السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2691. -- باب: التفضيل على السابقة والنسب
-- باب: اسلام میں پہل کرنے اور نسب کی بنیاد پر فضیلت (زیادہ حصہ) دینے کا بیان
حدیث نمبر: 12992
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ يَعْنِي الْحَافِظَ النَّيْسَابُورِيَّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَرَضَ لِأَهْلِ بَدْرٍ خَمْسَةَ آلَافٍ وَقَالَ:" لَأُفَضِّلَنَّهُمْ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ فُضَيْلٍ.
قیس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اہل بدر کے لیے پانچ ہزار مقرر کیے اور فرمایا: میں ان کو دوسروں پر فضیلت دوں گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12992]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 4022»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12993
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ شَاكِرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، ثنا هِشَامٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" كَانَ فَرَضَ لِلْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ أَرْبَعَةَ آلَافٍ أَرْبَعَةَ آلَافٍ، وَفَرَضَ لِابْنِ عُمَرَ ثَلَاثَةَ آلَافٍ وَخَمْسَمِائَةٍ"، فَقِيلَ لَهُ: هُوَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، فَبِمَ تُنْقِصُهُ مِنْ أَرْبَعَةِ آلَافٍ؟ فَقَالَ:" إِنَّمَا هَاجَرَ بِهِ أَبَوَاهُ" يَقُولُ: لَيْسَ كَمَنْ هَاجَرَ بِنَفْسِهِ. أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ هَكَذَا.
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: پہلے مہاجرین کے لیے چار چار ہزار فرض کیا اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کے لیے تین ہزار پانچ سو، کہا گیا: وہ بھی مہاجرین میں سے ہیں تو ان کو چار ہزار سے کم کیوں؟ فرمایا: اس کے ساتھ اس کے والدین نے بھی ہجرت کی تھی، وہ اکیلے ہجرت کرنے والے کی طرح نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12993]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 3912»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12994
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بُكَيْرٍ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَرَضَ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي ثَلَاثَةِ آلَافٍ، وَفَرَضَ لِأُسَامَةَ فِي ثَلَاثَةِ آلَافٍ وَخَمْسِمِائَةٍ، قِيلَ لَهُ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ:" أَجْعَلُ حِبَّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَحِبِّ نَفْسِي؟".
زید بن اسلم اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے لیے تین ہزار مقرر کیے اور اسامہ رضی اللہ عنہ کے لیے تین ہزار پانچ سو مقرر کیے۔ ان سے اس بارے میں کہا گیا تو فرمایا: کیا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب کو اپنے محبوب کی طرح بنا دوں؟ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12994]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12995
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ، أنبأ سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ قَالَ: سَمِعْتُ الْحَارِثَ بْنَ سُوَيْدٍ الْحَضْرَمِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ نَاشِرَةَ بْنِ سُمَيٍّ الْيَزَنِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَوْمَ الْجَابِيَةِ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ:" إِنَّ اللهَ جَعَلَنِي خَازِنًا لِهَذَا الْمَالِ وَقَاسِمًا لَهُ"، ثُمَّ قَالَ:" بَلِ اللهُ يَقْسِمُهُ، وَأَنَا بَادِئٌ ⦗٥٦٩⦘ بِأَهْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَشْرَفِهِمْ". فَفَرَضَ لِأَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا جُوَيْرِيَةَ وَصَفِيَّةَ وَمَيْمُونَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُنَّ، وَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعْدِلُ بَيْنَنَا، فَعَدَلَ بَيْنَهُنَّ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ثُمَّ قَالَ:" إِنِّي بَادِئٌ بِي وَبِأَصْحَابِي الْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ، فَإِنَّا أُخْرِجْنَا مِنْ دِيَارِنَا ظُلْمًا وَعُدْوَانًا، ثُمَّ أَشْرَفِهِمْ". فَفَرَضَ لِأَصْحَابِ بَدْرٍ مِنْهُمْ خَمْسَةَ آلَافٍ، وَلِمَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَرْبَعَةَ آلَافٍ، وَفَرَضَ لِمَنْ شَهِدَ الْحُدَيْبِيَةَ ثَلَاثَةَ آلَافٍ، وَقَالَ:" مَنْ أَسْرَعَ فِي الْهِجْرَةِ أَسْرَعَ بِهِ الْعَطَاءُ، وَمَنْ أَبْطَأَ فِي الْهِجْرَةِ أَبْطَأَ بِهِ الْعَطَاءُ، فَلَا يَلُومَنَّ رَجُلٌ إِلَّا مَنَاخَ رَاحِلَتِهِ".
ناشرہ بن سمی کہتے ہیں: میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ جابیہ کے دن لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے۔ اللہ نے مجھے اس مال کا خازن بنایا ہے اور اسے تقسیم کرنے والا، پھر فرمایا: بلکہ اللہ اسے تقسیم کرنے والے ہیں اور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل سے اس کی ابتدا کرتا ہوں، پھر جو زیادہ شرف والے ہیں، پس ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کے لیے حصہ مقرر کیا، سوائے جویریہ، صفیہ اور میمونہ رضی اللہ عنہن کے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان عدل کرتے تھے، پس عمر رضی اللہ عنہ نے ان میں عدل کیا، پھر فرمایا: میں اپنے آپ سے اور اپنے شروع والے مہاجر ساتھیوں سے ابتدا کرتا ہوں، پس ہم اپنے گھروں سے نکالے گئے، ظلم اور زیادتی سے۔ پھر ان میں سے جو زیادہ شرف والے ہیں، پس ان میں سے اصحابِ بدر کے لیے پانچ ہزار مقرر کیا اور انصار میں سے جو بدر میں حاضر ہوئے تھے ان کے لیے چار ہزار اور جو حدیبیہ میں حاضر ہوئے تھے ان کے لیے تین ہزار اور فرمایا: جس نے ہجرت میں جلدی کی اسے مال دینے میں بھی جلدی ہوگی اور جو ہجرت میں پیچھے رہا مال دینے میں بھی اسے پیچھے رکھا جائے گا، پس آدمی صرف اپنی سواری کے پڑاؤ کی جگہ کو ملامت کرے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12995]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 12996
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ حَمْدَانَ، أنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَدِمَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنَ الْبَحْرَيْنِ، قَالَ: وَصَلَّيْتُ مَعَهُ الْعِشَاءَ، فَلَمَّا رَآنِي سَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ:" مَا قَدِمْتَ بِهِ؟"، فَقُلْتُ: قَدِمْتُ بِخَمْسِمِائَةِ أَلْفٍ، قَالَ:" أَتَدْرِي مَا تَقُولُ؟" قَالَ: قُلْتُ: قَدِمْتُ بِخَمْسِمِائَةِ أَلْفٍ، قَالَ:" إِنَّكَ نَاعِسٌ، ارْجِعْ إِلَى بَيْتِكَ فَنَمْ ثُمَّ اغْدُ عَلَيَّ"، قَالَ: فَغَدَوْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ:" مَا جِئْتَ بِهِ؟" قُلْتُ: خَمْسُمِائَةِ أَلْفٍ، قَالَ:" طَيِّبٌ؟" قُلْتُ: نَعَمْ، لَا أَعْلَمُ إِلَّا ذَاكَ، قَالَ: فَقَالَ لِلنَّاسِ:" إِنَّهُ قَدْ قَدِمَ عَلَيَّ مَالٌ كَثِيرٌ، فَإِنْ شِئْتُمْ أَنْ نَعُدَّهُ لَكُمْ عَدًّا، وَإِنْ شِئْتُمْ أَنْ نَكِيلَهُ لَكُمْ كَيْلًا"، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنِّي رَأَيْتُ هَؤُلَاءِ الْأَعَاجِمَ يُدَوِّنُونَ دِيوَانًا يُعْطُونَ النَّاسَ عَلَيْهِ، قَالَ: فَدَوَّنَ الدَّوَاوِينَ، وَفَرَضَ لِلْمُهَاجِرِينَ فِي خَمْسَةِ أَلْفٍ خَمْسَةَ أَلْفٍ، وَلِلْأَنْصَارِ فِي أَرْبَعَةِ أَلْفٍ أَرْبَعَةَ أَلْفٍ، وَفَرَضَ لِأَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بحرین سے عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عشاء کی نماز ان کے ساتھ پڑھی، جب انہوں نے مجھے دیکھا، میں نے سلام کہا۔ انہوں نے کہا: کیا لے کر آئے ہو؟ میں نے کہا: میں پانچ سو ہزار لے کر آیا ہوں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم کیا کہہ رہے ہو؟ میں نے کہا: پانچ سو ہزار لے کر آیا ہوں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو اونگھ میں ہے، گھر میں جاؤ سو جاؤ، صبح آنا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں صبح آیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا لے کر آئے ہو؟ میں نے کہا: پانچ سو ہزار۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: واقعی؟ میں نے کہا: ہاں، میں تو یہی جانتا ہوں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے کہا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ میرے پاس مال لے کر آیا ہے، اگر تم چاہو تو ہم تمہیں شمار کر کے دے دیتے ہیں اور اگر چاہو تو ہم ماپ کر تم کو دے دیتے ہیں۔ ایک آدمی نے کہا: اے امیر المؤمنین! میں نے ان عجمیوں کو دیکھا ہے، وہ دیوان تیار کرتے ہیں، اس پر لوگوں کو دیتے ہیں۔ پس عمر رضی اللہ عنہ نے دیوان تیار کیا اور مہاجرین کے لیے پانچ ہزار مقرر کیا اور انصار کے لیے چار ہزار مقرر کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج رضی اللہ عنہن کے لیے بارہ ہزار مقرر کیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12996]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 12997
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ حَمْدَانَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، حَدَّثَنِي أَبُو مَعْشَرٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَرُ مَوْلَى غُفْرَةَ، وَغَيْرُهُ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ مَالٌ مِنَ الْبَحْرَيْنِ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: مَنْ كَانَ لَهُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ أَوْ عِدَةٌ فَلْيَقُمْ فَلْيَأْخُذْ، فَقَامَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنْ جَاءَنِي مَالٌ مِنَ الْبَحْرَيْنِ لَأُعْطِيَنَّكَ هَكَذَا وَهَكَذَا" ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَحَثَى بِيَدِهِ فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: قُمْ فَخُذْ بِيَدِكَ، فَأَخَذَ فَإِذَا هُنَّ خَمْسُمِائَةٍ، فَقَالَ: عُدُّوا لَهُ أَلْفًا، وَقَسَمَ بَيْنَ النَّاسِ عَشَرَةَ دَرَاهِمَ عَشَرَةَ دَرَاهِمَ وَقَالَ: إِنَّمَا هَذِهِ مَوَاعِيدُ وَعَدَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ. حَتَّى إِذَا كَانَ عَامُ مُقْبِلٍ جَاءَ مَالٌ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ الْمَالِ، فَقَسَمَ بَيْنَ النَّاسِ عِشْرِينَ دِرْهَمًا عِشْرِينَ دِرْهَمًا، وَفَضَلَتْ مِنْهُ فَضْلَةٌ، فَقَسَمَ لِلْخَدَمِ خَمْسَةَ دَرَاهِمَ خَمْسَةَ دَرَاهِمَ وَقَالَ: إِنَّ لَكُمْ خَدَمًا يَخْدُمُونَكُمْ، وَيُعَالِجُونَ لَكُمْ، فَرَضَخْنَا لَهُمْ، فَقَالُوا: لَوْ فَضَّلْتَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارَ لِسَابِقَتِهِمْ وَلِمَكَانِهِمْ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَجْرُ أُولَئِكَ عَلَى اللهِ، إِنَّ هَذَا الْمَعَاشَ الْأُسْوَةُ فِيهِ ⦗٥٧٠⦘ خَيْرٌ مِنَ الْأَثَرَةِ، فَعَمِلَ بِهَذَا وِلَايَتَهُ، حَتَّى إِذَا كَانَ سَنَةَ، أُرَاهُ ثَلَاثَ عَشْرَةَ فِي جُمَادَى الْآخِرَةِ مِنْ لَيَالٍ بَقِينَ مِنْهُ مَاتَ، فَوَلِيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَفَتَحَ الْفُتُوحَ وَجَاءَتْهُ الْأَمْوَالُ، فَقَالَ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَأَى فِي هَذَا الْمَالِ رَأْيًا، وَلِي فِيهِ رَأْيٌ آخَرُ، لَا أَجْعَلُ مَنْ قَاتَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَنْ قَاتَلَ مَعَهُ، فَفَرَضَ لِلْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا خَمْسَةَ آلَافٍ خَمْسَةَ آلَافٍ، وَفَرَضَ لِمَنْ كَانَ لَهُ إِسْلَامٌ كَإِسْلَامِ أَهْلِ بَدْرٍ وَلَمْ يَشْهَدْ بَدْرًا أَرْبَعَةَ آلَافٍ أَرْبَعَةَ آلَافٍ، وَفَرَضَ لِأَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا، إِلَّا صَفِيَّةَ وَجُوَيْرِيَةَ فَرَضَ لَهُمَا سِتَّةَ آلَافٍ، فَأَبَتَا أَنْ تَقْبَلَا، فَقَالَ لَهُمَا: إِنَّمَا فَرَضْتُ لَهُنَّ لِلْهِجْرَةِ، فَقَالَتَا: إِنَّمَا فَرَضْتَ لَهُنَّ لِمَكَانِهِنَّ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ لَنَا مِثْلُهُ، فَعَرَفَ ذَلِكَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَفَرَضَ لَهُمَا اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا، وَفَرَضَ لِلْعَبَّاسِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا، وَفَرَضَ لِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَرْبَعَةَ آلَافٍ، وَفَرَضَ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ثَلَاثَةَ آلَافٍ، فَقَالَ يَا أَبَتِ: لِمَ زِدْتَهُ عَلَيَّ أَلْفًا؟ مَا كَانَ لِأَبِيهِ مِنَ الْفَضْلِ مَا لَمْ يَكُنْ لِأَبِي، وَمَا كَانَ لَهُ مَا لَمْ يَكُنْ لِي، فَقَالَ: إِنَّ أَبَا أُسَامَةَ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَبِيكَ، وَكَانَ أُسَامَةُ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْكَ. وَفَرَضَ لِلْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا خَمْسَةَ آلَافٍ خَمْسَةَ آلَافٍ، أَلْحَقَهُمَا بِأَبِيهِمَا؛ لِمَكَانِهِمَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفَرَضَ لِأَبْنَاءِ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ أَلْفَيْنِ أَلْفَيْنِ، فَمَرَّ بِهِ عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ فَقَالَ: زِيدُوهُ أَلْفًا، فَقَالَ لَهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَحْشٍ: مَا كَانَ لِأَبِيهِ مَا لَمْ يَكُنْ لِآبَائِنَا، وَمَا كَانَ لَهُ مَا لَمْ يَكُنْ لَنَا، قَالَ: إِنِّي فَرَضْتُ لَهُ بِأَبِيهِ أَبِي سَلَمَةَ أَلْفَيْنِ، وَزِدْتُهُ بِأُمِّهِ أُمِّ سَلَمَةَ أَلْفًا، فَإِنْ كَانَت لَكَ أُمٌّ مِثْلُ أُمِّهِ زِدْتُكَ أَلْفًا. وَفَرَضَ لِأَهْلِ مَكَّةَ وَالنَّاسُ ثَمَانِمِائَةٍ، فَجَاءَهُ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بِأَخِيهِ عُثْمَانَ، فَفَرَضَ لَهُ ثَمَانِمِائَةٍ، فَمَرَّ بِهِ النَّضْرُ بْنُ أَنَسٍ، فَقَالَ عُمَرُ: افْرِضُوا لَهُ فِي أَلْفَيْنِ، فَقَالَ لَهُ طَلْحَةُ: جِئْتُكَ بِمِثْلِهِ فَفَرَضْتَ لَهُ ثَمَانِمِائَةٍ، وَفَرَضْتَ لِهَذَا أَلْفَيْنِ، فَقَالَ: إِنَّ أَبَا هَذَا لَقِيَنِي يَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ لِي: مَا فَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقُلْتُ: مَا أُرَاهُ إِلَّا قَدْ قُتِلَ، فَسَلَّ سَيْفَهُ وَكَسَرَ غِمْدَهُ فَقَالَ: إِنْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ قُتِلَ، فَإِنَّ اللهَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ، فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ، وَهَذَا يَرْعَى الشَّاءَ فِي مَكَانِ كَذَا وَكَذَا.
عمر مولیٰ غفرہ فرماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے تو بحرین سے مال آیا، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی (وعدہ یا قرض) ہو تو وہ آ کر لے لے۔“ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کھڑے ہوئے اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”اگر بحرین سے مال آیا تو میں تجھے اتنا اتنا دوں گا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا اور اپنے ہاتھ سے مٹھی بنائی۔ پس ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کھڑے ہو جاؤ اور اپنے ہاتھ سے (مال) بھر لو۔“ پس انہوں نے بھرا تو وہ پانچ سو درہم تھے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”(اس کے ساتھ مزید) ایک ہزار شمار کرو۔“ اور لوگوں میں دس دس درہم بانٹ دیے اور فرمایا: ”یہ تو وہ وعدے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے کیے تھے۔“ حتیٰ کہ جب آئندہ سال آیا تو بہت زیادہ مال آیا، پس آپ نے بیس بیس درہم تقسیم کیے، پھر بھی اس سے درہم بچ گئے، آپ نے خادموں کو پانچ پانچ درہم دیے اور فرمایا: ”وہ تمہارے خادم ہیں اور تمہاری خدمت کرتے ہیں، تمہارے لیے محنت کرتے ہیں، پس ہم نے ان کو انعام دیا ہے۔“ لوگوں نے کہا: ”کاش! آپ مہاجرین و انصار کو ان کی سبقت اور مقام کی وجہ سے فضیلت دے دیں۔“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس کا اجر اللہ پر ہے، بیشک معاش (تقسیمِ اموال) میں اسوہ (برابری) ہی ترجیح سے بہتر ہے۔“ پس آپ نے اپنی خلافت میں اسی پر عمل کیا، حتیٰ کہ میرے خیال میں سن تیرہ (ہجری) میں جب جمادی الاخریٰ کی چند راتیں باقی تھیں تو وہ فوت ہو گئے، پس عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے۔ آپ نے فتوحات حاصل کیں، آپ کے پاس اموال آئے، (عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:) ”ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان اموال میں اپنی رائے اختیار کی تھی اور میری (اب) اپنی ایک رائے ہے، میں اس شخص کو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑا ہو، ایسا نہ بناؤں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (مل کر کفار سے) لڑا ہے۔“ پس عمر رضی اللہ عنہ نے مہاجرین و انصار میں سے جو بدر میں حاضر ہوئے ان کے لیے پانچ پانچ ہزار مقرر کیے اور جن کا اسلام اہل بدر کے اسلام جیسا تھا، لیکن وہ بدر میں حاضر نہ ہوئے تھے، ان کے لیے چار چار ہزار مقرر کیے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کے لیے بارہ بارہ ہزار مقرر کیے، سوائے سیدہ صفیہ اور سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہما کے، ان کے لیے چھ چھ ہزار مقرر کیے۔ ان دونوں نے لینے سے انکار کر دیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ”ان کو ہجرت کی وجہ سے زیادہ دیا ہے۔“ دونوں نے کہا: ”آپ نے ان کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں ان کے مقام ہی کی وجہ سے مقرر کیا ہے اور ہمارے لیے بھی وہی مقام ہے،“ پس عمر رضی اللہ عنہ نے وہ (بات) پہچان لی تو ان کے لیے بھی بارہ بارہ ہزار مقرر کر دیے اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے لیے بارہ ہزار مقرر کیے اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے لیے چار ہزار اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے لیے تین ہزار۔ انہوں نے عرض کیا: ”اے ابا جان! اسامہ کو ایک ہزار زائد کیوں دیا؟ کیا اس کے باپ کو جو فضیلت حاصل تھی، وہ میرے باپ کو نہیں ہے؟ اور کیا جو مقام اس کے لیے ہے، وہ میرے لیے نہیں ہے؟“ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اسامہ کے باپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تیرے باپ سے زیادہ محبوب تھے اور اسامہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھ سے زیادہ محبوب تھے۔“ اور حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے لیے پانچ پانچ ہزار مقرر کیا اور ان دونوں کو ان کے باپ کے مرتبے سے ملا دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (قرابت کے) مقام کی وجہ سے اور انصار و مہاجرین کی اولادوں کے لیے دو دو ہزار مقرر کیا، پس عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا: ”اسے ایک ہزار زائد دے دو۔“ محمد بن عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ”جو اس کے باپ کا مقام تھا، کیا وہ ہمارے باپ کا نہ تھا؟ اور جو اس کا مقام ہے، کیا وہ ہمارا نہیں ہے؟“ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے اس کے لیے دو ہزار اس کے باپ ابوسلمہ (رضی اللہ عنہ) کی وجہ سے اور اس کی ماں ام سلمہ (رضی اللہ عنہا) کی وجہ سے ایک ہزار زائد دیا۔ اگر تیری بھی ماں اس کی ماں جیسی ہوتی تو تجھے بھی ایک ہزار زیادہ دیتا۔“ اور اہل مکہ کے لیے آٹھ آٹھ سو مقرر کیے، آپ کے پاس طلحہ بن عبیداللہ (رضی اللہ عنہ) اپنے بھائی عثمان کو لائے، آپ نے اسے آٹھ سو دیے۔ نضر بن انس (رضی اللہ عنہ) پاس سے گزرے تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس کے لیے دو ہزار مقرر کر دو۔“ طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں بھی تو اسی کی مثل (اپنے بھائی کو) آپ کے پاس لایا ہوں، اس کے لیے آٹھ سو اور اس کے لیے دو ہزار مقرر کیے ہیں؟“ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس کا باپ (انس بن نضر رضی اللہ عنہ) احد کے دن مجھ سے ملا، اس نے مجھ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کیا (کیسے ہیں)؟ میں نے کہا: میں خیال نہیں کرتا (بچ پائے ہوں گے) بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم شہید کر دیے گئے ہیں، اس نے اپنی تلوار پکڑی اور اس کے نیام کو توڑ دیا اور کہنے لگا: اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہید کر دیے گئے ہیں تو اللہ تو زندہ ہے، وہ کبھی فوت نہیں ہو گا، پھر وہ لڑے حتیٰ کہ شہید کر دیے گئے، جبکہ وہ (تمہارا بھائی) فلاں فلاں جگہ بکریاں چراتا تھا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12997]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12998
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّيْمِيُّ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" كَتَبَ الْمُهَاجِرِينَ عَلَى خَمْسَةِ آلَافٍ وَالْأَنْصَارَ عَلَى أَرْبَعَةِ آلَافٍ، وَمَنْ لَمْ يَشْهَدْ بَدْرًا مِنْ أَبْنَاءِ الْمُهَاجِرِينَ عَلَى أَرْبَعَةِ آلَافٍ، فَكَانَ مِنْهُمْ عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الْأَسَدِ الْمَخْزُومِيُّ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَحْشٍ الْأَسَدِيُّ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ: إِنَّ ابْنَ عُمَرَ لَيْسَ مِنْ هَؤُلَاءِ؛ إِنَّهُ وَإِنَّهُ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: إِنْ كَانَ لِي حَقٌّ فَأَعْطِنِيهِ، وَإِلَّا فَلَا تُعْطِنِي، ⦗٥٧١⦘ فَقَالَ عُمَرُ لِابْنِ عَوْفٍ:" اكْتُبْهُ عَلَى خَمْسَةِ آلَافٍ، وَاكْتُبْنِي عَلَى أَرْبَعَةِ آلَافٍ"، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: لَا أُرِيدُ هَذَا، فَقَالَ عُمَرُ:" وَاللهِ لَا أَجْتَمِعُ أَنَا وَأَنْتَ عَلَى خَمْسَةِ آلَافٍ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَفَّانُ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ اور سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے (دیوان میں) مہاجرین کے لیے پانچ ہزار، انصار کے لیے چار ہزار اور مہاجرین کے بیٹوں میں سے جو بدر میں حاضر نہیں ہوئے ان کے لیے چار ہزار لکھا۔ ان میں عمر بن ابی سلمہ اور اسامہ بن زید اور محمد بن عبداللہ اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم تھے۔ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: ابن عمر رضی اللہ عنہما ان میں سے نہیں ہیں، وہ تو ایسے ایسے ہیں۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اگر میرا حق ہے تو مجھے دیں، ورنہ مجھے نہ دیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ابن عوف سے کہا: اس کے لیے پانچ ہزار لکھو اور میرے لیے چار ہزار لکھو۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں یہ نہیں چاہتا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں اور تو (دونوں) پانچ ہزار پر جمع نہیں ہو سکتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12998]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف