السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2641. -- باب: ما جاء في كتاب الوصية
-- باب: وصیت نامہ تحریر کرنے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 12683
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو ⦗٤٦٩⦘ مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ زُنْبُورٍ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ:" كَانُوا يَكْتُبُونَ فِي صُدُورِ وَصَايَاهُمْ: هَذَا مَا أَوْصَى بِهِ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ، أَوْصَى أَنَّهُ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَأَنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ لَا رَيْبَ فِيهَا، وَأَنَّ اللهَ يَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ، وَأَوْصَى مَنْ تَرَكَ بَعْدَهُ مِنْ أَهْلِهِ أَنْ يَتَّقُوا اللهَ حَقَّ تُقَاتِهِ، وَأَنْ يُصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِهِمْ، وَيُطِيعُوا اللهَ وَرَسُولَهُ إِنْ كَانُوا مُؤْمِنِينَ، وَأَوْصَاهُمْ بِمَا وَصَّى بِهِ إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ: {يَا بَنِيَّ إِنَّ اللهَ اصْطَفَى لَكُمُ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} [البقرة: ١٣٢] ".
(١٢٦٨٣) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، وہ اپنی وصیتوں کے شروع میں لکھتے تھے، یہ فلاں بن فلاں کی وصیت ہے وہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور قیامت قائم ہونے والی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے اور اللہ قبروں سے اٹھائے گا اور اس نے وصیت کی اپنے بعد والوں کو کہ وہ اللہ سے اس طرح ڈریں جس طرح ڈرنے کا حق ہے اور اپنے درمیان صلح صفائی سے رہیں اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کریں۔ اگر وہ مومن ہیں اور وہ ان کو وصیت کرتا جو ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے یعقوب کو وصیت کی کہ اے میرے بیٹے! اللہ نے تمہارے لیے دین کو چن لیا ہے، پس تم اسلام کی حالت میں فوت ہونا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَصَايَا/حدیث: 12683]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ عبدالرزاق 16319»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12684
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، ثنا ابْنُ عَوْنٍ قَالَ: كَانَتْ وَصِيَّةُ ابْنِ سِيرِينَ:" ذِكْرُ مَا أَوْصَى بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ بَنِيهِ وَبَنِي أَهْلِهِ، أَنْ يَتَّقُوا اللهَ، وَيُصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِهِمْ، وَأَنْ يُطِيعُوا اللهَ وَرَسُولَهُ إِنْ كَانُوا مُؤْمِنِينَ، وَأَوْصَاهُمْ بِمَا وَصَّى بِهِ إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ {يَا بَنِيَّ إِنَّ اللهَ اصْطَفَى لَكُمُ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} [البقرة: ١٣٢] ، وَأَوْصَاهُمْ أَنْ لَا يَدَعُوا أَنْ يَكُونُوا إِخْوَانَ الْأَنْصَارِ وَمَوَالِيَهُمْ؛ فَإِنَّ الْعَفَافَ وَالصِّدْقَ أَتْقَى وَأَكْرَمُ مِنَ الزِّنَا وَالْكَذِبِ، وَأَوْصَاهُمْ فِيمَا تَرَكَ إِنْ حَدَثَ بِي حَدَثٌ قَبْلَ أَنْ أُغَيِّرَ وَصِيَّتِي".
(١٢٦٨٤) محمد بن ابی عمرہ نے اپنی اولاد اور اپنے اہل کی اولاد کو وصیت کی کہ وہ اللہ سے ڈریں اور اپنی اصلاح کریں اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کریں۔ اگر وہ مومن ہیں اور ان کو وہ وصیت کی جو ابراہیم نے یعقوب کو کی تھی اے میرے بیٹے! اللہ نے تمہارے لیے دین کو چن لیا ہے، پس تم اسلام کی حالت میں فوت ہونا اور ان کو وصیت کی کہ وہ نہ چھوڑ دیں کہ انصار کے بھائی ہوں اور ان کے غلام ہوں، بیشک پاکدامنی اور سچائی زیادہ عزت والی ہے زنا اور جھوٹ سے اور ان کو وصیت کی جو چھوڑا اس بارے میں اور اگر کوئی چیز میری موت سے پہلے رونما ہوئی تو میں وصیت بدل لوں گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَصَايَا/حدیث: 12684]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 12685
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنا أَبُو حَيَّانَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَتَبَ الرَّبِيعُ بْنُ خُثَيْمٍ وَصِيَّتَهُ:" {بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} [الفاتحة: ١] ، هَذَا مَا أَوْصَى الرَّبِيعُ بْنُ خُثَيْمٍ، وَأُشْهِدُ اللهَ عَلَيْهِ، وَكَفَى بِاللهِ شَهِيدًا وَجَازِيًا لِعِبَادِهِ الصَّالِحِينَ مُثِيبًا، أَنِّي رَضِيتُ بِاللهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيًّا، وَإِنِّي آمُرُ نَفْسِي وَمَنْ أَطَاعَنِي أَنْ يَعْبُدَ اللهَ فِي الْعَابِدِينَ، وَيَحْمَدَهُ فِي الْحَامِدِينَ، وَأَنْ يَنْصَحَ لِجَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ".
(١٢٦٨٥) یحییٰ بن سعید اپنیوالد سے نقل فرماتے ہیں کہ ربیع بن خیثم نے اپنی وصیت لکھی: بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ یہ ربیع بن خثیم کی وصیت ہے اور میں اس پر اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور وہ گواہی کے لیے کافی ہے اور وہ نیک بندوں کو ثواب کی جزا دینے والا ہے، میں اللہ کے رب ہونے پر راضی ہوں اور اسلام کے دین ہونے پر اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نبی ہونے پر اور میں اپنے آپ کو حکم دینے والا ہوں اور جس نے میری اطاعت کی کہ ہم اللہ کی عبادت کریں، بندوں میں اور اس کی حمد کریں حمد کرنے والوں میں اور تمام مسلمانوں کی خیرخواہی کریں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَصَايَا/حدیث: 12685]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ الدارمي 3187»
الحكم على الحديث: ضعيف