🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

2560. -- باب: حجب الإخوة والأخوات من كانوا بالأب والابن وابن الابن
-- باب: باپ، بیٹے اور پوتے کی وجہ سے ہر قسم کے بھائیوں اور بہنوں کے محروم ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12277
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: قَالَ عَمْرٌو: سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ مُحَمَّدٍ يُحَدِّثُ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الْكَلَالَةِ، فَقَالَ:" مَنْ لَا وَلَدَ لَهُ وَلَا وَالِدَ"، فَقُلْتُ لَهُ: قَالَ اللهُ {إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ} [النساء: ١٧٦] ، فَغَضِبَ وَانْتَهَرَنِي وَقَالَ:" مَنْ لَا وَلَدَ لَهُ وَلَا وَالِدَ".
حسن بن محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے «الْكَلَالَةُ» کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: جس کی نہ اولاد ہو اور نہ والدین۔ میں نے کہا: اللہ فرماتے ہیں: ﴿إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ﴾ [سورة النساء: 176] تو وہ غصے میں آ گئے اور مجھے ڈانٹا اور پھر کہا: جس کی نہ اولاد ہو اور نہ والدین۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الفَرَائِضِ/حدیث: 12277]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12278
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، قَالَا: ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ، عَنْ طَاوُسٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ:" كُنْتُ آخِرَ النَّاسِ عَهْدًا بِعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: الْقَوْلُ مَا قُلْتُ، قُلْتُ: مَا قُلْتَ؟ قَالَ: الْكَلَالَةُ مَنْ لَا وَلَدَ لَهُ" كَذَا فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ، وَالَّذِي رُوِّينَا عَنْ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ فِي تَفْسِيرِ الْكَلَالَةِ أَشْبَهُ بِدَلَائِلِ الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ مِنْ هَذِهِ الرِّوَايَةِ، وَأَوْلَى أَنْ يَكُونَ صَحِيحًا؛ لِانْفِرَادِ هَذِهِ الرِّوَايَةِ وَتَظَاهُرِ الرِّوَايَاتِ عَنْهُمَا بِخِلَافِهَا، وَاللهُ أَعْلَمُ.
طاؤس رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا وہ کہتے تھے: میں لوگوں میں سب سے آخر میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ملنے والا تھا، میں نے انہیں کہتے سنا: بات وہی ہے جو میں نے کہی۔ میں نے پوچھا: آپ نے کیا کہا تھا؟ انہوں نے فرمایا: کلالہ وہ ہے جس کی اولاد نہ ہو۔
اس روایت میں اسی طرح ہے، اور کلالہ کی تفسیر میں سیدنا عمر اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے جو ہم نے روایت کیا ہے وہ اس روایت کی نسبت کتاب و سنت کے دلائل سے زیادہ مشابہ ہے اور اس کے صحیح ہونے کا زیادہ حق دار ہے؛ کیونکہ یہ روایت منفرد ہے اور ان دونوں سے متعدد روایات اس کے خلاف ہیں، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الفَرَائِضِ/حدیث: 12278]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12279
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، سَمِعَ مُرَّةَ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" ثَلَاثٌ لَأَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيَّنَهُنَّ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ: الْخِلَافَةُ، وَالْكَلَالَةُ، وَالرِّبَا" فَقُلْتُ لِمُرَّةَ: وَمَنْ يَشُكُّ فِي الْكَلَالَةِ مَا هُوَ دُونَ الْوَلَدِ وَالْوَالِدِ؟ قَالَ: إِنَّهُمْ يَشُكُّونَ فِي الْوَالِدِ.
مرہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: تین چیزیں ایسی ہیں کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں واضح کر دیا ہوتا تو یہ مجھے سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ محبوب ہوتا: خلافت، کلالہ اور ربا۔ میں نے مرہ سے کہا: کون کلالہ کے بارے میں شک کرتا ہے کہ وہ اولاد اور والد کے علاوہ ہے؟ مرہ نے جواب دیا: وہ والد کے بارے میں شک کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الفَرَائِضِ/حدیث: 12279]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12280
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ ⦗٣٧٠⦘ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ مَعَانِيَ هَذِهِ الْفَرَائِضِ وَأُصُولَهَا عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَأَمَّا التَّفْسِيرُ فَتَفْسِيرُ أَبِي الزِّنَادِ عَلَى مَعَانِي زَيْدٍ، قَالَ:" وَمِيرَاثُ الْإِخْوَةِ لِلْأُمِّ أَنَّهُمْ لَا يَرِثُونَ مَعَ الْوَلَدِ وَلَا مَعَ وَلَدِ الِابْنِ ذَكَرًا كَانَ أَوْ أُنْثَى شَيْئًا، وَلَا مَعَ الْأَبِ وَلَا مَعَ الْجَدِّ أَبِي الْأَبِ شَيْئًا، قَالَ: وَمِيرَاثُ الْإِخْوَةِ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ أَنَّهُمْ لَا يَرِثُونَ مَعَ الْوَلَدِ الذَّكَرِ، وَلَا مَعَ وَلَدِ الِابْنِ الذَّكَرِ، وَلَا مَعَ الْأَبِ شَيْئًا"، قَالَ:" وَمِيرَاثُ الْإِخْوَةِ لِلْأَبِ إِذَا لَمْ يَكُنْ مَعَهُمْ أَحَدٌ مِنْ بَنِي الْأُمِّ وَالْأَبِ كَمِيرَاثِ الْإِخْوَةِ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ سَوَاءٌ، فَإِذَا اجْتَمَعَ الْإِخْوَةُ مِنَ الْأَبِ وَالْأُمِّ وَالْإِخْوَةُ مِنَ الْأَبِ فَكَانَ فِي بَنِي الْأُمِّ وَالْأَبِ ذَكَرٌ فَلَا مِيرَاثَ مَعَهُ لِأَحَدٍ مِنَ الْإِخْوَةِ لِلْأَبِ".
حضرت خارجہ بن زید رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ان فرائض کے مفاہیم اور اصول زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے ہیں اور ان مفاہیم کی تفسیر ابوالزناد رحمہ اللہ سے ہے۔ فرماتے ہیں: وہ اخیافی بھائیوں کو اولاد، پوتے، باپ اور دادا کے ساتھ وارث نہ بناتے تھے (اولاد، پوتے چاہے مذکر ہوں یا مؤنث) اور حقیقی بھائیوں کو مذکر اولاد، پوتے اور باپ کے ساتھ وارث نہ ٹھہراتے تھے اور علاتی بھائیوں کو، جب ان کے ساتھ حقیقی بہن بھائیوں میں سے کوئی نہ ہو، حقیقی بھائیوں کی وراثت کے برابر ٹھہراتے تھے، جب حقیقی بھائی اور علاتی بھائی جمع ہو جائیں اور حقیقی بہن بھائیوں میں کوئی مذکر موجود ہو تو اس کے ساتھ علاتی بھائیوں کے لیے کوئی وراثت نہ ہوگی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الفَرَائِضِ/حدیث: 12280]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں