السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2507. -- باب: الصدقة في ولد البنين والبنات ومن تناوله اسم الولد والابن منهم
-- باب: بیٹوں اور بیٹیوں کی اولاد پر صدقہ کرنے کا بیان، نیز ان میں سے ہر اس شخص پر صدقہ کرنا جس پر اولاد اور بیٹے کا اطلاق ہوتا ہو
حدیث نمبر: 11924
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَأَقْبَلَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَعَلَيْهِمَا قَمِيصَانِ أَحْمَرَانِ يَعْثُرَانِ وَيَقُومَانِ، فَلَمَّا رَآهُمَا نَزَلَ فَأَخَذَهُمَا، ثُمَّ صَعِدَ فَوَضَعَهُمَا فِي حِجْرِهِ، ثُمَّ قَالَ:" صَدَقَ اللهُ {إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ} [التغابن: ١٥] ، رَأَيْتُ هَذَيْنِ فَلَمْ أَصْبِرْ حَتَّى أَخَذْتُهُمَا".
سیدنا عبداللہ بن بریدہ رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، اسی دوران سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما آئے، وہ سرخ قمیصیں پہنے ہوئے تھے، ٹھوکر کھا کر گرتے تھے اور کھڑے ہوجاتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم (منبر) سے اترے، ان دونوں کو پکڑا، پھر منبر پر چڑھ گئے اور ان دونوں کو اپنی گود میں لے لیا، پھر فرمایا: ”اللہ نے سچ کہا ہے: ﴿بیشک تمہارے مال اور اولاد فتنہ ہیں﴾ [سورة التغابن: 15] ، میں نے ان دونوں کو دیکھا تو مجھ سے رہا نہ گیا اس لیے میں نے ان کو پکڑ لیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَقْفِ/حدیث: 11924]
تخریج الحدیث: «حسن۔ احمد 23383۔ ابوداود 1109»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 11925
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا أَبُو يَعْلَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرَةَ يَقُولُ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَمَعَهُ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ وَهُوَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ مَرَّةً، وَإِلَى النَّاسِ مَرَّةً، وَهُوَ يَقُولُ:" إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ، وَلَعَلَّ اللهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ" ⦗٢٧٤⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنْ سُفْيَانَ.
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ اس کی طرف اور ایک دفعہ لوگوں کی طرف دیکھتے تھے اور فرمایا: ”میرا یہ بیٹا سردار ہے۔ شاید اللہ اس کی وجہ سے مسلمانوں کے دو گروہوں کی صلح کرائے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَقْفِ/حدیث: 11925]
تخریج الحدیث: «بخاري 2704»
الحكم على الحديث: بخاري 2704
حدیث نمبر: 11926
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ شَوْذَبٍ الْمُقْرِئُ بِوَاسِطَ، أنبأ شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: لَمَّا وُلِدَ الْحَسَنُ سَمَّيْتُهُ حَرْبًا، فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" أَرُونِي ابْنِي، مَا سَمَّيْتُمُوهُ؟" فَقُلْتُ: حَرْبًا، فَقَالَ:" بَلْ هُوَ حَسَنٌ"، ثُمَّ وُلِدَ الْحُسَيْنُ فَسَمَّيْتُهُ حَرْبًا، فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" أَرُونِي ابْنِي، مَا سَمَّيْتُمُوهُ؟" فَقُلْتُ: حَرْبًا، قَالَ:" بَلْ هُوَ حُسَيْنٌ"، فَلَمَّا وُلِدَ الثَّالِثُ سَمَّيْتُهُ حَرْبًا، فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرَاهُ فَقَالَ:" أَرُونِي ابْنِي، مَا سَمَّيْتُمُوهُ؟" قُلْتُ: حَرْبًا، قَالَ:" بَلْ هُوَ مُحْسِنٌ"، ثُمَّ قَالَ:" سَمَّيْتُهُمْ بِأَسْمَاءِ وَلَدِ هَارُونَ: شَبَّرَ وَشَبِيرَ وَمُشَبَّرَ" رَوَاهُ يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِيهِ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ:" إِنِّي سَمَّيْتُ بَنِيَّ هَؤُلَاءِ بِتَسْمِيَةِ هَارُونَ بَنِيهِ"، وَرُوِيَ فِي هَذَا الْمَعْنَى أَخْبَارٌ كَثِيرَةٌ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب سیدنا حسن رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے تو میں نے ان کا نام حرب رکھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو فرمایا: ”مجھے دکھاؤ میرا بیٹا، تم نے کیا نام رکھا ہے؟“ میں نے کہا: حرب۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں بلکہ وہ حسن ہے۔“ پھر جب سیدنا حسین رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے تو میں نے اس کا نام حرب رکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ وہ حسین ہے۔“ جب تیسرا بیٹا پیدا ہوا تو میں نے اس کا نام حرب رکھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے دیکھنے آئے تو فرمایا: ”مجھے دکھاؤ میرا بیٹا، تم نے اس کا نام کیا رکھا ہے؟“ میں نے کہا: حرب۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ محسن ہے۔“ پھر فرمایا: ”میں نے ان کے نام ہارون کی اولاد کے ناموں پر رکھے ہیں: شبر، شبیر اور مشبر۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَقْفِ/حدیث: 11926]
تخریج الحدیث: «احمد 771۔ الطيالسي 131»
الحكم على الحديث: احمد 771