السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2590. -- باب: كيفية المقاسمة بين الجد والإخوة والأخوات
-- باب: دادا اور بھائیوں بہنوں کے درمیان تقسیم کی کیفیت کے بیان میں
حدیث نمبر: 12442
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ، أنا إِبْرَاهِيمُ، أنا إِسْمَاعِيلُ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللهِ" يُشْرِكُ الْجَدَّ مَعَ الْإِخْوَةِ إِلَى الثُّلُثِ، فَإِنْ كَانَ الثُّلُثُ خَيْرًا لَهُ مِنَ الْمُقَاسَمَةِ أَعْطَاهُ الثُّلُثَ، وَيُعْطِي كُلَّ صَاحِبِ فَرِيضَةٍ فَرِيضَتَهُ، وَلَا يُوَرِّثُ أَخًا لِأُمٍّ وَلَا أُخْتًا لِأُمٍّ مَعَ الْجَدِّ، وَلَا يُقَاسِمُ بِأَخٍ لِأَبٍ أَخًا لِأَبٍ وَأُمٍّ، وَلَا يُوَرِّثُ ابْنَ الْأَخِ مَعَ الْجَدِّ، وَإِذَا كَانَتْ أُخْتٌ لِأَبٍ وَأُمٍّ وَأَخٌ لِأَبٍ وَجَدٍّ أَعْطَى الْأُخْتَ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ النِّصْفَ، وَأَعْطَى الْجَدَّ النِّصْفَ، وَلَا يُعْطِي الْأَخَ شَيْئًا، وَإِذَا كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ وَأَخَوَاتٌ وَجَدٌّ وَمَنْ لَهُ مَعَهُمْ فَرِيضَةٌ أَعْطَى كُلَّ صَاحِبِ فَرِيضَةٍ فَرِيضَتَهُ، فَإِنْ كَانَ ثُلُثُ مَا يَبْقَى خَيْرًا لَهُ مِنَ الْمُقَاسَمَةِ أَعْطَاهُ ثُلُثَ مَا بَقِيَ، وَإِنْ كَانَتِ الْمُقَاسَمَةُ خَيْرًا لَهُ قَاسَمَ، وَإِنْ كَانَ سُدُسُ جَمِيعِ الْمَالِ خَيْرًا لَهُ مِنَ الْمُقَاسَمَةِ أَعْطَاهُ السُّدُسَ، وَإِنْ كَانَتِ الْمُقَاسَمَةُ خَيْرًا لَهُ مِنْ سُدُسِ جَمِيعِ الْمَالِ قَاسَمَ".
ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ دادے کو بھائیوں کے ساتھ «الثُّلُثُ» ”تہائی“ تک شریک کرتے تھے۔ اگر اس کے لیے «الثُّلُثُ» ”تہائی“ بہتر ہوتا تو اس کو «الثُّلُثُ» ”تہائی“ دے دیتے اور ہر حصہ دار کو اس کا حصہ دے دیتے تھے اور اخیافی بھائی بہن کو دادے کے ساتھ وارث نہ بناتے تھے اور نہ علاتی بھائی کے لیے حقیقی بھائی کے ساتھ تقسیم کرتے تھے اور نہ ہی بھتیجے کو دادے کے ساتھ وارث بناتے تھے اور جب حقیقی بہن، علاتی بھائی اور دادا ہوتا تو حقیقی بہن کو نصف اور دادے کو نصف دیتے اور بھائی کو کچھ نہ دیتے تھے اور جب بھائی، بہن اور دادا ہوتے تو ہر حصہ دار کو اس کا حصہ دیتے اور اگر باقی ماندہ «الثُّلُثُ» ”تہائی“ ہوتا اور اس کے لیے تقسیم سے بہتر ہوتا تو اس کو باقی ماندہ کا «الثُّلُثُ» ”تہائی“ دے دیتے تھے اور اگر اس کے لیے تقسیم بہتر ہوتی تو تقسیم کر دیتے تھے۔ اگر مکمل مال سے «السُّدُسُ» ”چھٹا حصہ“ تقسیم سے بہتر ہوتا تو اس کو «السُّدُسُ» ”چھٹا حصہ“ دیتے تھے۔ اگر اس کے لیے «السُّدُسُ» ”چھٹا حصہ“ سے تقسیم بہتر ہوتی تو تقسیم کر دیتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الفَرَائِضِ/حدیث: 12442]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12443
وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنا جَرِيرٌ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَصْحَابِ إِبْرَاهِيمَ وَالشَّعْبِيِّ، وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ وَالشَّعْبِيِّ، فِي ابْنَةٍ وَأُخْتٍ وَجَدٍّ فِي قَوْلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" لِلِابْنَةِ النِّصْفُ، وَلِلْجَدِّ السُّدُسُ، وَلِلْأُخْتِ مَا بَقِيَ، وَكَذَا قَالَ فِي ابْنَةٍ وَأُخْتَيْنِ وَجَدٍّ، وَفِي ابْنَةٍ وَأَخَوَاتٍ وَجَدٍّ".
ابراہیم اور شعبی رحمہما اللہ سے منقول ہے کہ بیٹی، بہن اور دادے کے بارے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق بیٹی کے لیے نصف، دادے کے لیے سدس اور بہن کے لیے باقی ماندہ ہے، اور اسی طرح بیٹی، دو بہنوں اور دادے کے بارے میں اور بیٹی، زیادہ بہنوں اور دادے کے بارے میں کہا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الفَرَائِضِ/حدیث: 12443]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12444
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، فِي ابْنَةٍ وَأُخْتٍ وَجَدٍّ، قَالَ:" مِنْ أَرْبَعَةٍ؛ لِلِابْنَةِ النِّصْفُ سَهْمَانِ، وَلِلْجَدِّ سَهْمٌ، وَلِلْأُخْتِ سَهْمٌ، وَإِنْ كَانَتَا أُخْتَيْنِ فَمِنْ ثَمَانِيَةٍ؛ لِلِابْنَةِ النِّصْفُ أَرْبَعَةٌ، وَلِلْجَدِّ سَهْمَانِ، وَلِلْأُخْتَيْنِ سَهْمٌ سَهْمٌ، فَإِنْ كَانَتْ ثَلَاثُ أَخَوَاتٍ فَمِنْ عَشَرَةٍ؛ لِلِابْنَةِ النِّصْفُ خَمْسَةٌ، وَلِلْجَدِّ سَهْمَانِ، وَهُوَ خُمُسُ مَا بَقِيَ، وَلِلْأَخَوَاتِ سَهْمٌ سَهْمٌ".
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیٹی، بہن اور دادا کے بارے میں کہا: چار حصے ہوں گے، یعنی نصف یعنی دو حصے بیٹی کے لیے، دادا کے لیے ایک حصہ اور بہن کے لیے بھی ایک حصہ۔ اگر دو بہنیں ہوں تو آٹھ حصوں سے: بیٹی کے لیے نصف، یعنی چار حصے اور دادا کے لیے دو حصے اور دو بہنوں کے لیے ایک ایک حصہ ہوگا۔ اگر تین بہنیں ہوں تو دس حصوں سے: بیٹی کے لیے نصف، یعنی پانچ، دادا کے لیے دو حصے اور باقی تین حصے تینوں بہنوں کے لیے ایک ایک۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الفَرَائِضِ/حدیث: 12444]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12445
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقَطَّانُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ" كَانَ يُشْرِكُ الْجَدَّ إِلَى الثُّلُثِ مَعَ الْإِخْوَةِ وَالْأَخَوَاتِ، فَإِذَا بَلَغَ الثُّلُثَ أَعْطَاهُ الثُّلُثَ، وَكَانَ لِلْإِخْوَةِ وَالْأَخَوَاتِ مَا بَقِيَ، وَلَا يُوَرِّثُ أَخًا لِأُمٍّ وَلَا أُخْتًا لِأُمٍّ مَعَ الْجَدِّ شَيْئًا، وَلَا ⦗٤١٠⦘ يُقَاسِمُ بِهِمْ، وَكَانَ يُقَاسِمُ لِلْإِخْوَةِ مِنَ الْأَبِ مَعَ الْإِخْوَةِ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ وَلَا يُوَرِّثُهُمْ شَيْئًا، وَإِذَا كَانَ أَخًا لِأَبٍ وَأُمٍّ وَجَدٌّ أَعْطَاهُ النِّصْفَ، وَأَعْطَى الْجَدَّ النِّصْفَ، وَإِذَا كَانَا أَخَوَيْنِ وَجَدٌّ أَعْطَاهُ الثُّلُثَ، وَإِنْ زَادُوا أَعْطَاهُ الثُّلُثَ، وَمَا بَقِيَ كَانَ لِلْإِخْوَةِ، وَإِذَا كَانَتْ أُخْتٌ وَجَدٌّ أَعْطَاهَا الثُّلُثَ، وَأَعْطَى الْجَدَّ الثُّلُثَيْنِ، وَإِذَا كَانَتْ أُخْتَانِ وَجَدٌّ أَعْطَاهُمَا النِّصْفَ، وَأَعْطَى الْجَدَّ النِّصْفَ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَنْ يَبْلُغْنَ خُمُسًا، فَإِذَا بَلَغْنَ خُمُسًا أَعْطَاهُ الثُّلُثَ، وَمَا بَقِيَ فَلِلْأَخَوَاتِ، فَإِنْ لَحِقَتْ فَرَائِضُ امْرَأَةٍ أَوْ زَوْجٍ أَوْ أُمٍّ أَعْطَى أَهْلَ الْفَرَائِضِ فَرَائِضَهُمْ، وَمَا بَقِيَ قَاسَمَ الْإِخْوَةَ وَالْأَخَوَاتِ، فَإِنْ كَانَ ثُلُثُ مَا بَقِيَ خَيْرًا لَهُ مِنَ الْمُقَاسَمَةِ أَعْطَاهُ ثُلُثَ مَا بَقِيَ، وَإِنْ كَانَتِ الْمُقَاسَمَةُ خَيْرًا لَهُ مِنْ ثُلُثِ مَا بَقِيَ قَاسَمَ، وَإِنْ كَانَ سُدُسُ جَمِيعِ الْمَالِ خَيْرًا لَهُ مِنَ الْمُقَاسَمَةِ أَعْطَاهُ السُّدُسَ، وَإِنْ كَانَ الْمُقَاسَمَةُ خَيْرًا لَهُ مِنْ سُدُسِ جَمِيعِ الْمَالِ قَاسَمَ. وَفِي الْأَكْدَرِيَّةِ إِذَا كَانَ زَوْجٌ وَأُمٌّ وَأُخْتٌ وَجَدٌّ جَعَلَهَا مِنْ تِسْعَةٍ ثُمَّ ضَرَبَهَا فِي ثَلَاثَةٍ فَكَانَ مِنْ سَبْعَةٍ وَعِشْرِينَ، فَأَعْطَى الزَّوْجَ تِسْعَةَ أَسْهُمٍ، وَأَعْطَى الْأُمَّ سِتَّةَ أَسْهُمٍ، وَأَعْطَى الْجَدَّ ثَمَانِيَةَ أَسْهُمٍ، وَأَعْطَى الْأُخْتَ أَرْبَعَةَ أَسْهُمٍ".
ابراہیم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ دادا کو بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ ثلث تک شریک کرتے تھے، جب (حصہ) ثلث تک پہنچ جاتا تو اس کو ثلث دیتے تھے اور باقی ماندہ بھائیوں اور بہنوں کے لیے (ہوتا) تھا، اور وہ اخیافی بھائی اور بہن کو دادا کے ساتھ وارث نہیں بناتے تھے اور نہ ان کو تقسیم میں شمار کرتے تھے، اور علاتی بھائیوں کو حقیقی بھائیوں کے ساتھ (شمار کر کے) تقسیم کرتے تھے اور انہیں کسی چیز کا وارث نہیں بناتے تھے، اور جب حقیقی بھائی اور دادا ہوتے تو دونوں کو نصف نصف دے دیتے تھے، اور جب دو بھائی اور دادا ہوتے تو ان کو ثلث دیتے تھے، اور جب وہ (بھائی) زیادہ ہوتے تو دادا کو ثلث اور باقی ماندہ بھائیوں کو دے دیتے تھے، اور جب بہن اور دادا ہوتے تو بہن کو ثلث اور دادا کو دو ثلث دیتے تھے، اور جب دو بہنیں اور دادا ہوتے تو دونوں بہنوں کو نصف اور دادا کو بھی نصف دیتے تھے، یہاں تک کہ پانچ بہنیں ہوں تب بھی ایسا ہی تھا، جب (بہنیں) پانچ ہو جاتیں تو دادا کو ثلث اور باقی بہنوں کو دے دیتے تھے۔ پس اگر (ان حصوں کے ساتھ) عورت، خاوند اور ماں کے حصے مل جاتے تو ہر صاحبِ فرائض کو اس کا حصہ دیتے اور باقی ماندہ بھائیوں اور بہنوں میں تقسیم کر دیتے تھے۔ اگر (باقی کا) ثلث اس (دادا) کے لیے تقسیم سے بہتر ہوتا تو اس کو ثلث دے دیتے تھے، اگر ثلث سے تقسیم اس کے لیے بہتر ہوتی تو تقسیم کر دیتے تھے، اور اگر سارے مال کا سدس اس کے لیے تقسیم سے بہتر ہوتا تو سدس اسے دے دیتے تھے، اور اگر سدس سے تقسیم بہتر ہوتی تو تقسیم کر دیتے تھے، اور «الأَكْدَرِيَّةُ» میں جبکہ خاوند، ماں، بہن اور دادا ہوتے تو اس (مسئلے) کو نو حصوں میں کرتے، پھر نو کو تین سے ملاتے تھے تو یہ ستائیس ہو گئے، پھر خاوند کو نو حصے دیتے، ماں کو چھ حصے دیتے، دادا کو آٹھ حصے دیتے اور بہن کو چار حصے دیتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الفَرَائِضِ/حدیث: 12445]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12446
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، ح وَأنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ، أنا إِسْمَاعِيلُ الْخَلَّالِيُّ، وَأنا أَبُو يَعْلَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ مَعَانِيَ هَذِهِ الْفَرَائِضِ وَأُصُولَهَا عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَأَمَّا التَّفْسِيرُ فَتَفْسِيرُ أَبِي الزِّنَادِ عَلَى مَعَانِي زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ:" وَمِيرَاثُ الْجَدِّ أَبِي الْأَبِ مَعَ الْإِخْوَةِ مِنَ الْأَبِ وَالْأُمِّ أَنَّهُم يُخَلَّفُونَ وَيُبْدَأُ بِأَحَدٍ إِنْ شَرَكَهُمْ مِنْ أَهْلِ الْفَرَائِضِ فَيُعْطَى فَرِيضَتَهُ، فَمَا بَقِيَ لِلْجَدِّ وَالْإِخْوَةِ مِنْ شَيْءٍ فَإِنَّهُ يَنْظُرُ فِي ذَلِكَ وَيَحْسِبُ أَنَّهُ أَفْضَلُ لِحَظِّ الْجَدِّ الثُّلُثُ مِمَّا يَحْصُلُ لَهُ وَلِلْإِخْوَةِ، أَمْ يَكُونُ أَخًا وَيُقَاسِمُ الْإِخْوَةَ فِيمَا حَصَلَ لَهُمْ وَلَهُ {لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ} [النساء: ١١] ، أَوِ السُّدُسُ مِنْ رَأْسِ الْمَالِ كُلِّهِ فَارِغًا؟ فَأِيُّ ذَلِكَ مَا كَانَ أَفْضَلَ لِحَظِّ الْجَدِّ أُعْطِيَهُ، وَكَانَ مَا بَقِيَ بَعْدَ ذَلِكَ بَيْنَ الْإِخْوَةِ لِلْأُمِّ وَالْأَبِ {لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ} [النساء: ١١] ، إِلَّا فِي فَرِيضَةٍ وَاحِدَةٍ تَكُونُ قَسْمُتهُمْ فِيهَا عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ، وَهِيَ امْرَأَةٌ تُوِفِّيَتْ وَتَرَكَتْ زَوْجَهَا وَأُمَّهَا وَجَدَّهَا وَأُخْتَهَا لِأَبِيهَا، فَيُفْرَضُ لِلزَّوْجِ النِّصْفُ، وَلِلْأُمِّ الثُّلُثُ، وَلِلْجَدِّ السُّدُسُ، وَلِلْأُخْتِ النِّصْفُ، ثُمَّ يُجْمَعُ سُدُسُ الْجَدِّ وَنِصْفُ الْأُخْتِ فَيُقَسَّمُ أَثْلَاثًا، لِلْجَدِّ مِنْهُ الثُّلُثَانِ، وَلِلْأُخْتِ الثُّلُثُ، وَمِيرَاثُ الْإِخْوَةِ مِنَ الْأَبِ مَعَ الْجَدِّ إِذَا لَمْ يَكُنْ مَعَهُمْ إِخْوَةٌ لِأُمٍّ وأب كَمِيرَاثِ الْإِخْوَةِ مِنَ الْأُمِّ وَالْأَبِ سَوَاءً، ذَكَرُهُمْ كَذَكَرِهِمْ، وَأُنْثَاهُمْ كَأُنْثَاهُمْ، فَإِذَا اجْتَمَعَ الْإِخِوَةُ مِنَ الْأُمِّ وَالْأَبِ وَالْإِخْوَةُ مِنَ الْأَبِ، فَإِنَّ بَنِي الْأُمِّ وَالْأَبِ يُعَادُّونَ الْجَدَّ بِبَنِي أَبِيهِمْ، فَيَمْنَعُونَهُ بِهِمْ كَثْرَةَ الْمِيرَاثِ، فَمَا حَصَّلَ للْإِخْوَةُ بَعْدَ حَظِّ ⦗٤١١⦘ الْجَدِّ مِنْ شَيْءٍ فَإِنَّهُ يَكُونُ لِبَنِي الْأُمِّ وَالْأَبِ خَاصَّةً دُونَ بَنِي الْأَبِ، وَلَا يَكُونُ لِبَنِي الْأَبِ مِنْهُ شَيْءٌ إِلَّا أَنْ يَكُونَ بَنُو الْأُمِّ وَالْأَبِ إِنَّمَا هِيَ امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ، فَإِنْ كَانَتِ امْرَأَةً وَاحِدَةً فَإِنَّهَا تُعَادُّ الْجَدَّ بِبَنِي أَبِيهَا مَا كَانُوا، فَمَا حَصَلَ لَهَا وَلَهُمْ مِنْ شَيْءٍ كَانَ لَهَا دُونَهُمْ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ أَنْ تَسْتَكْمِلَ نِصْفَ الْمَالِ كُلَّهُ، فَإِنْ كَانَ فِيمَا يُحَازُ لَهَا وَلَهُمْ فَضْلٌ عَنْ نِصْفِ الْمَالِ كُلِّهِ فَإِنَّ ذَلِكَ الْفَضْلُ يَكُونُ بَيْنَ بَنِي الْأَبِ {لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ} [النساء: ١١] ، فَإِنْ لَمْ يَفْضُلْ شَيْءٌ فَلَا شَيْءَ لَهُمْ".
خارجہ بن زید رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ دادا کی وراثت حقیقی بھائیوں کے ساتھ اس طرح ہے کہ ان کو پیچھے چھوڑا جائے گا اور پہلے اہل فرائض کو ان کے حصے دیے جائیں گے، باقی ماندہ دادا اور بھائیوں کے لیے ہے۔ اس میں غور کیا جائے گا اور حساب لگایا جائے گا تو دادے کے لیے افضل حصہ ثلث ہے جو اسے ملتا ہے اور بھائیوں یا ایک بھائی کے ساتھ تقسیم میں جو اسے حاصل ہو ﴿لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ﴾ [سورة النساء: 11] کے تحت، یا سارے مال کا سدس۔ پس ان میں سے جو بھی افضل ہو دادے کو دیا جائے گا۔ اس کے بعد جو بچے گا وہ حقیقی بھائیوں میں ﴿لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ﴾ [سورة النساء: 11] کے تحت تقسیم ہوگا، مگر یہ کہ کوئی ایسا حصہ ہو جس میں ان کی تقسیم اس کے علاوہ ہو، مثلاً عورت فوت ہو جائے اور خاوند، ماں، دادا اور علاتی بہن چھوڑے تو شوہر کے لیے نصف، ماں کے لیے ثلث، دادے کے لیے سدس، بہن کے لیے نصف، پھر جمع کیا جائے گا دادا کے سدس اور بہن کے نصف کو، پس اسے تین میں تقسیم کیا جائے گا، اس کے لیے دو تہائی اور بہن کے لیے ثلث ہوگا اور علاتی بھائیوں کی وراثت حقیقی بھائیوں کی طرح ہے، مذکر و مؤنث میں برابر ہوں گے۔ جب حقیقی اور علاتی بھائی جمع ہو جائیں تو حقیقی اولاد دادا کے مقابلے میں علاتی اولاد کو بھی شمار کرے گی اور ان کے ذریعے اسے زیادہ میراث لینے سے روک دیں گے۔ دادا کے حصے کے بعد جو بھائیوں کو ملے گا وہ خاص طور پر حقیقی اولاد کا ہو جائے گا، علاتی کے علاوہ اور علاتی اولاد کے لیے اس میں سے کچھ نہ ہوگا مگر یہ کہ حقیقی اولاد صرف ایک عورت ہو تو وہ دادا کے مقابلے میں علاتی اولاد کو، جتنے بھی ہوں، شمار کرے گی، پھر اس عورت اور ان کو جو کچھ ملے گا وہ اسی کا ہوگا، ان کا نہیں، یہاں تک کہ وہ پورے مال کا نصف مکمل کر لے، اور اگر اس کے اور ان کے لیے حاصل ہونے والے مال میں پورے مال کے نصف سے کچھ زائد ہو تو وہ زائد علاتی اولاد میں ﴿لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ﴾ [سورة النساء: 11] کے تحت تقسیم ہوگا۔ اگر زائد نہ بچے تو ان کے لیے کچھ نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الفَرَائِضِ/حدیث: 12446]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف