🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

2571. -- باب: فرض الأخت والأختين فصاعدا لأب وأم أو لأب
-- باب: سگی یا باپ شریک ایک، دو یا دو سے زائد بہنوں کے مقررہ حصے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q12325
قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ إنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ ⦗380⦘ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ وَهُوَ يَرِثُهَا إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهَا وَلَدٌ فَإِنْ كَانَتَا اثْنَتَيْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثَانِ مِمَّا تَرَكَ} [النساء: 176] .
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ إنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ وَهُوَ يَرِثُهَا إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهَا وَلَدٌ فَإِنْ كَانَتَا اثْنَتَيْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثَانِ مِمَّا تَرَكَ﴾ ”لوگ آپ سے فتویٰ پوچھتے ہیں، کہہ دیجیے کہ اللہ تمہیں کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے: اگر کوئی ایسا شخص فوت ہو جائے جس کی اولاد نہ ہو اور اس کی ایک بہن ہو تو اس کے لیے اس (ترکے) کا آدھا ہے جو اس نے چھوڑا، اور وہ (بھائی) اس (بہن) کا وارث ہو گا اگر اس کی اولاد نہ ہو، پھر اگر وہ دو (بہنیں) ہوں تو ان کے لیے اس کا دو تہائی ہے جو اس نے چھوڑا۔“ [سورة النساء: 176] [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الفَرَائِضِ/حدیث: Q12325]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12325
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، ح وَأنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللهِ صَاحِبِ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: اشْتَكَيْتُ وَعِنْدِي سَبْعُ أَخَوَاتٍ لِي، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَضَحَ فِي وَجْهِي، فَأَفَقْتُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أُوصِي لِأَخَوَاتِي بِالثُّلُثَيْنِ؟ فَقَالَ:" أَحْسِنْ"، فَقُلْتُ: بِالشَّطْرِ؟ قَالَ:" أَحْسِنْ"، ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ:" يَا جَابِرُ، مَا أُرَاكَ إِلَّا مَيِّتًا"، أَوْ قَالَ:" مَا أُرَاكَ مَيِّتًا مِنْ هَذَا الْوَجَعِ، وَقَدْ أَنْزَلَ اللهُ فِي أَخَوَاتِكَ فَبَيَّنَ، فَجَعَلَ لَهُنَّ الثُّلُثَيْنِ"، فَكَانَ جَابِرٌ يَقُولُ: نَزَلَتْ هَؤُلَاءِ الْآيَاتُ فِيَّ {يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ} [النساء: ١٧٦] إِلَى آخِرِهَا لَفْظُ حَدِيثِ وَهْبِ بْنِ جَرِيرٍ، وَحَدِيثُ الطَّيَالِسِيِّ مُخْتَصَرٌ، وَرَوَاهُ كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ عَنْ هِشَامٍ نَحْوَ رِوَايَةِ وَهْبٍ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَقَالَ:" يَا جَابِرُ، لَا أُرَاكَ مَيِّتًا مِنْ وَجَعِكَ هَذَا".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں بیمار ہوا اور میری سات بہنیں تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے۔ میرے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے۔ مجھے افاقہ ہوا تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اپنی بہنوں کے ثلثان کی وصیت کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رک جاؤ“، میں نے کہا: نصف کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”رک جاؤ“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلے گئے، پھر واپس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے جابر! میں تو تجھے مرنے والا ہی خیال کرتا ہوں“ یا یہ کہا: ”میں اس بیماری کی وجہ سے تجھے مردہ خیال نہیں کرتا اور تحقیق اللہ تعالیٰ نے تیری بہنوں کے بارے میں نازل کیا ہے، اسے واضح کیا اور ان کے لیے دو تہائی مقرر کیا ہے“، سیدنا جابر رضی اللہ عنہما فرماتے تھے: یہ آیتیں میرے بارے میں اتری ہیں ﴿يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ﴾ [سورة النساء: 176] ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الفَرَائِضِ/حدیث: 12325]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ احمد15062»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں