السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2576. -- باب: من لم يورث أكثر من جدتين
-- باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے دو سے زائد دادیوں کو وارث نہیں بنایا
حدیث نمبر: 12345
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ" كَانَ لَا يَفْرِضُ إِلَّا لِلْجَدَّتَيْنِ".
ابوبکر بن عبد الرحمن بن حارث رحمہ اللہ فرض حصہ صرف دو (دادیوں یا نانیوں) کے لیے مقرر کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الفَرَائِضِ/حدیث: 12345]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مالك 1100»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12346
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنبأ ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ:" لَا نَعْلَمُهُ وَرَّثَ فِي الْإِسْلَامِ إِلَّا جَدَّتَيْنِ" وَهَذَا قَوْلُ رَبِيعَةَ أَيْضًا، وَرُوِيَ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّهُ قَالَ لِابْنِ مَسْعُودٍ: أَنْتُمُ الَّذِينَ تَفْرِضُونَ لِثَلَاثِ جَدَّاتٍ، كَأَنَّهُ يُنْكِرُ ذَلِكَ. وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى: وَرَّثَ حَوَّاءَ مِنْ بَنِيهَا، وَإِسْنَادُهُ لَيْسَ بِذَاكَ.
زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم نہیں جانتے کہ اسلام میں وارث بنایا گیا ہو مگر صرف دو جدہ کو۔ اور یہی ربیعہ رحمہ اللہ کا قول بھی ہے۔ سعد رضی اللہ عنہ نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ لوگ تین جدہ کو وارث ٹھہراتے ہو؟ گویا کہ سعد رضی اللہ عنہ اس کے منکر تھے۔ ایک روایت کے الفاظ ہیں: ”انہوں نے حواء کو اس کے بیٹوں سے وارث بنایا۔“
اس کی سند قوی نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الفَرَائِضِ/حدیث: 12346]
اس کی سند قوی نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الفَرَائِضِ/حدیث: 12346]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12347
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَ: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ: جَاءَتِ الْأَخْبَارُ عَنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَمَاعَةٍ مِنَ التَّابِعِينَ أَنَّهُمْ" وَرَّثُوا ثَلَاثَ جَدَّاتٍ مَعَ الْحَدِيثِ الْمُنْقَطِعِ الَّذِي يُرْوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ وَرَّثَ ثَلَاثَ جَدَّاتٍ" وَلَا نَعْلَمُ عَنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خِلَافَ ذَلِكَ، إِلَّا مَا رُوِّينَا عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ مِمَّا لَا يُثْبِتُ أَهْلُ الْمَعْرِفَةِ بِالْحَدِيثِ إِسْنَادَهُ.
محمد بن نصر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ کی ایک جماعت سے یہ خبریں آئی ہیں کہ وہ تین جدات کو وارث بناتے تھے، اس منقطع حدیث کے ساتھ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کی جاتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین جدات کو وارث بنایا۔ اور ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کسی سے اس کے خلاف نہیں جانتے، سوائے اس کے جو ہم نے سعد رضی اللہ عنہ سے بیان کیا، جس کی اسناد اہل معرفت کے نزدیک ثابت نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الفَرَائِضِ/حدیث: 12347]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح