🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

2555. -- باب: لا يرث القاتل
-- باب: قاتل وارث نہیں ہوتا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12246
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا يَحْيَى، ثنا يَزِيدُ، أنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلَاسٍ، أَنَّ رَجُلًا رَمَى بِحَجَرٍ فَأَصَابَ أُمَّهُ فَمَاتَتْ مِنْ ذَلِكَ، فَأَرَادَ نَصِيبَهُ مِنْ مِيرَاثِهَا، فَقَالَ لَهُ إِخْوَتُهُ: لَا حَقَّ لَكَ، فَارْتَفَعُوا إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ:" حَظُّكَ مِنْ مِيرَاثِهَا الْحَجَرُ، وَأَغْرَمَهُ الدِّيَةَ، وَلَمْ يُعْطِهِ مِنْ مِيرَاثِهَا شَيْئًا".
قتادہ، خلاس سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے پتھر پھینکا، وہ اس کی ماں کو لگا اور وہ مر گئی۔ پس اس نے ماں کی وراثت سے اپنا حصہ لینے کا ارادہ کیا، اس کے بھائی نے اسے کہا: تیرا کوئی حق نہیں ہے، پس وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسے کہا: تیرا حصہ میراث میں صرف پتھر تھا، اور اس پر دیت ڈال دی اور اس عورت کی وراثت سے کچھ نہ دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الفَرَائِضِ/حدیث: 12246]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12247
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا يَحْيَى، ثنا يَزِيدُ، أنا حَبِيبُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ:" أَيُّمَا رَجُلٍ قَتَلَ رَجُلًا أَوِ امْرَأَةً عَمْدًا أَوْ خَطَأً مِمَّنْ يَرِثُ، فَلَا مِيرَاثَ لَهُ مِنْهُمَا، وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ قَتَلَتْ رَجُلًا أَوِ امْرَأَةً عَمْدًا أَوْ خَطَأً فَلَا مِيرَاثَ لَهَا مِنْهُمَا، وَإِنْ كَانَ الْقَتْلُ عَمْدًا فَالْقَوَدُ إِلَّا أَنْ يَعْفُوا أَوْلِيَاءُ الْمَقْتُولِ، فَإِنْ عَفَوْا فَلَا مِيرَاثَ لَهُ مِنْ عَقْلِهِ، وَلَا مِنْ مَالِهِ، قَضَى بِذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَشُرَيْحٌ وَغَيْرُهُمْ مِنْ قُضَاةِ الْمُسْلِمِينَ".
حضرت جابر بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جو آدمی کسی مرد یا عورت کو عمداً قتل کرے یا غلطی سے، اس کے لیے ان کی وراثت میں سے کچھ نہیں ہے، اور جو عورت کسی مرد یا عورت کو عمداً یا غلطی سے قتل کرے، اس کے لیے ان کی وراثت میں سے کچھ نہیں ہے، اور اگر قتل عمداً ہو تو بدلہ ہے، مگر یہ کہ مقتول کے ورثاء معاف کر دیں۔ اگر وہ معاف کر دیں تو اس کی دیت اور مال سے اس کے لیے کوئی وراثت نہیں ہے۔ اسی طرح عمر بن خطاب اور علی رضی اللہ عنہما، شریح رحمہ اللہ اور دیگر مسلمان قاضیوں نے فیصلہ کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الفَرَائِضِ/حدیث: 12247]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12248
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ قَالَ: كَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ عَقِيمٌ لَا يُولَدُ لَهُ، وَكَانَ لَهُ مَالٌ كَثِيرٌ، وَكَانَ ابْنُ أَخِيهِ وَارِثَهُ، فَقَتَلَهُ ثُمَّ احْتَمَلَهُ لَيْلًا حَتَّى أَتَى بِهِ حَيًّا آخَرِينَ فَوَضَعَهُ عَلَى بَابِ رَجُلٍ مِنْهُمْ، ثُمَّ أَصْبَحَ يَدَّعِيهِ عَلَيْهِمْ، حَتَّى تَسَلَّحُوا وَرَكِبَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، فَقَالَ ذَوُو الرَّأْيِ وَالنَّهْيِ: عَلَى مَا يَقْتُلُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا وَهَذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيكُمْ، فَأَتَوْهُ، فَقَالَ:" {إِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَذْبَحُوا بَقَرَةً قَالُوا أَتَتَّخِذُنَا هُزُوًا قَالَ أَعُوذُ بِاللهِ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْجَاهِلِينَ} [البقرة: ٦٧] ، قَالَ: فَلَوْ لَمْ يَعْتَرِضُوا الْبَقَرَ لَأَجْزَأَتْ عَنْهُمْ أَدْنَى بَقَرَةٍ، وَلَكِنَّهُمْ شَدَّدُوا فَشُدِّدَ عَلَيْهِمْ حَتَّى انْتَهَوْا إِلَى الْبَقَرَةِ الَّتِي أُمِرُوا بِذَبْحِهَا، فَوَجَدُوهَا عِنْدَ رَجُلٍ لَيْسَ لَهُ بَقَرَةٌ غَيْرَهَا، فَقَالَ: وَاللهِ لَا أَنْقُصُهَا مِنْ مِلْءِ جِلْدِهَا ذَهَبًا، فَأَخَذُوهَا بِمِلْءِ جِلْدِهَا ذَهَبًا، فَذَبَحُوهَا فَضَرَبُوهُ بِبَعْضِهَا، فَقَامَ، فَقَالُوا: مَنْ قَتَلَكَ؟ قَالَ: هَذَا، لِابْنِ أَخِيهِ، ثُمَّ مَالَ مَيِّتًا، فَلَمْ يُعْطَ ابْنُ أَخِيهِ مِنْ مَالِهِ شَيْئًا، وَلَمْ يُوَرَّثْ قَاتِلٌ بَعْدَهُ".
عبیدہ سلمانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بنی اسرائیل میں ایک بانجھ آدمی تھا، اس کی کوئی اولاد نہ تھی اور اس کے پاس بہت زیادہ مال تھا اور اس کا ایک بھتیجا اس کا وارث تھا، اس نے اسے قتل کر دیا اور رات کو میت کو اٹھا کر دوسرے قبیلے کے ایک آدمی کے گھر کے دروازے پر رکھ گیا، پھر صبح کے وقت ان پر دعویٰ کر دیا، یہاں تک کہ انہوں نے لڑائی کے لیے اسلحہ نکال لیا اور ایک دوسرے کی طرف سوار ہو کر جانے لگے۔ ایک عقلمند نے کہا: کس وجہ سے تم ایک دوسرے کو قتل کرنے لگے ہو، تم میں اللہ کا پیغمبر موجود ہے، پس اس پیغمبر نے کہا: ﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَذْبَحُوا بَقَرَةً﴾ [سورة البقرة: 67] ”اللہ تم کو حکم دیتے ہیں کہ ایک گائے ذبح کرو۔“ انہوں نے کہا: ﴿أَتَتَّخِذُنَا هُزُوًا﴾ [سورة البقرة: 67] ”کیا تو ہم سے مذاق کرتا ہے؟“ اس نے کہا: ﴿أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْجَاهِلِينَ﴾ [سورة البقرة: 67] ”میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں کہ میں جاہلوں میں سے ہوں۔“ اگر وہ گائے پر اعتراض نہ کرتے تو ادنیٰ سی گائے بھی کافی تھی لیکن انہوں نے سختی اختیار کی، پس ان پر بھی سختی کر دی گئی، یہاں تک کہ وہ اس گائے کے پاس آئے جس کے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تھا، انہوں نے اسے ایسے آدمی کے پاس پایا کہ اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور گائے نہ تھی۔ اس نے کہا: میں اس کا چمڑا بھرے ہوئے میں سے کچھ کم نہ کروں گا، پس انہوں نے چمڑا بھر کر سونے کے بدلے گائے لی، اس کو ذبح کیا، انہوں نے اس گائے کا کچھ حصہ میت کو لگایا وہ کھڑی ہو گئی۔ انہوں نے پوچھا: تجھے کس نے قتل کیا ہے؟ اس نے کہا: میرے بھتیجے نے۔ پھر وہ مردہ ہو گیا۔ پس اس کے بھتیجے کو اس کے مال میں سے کچھ نہ دیا گیا اور نہ قاتل اس کے بعد اس کا وارث بنایا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الفَرَائِضِ/حدیث: 12248]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں