🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

2679. -- باب: المدد يلحق بالمسلمين قبل أن ينقطع الحرب، أو لم يأتوا حتى ينقطع الحرب، وما روي في الغنيمة أنها لمن شهد الوقعة
-- باب: جنگ ختم ہونے سے پہلے یا جنگ ختم ہونے کے بعد مسلمانوں کی کمک پہنچنے کا بیان، اور اس روایت کا بیان کہ مالِ غنیمت صرف اسی کے لیے ہے جو جنگ میں حاضر ہوا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12926
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ الْأَحْمَسِيِّ قَالَ: غَزَتْ بَنُو عُطَارِدٍ مَاءَ الْبَصْرَةِ، وَأُمِدُّوا بِعَمَّارٍ مِنَ الْكُوفَةِ، فَخَرَجَ قَبْلَ الْوَقْعَةِ، وَقَدِمَ بَعْدَ الْوَقْعَةِ فَقَالَ: نَحْنُ شُرَكَاؤُهُمْ فِي الْغَنِيمَةِ. فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عُطَارِدٍ فَقَالَ: أَيُّهَا الْعَبْدُ الْمُجَدَّعُ، تُرِيدُ أَنْ نَقْسِمَ لَكَ غَنَائِمَنَا؟ وَكَانَتْ أُذُنُهُ أُصِيبَتْ فِي سَبِيلِ اللهِ، فَقَالَ: عَيَّرْتُمُونِي بِأَحَبِّ أُذُنِيَّ، أَوْ خَيْرِ أُذُنِيَّ. قَالَ: فَكَتَبَ فِي ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَكَتَبَ" أَنَّ الْغَنِيمَةَ لِمَنْ شَهِدَ الْوَقْعَةَ" وَرُوِّينَا عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي قِصَّةٍ أُخْرَى أَنَّهُ كَتَبَ: إِنَّمَا الْغَنِيمَةُ لِمَنْ شَهِدَ الْوَقْعَةَ.
طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: بنو عطارد نے غزوہ لڑا اور وہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے ساتھ کوفہ سے مدد کے لیے گئے تھے۔ وہ واقعہ سے پہلے نکل گئے اور واقعہ کے بعد آگئے اور کہا: ہم بھی تمہارے ساتھ غنیمت میں شریک ہیں۔ بنو عطارد کے ایک آدمی نے کھڑے ہو کر کہا: اے غلام! تو ارادہ رکھتا ہے کہ ہم تیرے لیے بھی اپنی غنیمت سے حصہ نکالیں؟ اور ان کا کان اللہ کے راستے میں کاٹا گیا تھا، انہوں نے کہا: تم مجھے میرے کانوں کی عار دلاتے ہو، میری محبوب چیز سے۔ پس انہوں نے اس بارے میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو لکھا تو انہوں نے جواب دیا: غنیمت اس کے لیے ہے جو واقعہ میں حاضر ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12926]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ سعيد بن منصور 2791»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12927
وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْفَزَارِيِّ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْغَسَّانِيُّ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ، وَرَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَا:" سَارَتِ الرُّومُ إِلَى حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ وَهُوَ بِأَرْمِينِيَّةَ، فَكَتَبَ إِلَى مُعَاوِيَةَ يَسْتَمِدُّهُ، فَكَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِذَلِكَ، فَكَتَبَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى أَمِيرِ الْعِرَاقِ يَأْمُرُهُ أَنْ يُمِدَّ حَبِيبًا، فَأَمَدَّهُ بِأَهْلِ الْعِرَاقِ وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ سَلْمَانَ بْنَ رَبِيعَةَ الْبَاهِلِيَّ، فَسَارُوا يُرِيدُونَ غِيَاثَ حَبِيبٍ، فَلَمْ يَبْلُغُوهُمْ حَتَّى لَقِيَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ الْعَدُوَّ، فَفَتَحَ اللهُ لَهُمْ. فَلَمَّا قَدِمَ سَلْمَانُ وَأَصْحَابُهُ عَلَى حَبِيبٍ سَأَلُوهُمْ أَنْ يُشْرِكُوهُمْ فِي الْغَنِيمَةِ وَقَالُوا: قَدْ أَمْدَدْنَاكُمْ، وَقَالَ أَهْلُ الشَّامِ: لَمْ تَشْهَدُوا الْقِتَالَ، لَيْسَ لَكُمْ مَعَنَا شَيْءٌ وَأَبَى حَبِيبٌ أَنْ يُشْرِكَهُمْ، وَحَوَى وَأَصْحَابُهُ عَلَى غَنِيمَتِهِمْ، فَتَنَازَعَ أَهْلُ الشَّامِ وَأَهْلُ الْعِرَاقِ فِي ذَلِكَ حَتَّى كَادَ يَكُونُ بَيْنَهُمْ فِي ذَلِكَ كَوْنٌ، فَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِرَاقِ: إِنْ تَقْتُلُوا سَلْمَانَ نَقْتُلْ حَبِيبَكُمْ، وَإِنْ تَرْحَلُوا نَحْوَ ابْنِ عَفَّانَ نَرْحَلْ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ الْغَسَّانِيُّ: فَسَمِعْتُ أَنَّهَا أَوَّلُ عَدَاوَةٍ وَقَعَتْ بَيْنَ أَهْلِ الشَّامِ وَأَهْلِ الْعِرَاقِ".
عطیہ بن قیس اور راشد بن سعد رحمہما اللہ کہتے ہیں: رومی حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کی طرف چلے تھے اور وہ آرمینیہ میں تھے۔ پس انہوں نے معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا کہ وہ ان کی مدد کریں۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو لکھا۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے عراق کے امیر کو لکھا اور حکم دیا کہ وہ حبیب رضی اللہ عنہ کی مدد کرے، پس اس نے اہل عراق کو مدد کے لیے تیار کیا اور ان پر سلیمان بن ربیعہ باہلی رضی اللہ عنہ کو امیر بنا دیا۔ وہ حبیب رضی اللہ عنہ کی مدد کے لیے چلے۔ پس انہوں نے ان کو نہ پایا، یہاں تک کہ اسے اور اس کے ساتھیوں کو دشمن نے پا لیا۔ اللہ نے ان کو فتح دے دی، جب سلیمان رضی اللہ عنہ اور اس کے ساتھی حبیب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے سوال کیا کہ ان کو بھی غنیمت میں شریک کرو، ہم نے تمہاری مدد کی ہے اور اہل شام نے کہا: تم ہمارے ساتھ لڑائی میں شریک نہیں ہوئے، تمہارے لیے ہمارے پاس کوئی چیز نہیں ہے، حبیب رضی اللہ عنہ نے ان کو شریک کرنے سے انکار کر دیا اور وہ اور ان کے ساتھی مال غنیمت پر حاوی ہو گئے، پس اہل شام اور اہل عراق میں اتنا تنازع بن گیا کہ قریب تھا ان میں کوئی (لڑائی) ہو جاتی۔ بعض عراقیوں نے کہا: اگر تم ہمارے سلیمان کو قتل کرو گے تو ہم تمہارے حبیب کو قتل کر دیں گے اور اگر تم عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس جانا چاہو تو ہم بھی جائیں گے۔ ابوبکر غسانی کہتے ہیں: میں نے سنا کہ وہ پہلی دشمنی تھی جو اہل عراق اور اہل شام میں پیدا ہوئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12927]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں