🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

2516. -- باب: ما جاء في هبة المشاع
-- باب: مشترکہ (غیر تقسیم شدہ) جائیداد کو ہبہ کرنے کے متعلق جو احکام مروی ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11956
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، ثنا ثَابِتُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَابِدُ، ثنا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ، أَظُنُّهُ قَالَ: ضُحًى، فَقَالَ لِي:" صَلِّهْ، أَوْ صَلِّ رَكْعَتَيْنِ"، وَكَانَ لِي عَلَيْهِ دَيْنٌ، فَقَضَانِي وَزَادَنِي رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ ثَابِتِ بْنِ مُحَمَّدٍ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تھے، راوی کا خیال ہے کہ چاشت کا وقت تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کہا: ”نماز پڑھو“ یا فرمایا: ”دو رکعتیں پڑھو“ اور میرا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کچھ قرض تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا قرض بھی ادا کیا اور زائد بھی کچھ عطا کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الهِبَاتِ/حدیث: 11956]
تخریج الحدیث: «بخاري 443۔ مسلم 715»

الحكم على الحديث: بخاري 443
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11957
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يَقُولُ:" بِعْتُ بَعِيرًا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَزَنَ فَأَرْجَحَ لِي، فَمَا زَالَ بَعْضُ تِلْكَ الدَّرَاهِمِ مَعِي حَتَّى أُصِيبَتْ يَوْمَ الْحَرَّةِ" أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ.
محارب بن دثار رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اونٹ بیچا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وزن کر کے پورا دیا اور زائد بھی دے دیا۔ وہ درہم ہمیشہ میرے پاس رہے یہاں تک کہ حرہ کے دن نقصان پہنچا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الهِبَاتِ/حدیث: 11957]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الطيالسي 1831»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11958
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَلَمَةَ الضَّمْرِيِّ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، عَنِ الْبَهْزِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يُرِيدُ مَكَّةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِالرَّوْحَاءِ إِذَا حِمَارُ وَحْشٍ عَقِيرٌ، فَذُكِرَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" دَعُوهُ؛ فَإِنَّهُ يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَ صَاحِبُهُ"، فَجَاءَ الْبَهْزِيُّ وَهُوَ صَاحِبُهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، شَأْنَكُمْ بِهَذَا الْحِمَارِ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَسَمَهُ بَيْنَ الرِّفَاقِ، ثُمَّ مَضَى حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْأُثَايَةِ بَيْنَ الرُّويْبَةِ وَالْعَرْجِ إِذَا ظَبْيٌ حَاقِفٌ فِي ظِلٍّ وَفِيهِ سَهْمٌ، فَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ رَجُلًا يَثْبُتُ عِنْدَهُ لَا يُرِيبُهُ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ حَتَّى يُجَاوِزَهُ وَرَوَى مُسْلِمٌ الْبَطِينُ أَنَّ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ وَرِثَ مَوَارِيثَ فَتَصَدَّقَ بِهَا قَبْلَ أَنْ تُقْسَمَ فَأُجِيزَتْ.
سیدنا بہزی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ کا ارادہ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم حالتِ احرام میں تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم روحاء کے مقام پر آئے تو وہاں ایک نیل گائے زخمی پڑی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو، کیونکہ ہو سکتا ہے اس کا شکار کرنے والا آ جائے“۔ پس سیدنا بہزی رضی اللہ عنہ آ گئے اور وہی اس کے شکاری تھے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! آپ لوگ اسے لے لیں“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اسے ساتھیوں میں تقسیم کر دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے چلے یہاں تک کہ جب مقامِ اثایہ پر پہنچے جو رویثہ اور عرج کے درمیان ہے، تو وہاں ایک ہرن دیکھا جو سائے میں سر جھکائے کھڑا تھا اور اسے ایک تیر لگا ہوا تھا۔ راوی نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو اس کے پاس کھڑا ہونے کا حکم دیا تاکہ سب لوگ وہاں سے گزر جائیں اور اسے کوئی نہ چھیڑے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الهِبَاتِ/حدیث: 11958]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مالك في الموطا 1139»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11959
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ مَحْمُودٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ قَالَ:" نَحَلَنِي أَنَسٌ نِصْفَ دَارِهِ" قَالَ: فَقَالَ أَبُو بُرْدَةَ: إِنْ سَرَّكَ يَجُوزُ لَكَ فَاقْبِضْهُ؛ فَإِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَضَى فِي الْأَنْحَالِ أَنَّ مَا قُبِضَ مِنْهُ فَهُوَ جَائِزٌ، وَمَا لَمْ يُقْبَضْ فَهُوَ مِيرَاثٌ، قَالَ:" فَدَعَوْتُ يَزِيدَ الرِّشْكَ فَقَسَمَهَا".
نضر بن انس نے کہا کہ مجھے انس رضی اللہ عنہ نے اپنا نصف گھر عطیہ دیا، ابوبردہ نے کہا: اگر تمہیں پسند ہے کہ یہ تمہارے لیے جائز ہو تو اس پر قبضہ کرلو، کیونکہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عطیہ میں دی جانے والی چیز کا فیصلہ کیا کہ جس پر قبضہ کر لیا جائے وہ جائز ہے اور جو قبضہ نہ ہو وہ میراث ہے، نضر کہتے ہیں: میں نے یزید کو بلایا اور اس نے اس گھر کو تقسیم کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الهِبَاتِ/حدیث: 11959]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں