے۔“
اسے مرفوع اور متصل سند کے ساتھ صرف معاویہ بن ہشام نے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ إِحْيَاءِ المَوَاتِ/حدیث: 11786]
اسے مرفوع اور متصل سند کے ساتھ صرف معاویہ بن ہشام نے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ إِحْيَاءِ المَوَاتِ/حدیث: 11786]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره