السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2530. -- باب: اللقطة يأكلها الغني والفقير إذا لم تعترف بعد تعريف سنة
-- باب: مالدار اور فقیر کا لقطہ کو استعمال کر لینا جب ایک سال تک اعلان کرنے کے بعد اسے پہچانا نہ جا سکے
حدیث نمبر: 12060
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أَخْبَرَنِي الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ وَجَدَ دِينَارًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" فَأَمَرَهُ أَنْ يُعَرِّفَهُ، فَلَمْ يُعْتَرَفْ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَأَكُلَهُ، ثُمَّ جَاءَ صَاحِبُهُ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَغْرَمَهُ" ⦗٣١١⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِمَّنْ تَحْرُمُ عَلَيْهِ الصَّدَقَةُ؛ لِأَنَّهُ مِنْ صَلِيبَةِ بَنِي هَاشِمٍ.
عطاء بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک دینار ملا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ”اس کا اعلان کرو“، لیکن کسی نے نہ پہچانا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ ”اس کو کھا لو“، پھر اس کا مالک آگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ ”اسے ادا کرو“۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ان میں سے ہیں جن پر صدقہ حرام ہے اس لیے کہ وہ بنی ہاشم سے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ اللُّقَطَةِ/حدیث: 12060]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ان میں سے ہیں جن پر صدقہ حرام ہے اس لیے کہ وہ بنی ہاشم سے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ اللُّقَطَةِ/حدیث: 12060]
تخریج الحدیث: «حسن۔ الام شافعي 4/ 72»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 12061
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ حِكَايَةً، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ قَالَ: سَمِعْتُ هُزَيْلًا يَقُولُ: رَأَيْتُ عَبْدَ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ أَتَاهُ رَجُلٌ بِصُرَّةٍ مَخْتُومَةٍ، فَقَالَ: قَدْ عَرَّفْتُهَا وَلَمْ أَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهَا، قَالَ:" اسْتَمْتِعْ بِهَا" قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَهَكَذَا السُّنَّةُ الثَّابِتَةُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَوْا حَدِيثًا عَنْ عَامِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ أَنَّهُ اشْتَرَى جَارِيَةً، فَذَهَبَ صَاحِبُهَا فَتَصَدَّقَ بِثَمَنِهَا وَقَالَ: اللهُمَّ عَنْ صَاحِبِهَا، فَإِنْ كَرِهَ فَلِي وَعَلَيَّ الْغُرْمُ، ثُمَّ قَالَ: وَهَكَذَا يُفْعَلُ بِاللُّقَطَةِ، فَخَالَفُوا السُّنَّةَ فِي اللُّقَطَةِ الَّتِي لَا حُجَّةَ مَعَهَا، وَخَالَفُوا حَدِيثَ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ الَّذِي يُوَافِقُ السُّنَّةَ، وَهُوَ عِنْدَهُمْ ثَابِتٌ، وَاحْتَجُّوا بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَهُمْ يُخَالِفُونَهُ فِيمَا هُوَ فِيهِ بِعَيْنِهِ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْ قَوْلِهِ مَا يُوَافِقُ قَوْلَ الْعِرَاقِيِّينَ.
ہذیل رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو دیکھا، ان کے پاس ایک آدمی ایک بند تھیلی لے کر آیا اور کہا: ”میں نے اس کا اعلان کیا ہے لیکن کسی نے اسے نہیں پہچانا۔“ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس سے فائدہ اٹھا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہی سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اور انہوں نے عامر رحمہ اللہ سے، انہوں نے اپنے والد عبداللہ رحمہ اللہ سے حدیث بیان کی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے لونڈی خریدی، اس کا مالک گیا اور اس کی قیمت صدقہ کردی اور کہا: «اللَّهُمَّ هَذَا عَنْ رَبِّهَا» ”اے اللہ! یہ اس کے مالک کی طرف سے ہے۔ اگر اس نے لونڈی کو ناپسند کیا تو میری ہے اور مجھ پر اس کی قیمت ہے۔“ پھر کہا: ”اسی طرح گری پڑی چیز کا حکم ہے۔“ انہوں نے گری ہوئی چیز کے بارے میں سنت کی مخالفت کی، ان کے پاس دلیل نہ تھی اور انہوں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث کی مخالفت کی جو سنت کے موافق ہے اور وہ ان کے ہاں ثابت ہے اور انہوں نے اس حدیث سے دلیل لی ہے حالانکہ وہ خود اسی بات میں اس کی مخالفت کرتے ہیں جس کے بارے میں یہ حدیث ہے۔
شیخ (امام بیہقی رحمہ اللہ) فرماتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ان کا اپنا قول عراقیوں کے قول کے موافق روایت کیا گیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ اللُّقَطَةِ/حدیث: 12061]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہی سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اور انہوں نے عامر رحمہ اللہ سے، انہوں نے اپنے والد عبداللہ رحمہ اللہ سے حدیث بیان کی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے لونڈی خریدی، اس کا مالک گیا اور اس کی قیمت صدقہ کردی اور کہا: «اللَّهُمَّ هَذَا عَنْ رَبِّهَا» ”اے اللہ! یہ اس کے مالک کی طرف سے ہے۔ اگر اس نے لونڈی کو ناپسند کیا تو میری ہے اور مجھ پر اس کی قیمت ہے۔“ پھر کہا: ”اسی طرح گری پڑی چیز کا حکم ہے۔“ انہوں نے گری ہوئی چیز کے بارے میں سنت کی مخالفت کی، ان کے پاس دلیل نہ تھی اور انہوں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث کی مخالفت کی جو سنت کے موافق ہے اور وہ ان کے ہاں ثابت ہے اور انہوں نے اس حدیث سے دلیل لی ہے حالانکہ وہ خود اسی بات میں اس کی مخالفت کرتے ہیں جس کے بارے میں یہ حدیث ہے۔
شیخ (امام بیہقی رحمہ اللہ) فرماتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ان کا اپنا قول عراقیوں کے قول کے موافق روایت کیا گیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ اللُّقَطَةِ/حدیث: 12061]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12062
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ هَارُونَ إِمْلَاءً، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا أَبُو عُمَرَ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي رُؤَاسٍ وَجَدَ صُرَّةً فَأَتَى بِهَا عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: إِنِّي وَجَدْتُ صُرَّةً فِيهَا دَرَاهِمَ، وَقَدْ عَرَّفْتُهَا وَلَمْ أَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهَا، وَجَعَلْتُ أَشْتَهِي أَنْ لَا يَجِيءَ مَنْ يَعْرِفُهَا، قَالَ:" تَصَدَّقْ بِهَا، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَرَضِيَ كَانَ لَهُ الْأَجْرُ، وَإِنْ لَمْ يَرْضَ غَرِمْتَهَا وَكَانَ لَكَ الْأَجْرُ" عَاصِمُ بْنُ ضَمْرَةَ غَيْرُ قَوِيٍّ وَقَدْ رُوِّينَا عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَرْفُوعًا جَوَازَ الْأَكْلِ، ⦗٣١٢⦘ وَرُوِّينَاهُ بِأَسَانِيدَ صِحَاحٍ مَوْصُولَةٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسُنَّةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الثَّابِتَةُ أَوْلَى بِالِاتِّبَاعِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
عاصم بن ضمرہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بنی رواس کے ایک آدمی کو ایک تھیلی ملی، وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس تھیلی لے کر آیا، اس نے کہا: ”میں نے اس میں رقم پائی ہے اور میں نے اس کو متعارف بھی کروایا ہے، لیکن کسی نے اسے پہچانا نہیں ہے اور میں یہ چاہنے لگا کہ کوئی اسے پہچاننے والا نہ آئے۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اسے صدقہ کر دو، اگر اس کا مالک آ جائے اور وہ صدقہ پر راضی ہو تو اس کے لیے اجر ہو گا، ورنہ تو اسے (رقم) دے دینا اور تجھے اجر مل جائے گا۔“
عاصم بن ضمرہ قوی نہیں ہیں۔ اور ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً (گری پڑی چیز) کھانے کا جواز روایت کیا ہے، اور اسے صحیح متصل سندوں کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ثابت شدہ سنت ہی پیروی کے زیادہ لائق ہے، اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ اللُّقَطَةِ/حدیث: 12062]
عاصم بن ضمرہ قوی نہیں ہیں۔ اور ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً (گری پڑی چیز) کھانے کا جواز روایت کیا ہے، اور اسے صحیح متصل سندوں کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ثابت شدہ سنت ہی پیروی کے زیادہ لائق ہے، اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ اللُّقَطَةِ/حدیث: 12062]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 12063
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ رَجُلًا وَجَدَ لُقَطَةً فَجَاءَ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ فَقَالَ لَهُ: إِنِّي وَجَدْتُ لُقَطَةً، فَمَاذَا تَرَى؟ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ:" عَرِّفْهَا"، قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ، قَالَ:" زِدْ"، قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ، قَالَ:" لَا آمُرُكَ أَنْ تَأَكُلَهَا، وَلَوْ شِئْتَ لَمْ تَأْخُذْهَا" زَادَ أَبُو سَعِيدٍ فِي رِوَايَتِهِ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: ابْنُ عُمَرَ لَعَلَّهُ أَنْ لَا يَكُونَ سَمِعَ الْحَدِيثَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللُّقَطَةِ، وَلَوْ لَمْ نَسْمَعْهُ انْبَغَى أَنْ نَقُولَ: لَا يَأْكُلُهَا، كَمَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ.
نافع سے روایت ہے کہ ایک آدمی کو کوئی گری پڑی چیز ملی، وہ لے کر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، اس نے کہا: مجھے یہ چیز ملی ہے، آپ کا کیا خیال ہے؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے کہا: اس کا اعلان کر دو۔ اس نے کہا: میں نے ایسا کیا ہے، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اور زیادہ کر۔ اس نے کہا: میں نے کیا ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں تجھے یہ حکم نہیں دیتا کہ اسے کھالے، اگر تو چاہتا تو نہ پکڑتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ اللُّقَطَةِ/حدیث: 12063]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12064
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا قَبِيصَةُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ وَسُئِلَ عَنِ اللُّقَطَةِ قَالَ:" ادْفَعْهَا إِلَى الْأَمِيرِ".
حبیب بن ثابت کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، ان سے گری پڑی چیز کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اسے امیر کو دے دو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ اللُّقَطَةِ/حدیث: 12064]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح