السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2645. -- باب: بيان مصرف الغنيمة في ابتداء الإسلام وأنها كانت لرسول الله صلى الله عليه وسلم يضعها فيمن يراه ممن شهد الوقعة وممن لم يشهدها، حتى نزل قوله عز وجل واعلموا أنما غنمتم من شيء فأن لله خمسه وللرسول ولذي القربى واليتامى والمساكين وابن السبيل، فكان الخمس
-- باب: ابتدائے اسلام میں مالِ غنیمت کے مصرف کا بیان اور یہ کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے اختیار میں تھا، آپ ﷺ اسے جنگ میں شریک ہونے والے اور شریک نہ ہونے والے جس شخص کے لیے مناسب سمجھتے عطا فرما دیتے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نازل ہوا ”اور جان لو کہ تم جو کچھ مال غنیمت حاصل کرو اس کا پانچواں حصہ اللہ، اس کے رسول، رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے“ تو پھر خمس (پانچواں حصہ) مقرر ہو گیا
حدیث نمبر: 12719
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو صَالِحٍ مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى، أنا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَوْذَبٍ، حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَصَابَ غَنِيمَةً أَمَرَ بِلَالًا فَيُنَادِي فِي النَّاسِ، فَيَجِيئُونَ بِغَنَائِمِهِمْ فَيُخَمِّسُهَا وَيَقْسِمُهَا، فَجَاءَ رَجُلٌ بَعْدَ ذَلِكَ بِزِمَامٍ مِنْ شَعَرٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَذَا فِيمَا كُنَّا أَصَبْنَاهُ مِنَ الْغَنِيمَةِ، فَقَالَ:" أَسَمِعْتَ بِلَالًا نَادَى ثَلَاثًا؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تَجِيءَ بِهِ؟" فَاعْتَذَرَ، فَقَالَ:" كُنْ أَنْتَ تَجِيءُ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَلَنْ أَقْبَلَهُ عَنْكَ".
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب غنیمت کا مال آتا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیتے تھے، وہ لوگوں میں اعلان کرتے، وہ اپنی غنیمتیں لاتے، وہ اس میں سے خمس نکالتے اور اسے تقسیم کرتے۔ ایک آدمی بعد میں بالوں کی لگام لے کر آیا، اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ ہمیں غنیمت سے ملا تھا“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو نے بلال کی آواز سنی تھی، اس نے تین دفعہ بلایا تھا؟“ اس نے کہا: ”ہاں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے یہ لے آنے سے کس نے روکا تھا؟“ اس نے معذرت کی یا عذر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لے جا تو قیامت کے دن لے کر آئے گا، میں اب تجھ سے قبول نہ کروں گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12719]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن