🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

2627. -- باب: الوصية للكفار
-- باب: کافروں کے لیے وصیت کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12650
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ح وَأنا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، قَالَا: ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ صَفِيَّةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ لِأَخٍ لَهَا يَهُودِيٍّ:" أَسْلِمْ تَرِثْنِي"، فَسَمِعَ بِذَلِكَ قَوْمُهُ فَقَالُوا: أَتَبِيعُ دِينَكَ بِالدُّنْيَا، فَأَبَى أَنْ يُسْلِمَ، فَأَوْصَتْ لَهُ بِالثُّلُثِ.
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی صفیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ انہوں نے اپنے ایک یہودی بھائی سے کہا: تم مسلمان ہو جاؤ، میرا وارث بن جانا۔ اس کی قوم نے یہ سنا تو انہوں نے کہا: تو اپنا دین دنیا کے بدلے بیچ دے گا، پس اس نے اسلام لانے سے انکار کردیا، صفیہ رضی اللہ عنہا نے اس کے لیے «ثُلُث» کی وصیت کردی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَصَايَا/حدیث: 12650]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12651
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ أُمَّ عَلْقَمَةَ مَوْلَاةَ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَتْهُ، أَنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيِيِّ بْنِ أَخْطَبَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَوْصَتْ لِابْنِ أَخٍ لَهَا يَهُودِيٍّ، وَأَوْصَتْ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا بِأَلْفِ دِينَارٍ، وَجَعَلَتْ وَصِيَّتَهَا إِلَى ابْنٍ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ، فَلَمَّا سَمِعَ ابْنُ أَخِيهَا أَسْلَمَ لِكَيْ يَرِثَهَا، فَلَمْ يَرِثْهَا، ⦗٤٦٠⦘ وَالْتَمَسَ مَا أَوْصَتْ لَهُ فَوَجَدَ ابْنَ عَبْدِ اللهِ قَدْ أَفْسَدَهُ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْها:" بُؤْسًا لَهُ، أَعْطُوهُ الْأَلْفَ الدِّينَارِ الَّتِي أَوْصَتْ لِي بِهَا عَمَّتُهُ" وَرُوِّينَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ صَفِيَّةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ عَنْهَا أَوْصَتْ لِنَسِيبٍ لَهَا يَهُودِيٍّ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی لونڈی ام علقمہ فرماتی ہیں کہ سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا نے اپنے یہودی بھتیجے کے لیے وصیت کی اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے ایک ہزار دینار کی وصیت کی اور اپنی وصیت (کی تنفیذ) عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کے ایک بیٹے کے سپرد کی، جب صفیہ کے بھتیجے نے سنا تو وہ وارث بننے کے لیے مسلمان ہو گیا۔ پس وہ وارث نہ بنا۔ اس نے وہ چیز تلاش کی جس کی صفیہ نے اس کے لیے وصیت کی تھی تو دیکھا کہ عبداللہ کے بیٹے نے اسے ضائع کر دیا ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اس کے لیے تنگ دستی ہے، اسے وہ ہزار دینار دے دو جو میرے لیے صفیہ نے وصیت کی تھی۔
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے اپنے ایک یہودی رشتہ دار کے لیے وصیت کی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَصَايَا/حدیث: 12651]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں