🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

2693. -- باب: ما جاء في قول أمير المؤمنين عمر رضي الله عنه: ما من أحد من المسلمين إلا له حق في هذا المال
-- باب: امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اس فرمان کے متعلق جو مروی ہے: ”مسلمانوں میں سے کوئی ایسا نہیں جس کا اس مال میں حق نہ ہو“
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13002
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ ⦗٥٧٢⦘ أَسْلَمَ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ:" اجْتَمِعُوا لِهَذَا الْمَالِ، فَانْظُرُوا لِمَنْ تَرَوْنَهُ"، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ:" إِنِّي أَمَرْتُكُمْ أَنْ تَجْتَمِعُوا لِهَذَا الْمَالِ فَتَنْظُرُوا لِمَنْ تَرَوْنَهُ، وَإِنِّي قَدْ قَرَأْتُ آيَاتٍ مِنْ كِتَابِ اللهِ سَمِعْتُ اللهَ يَقُولُ {مَا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ كَيْلَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنْكُمْ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا وَاتَّقُوا اللهَ إِنَّ اللهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ} {لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللهِ وَرِضْوَانًا وَيَنْصُرُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ أُولَئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ} [الحشر: ٨] ، وَاللهِ مَا هُوَ لِهَؤُلَاءِ وَحْدَهُمْ، {وَالَّذِينَ تَبَوَّءُوا} الدَّارَ وَالْإِيمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ يُحِبُّونَ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِمْ وَلَا يَجِدُونَ فِي صُدُورِهِمْ حَاجَةً مِمَّا أُوتُوا وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ الْآيَةَ، وَاللهِ مَا هُوَ لِهَؤُلَاءِ وَحْدَهُمْ، {وَالَّذِينَ جَاءَوا مِنْ بَعْدِهِمْ} الْآيَةَ، وَاللهِ مَا مِنْ أَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَّا وَلَهُ حَقٌّ فِي هَذَا الْمَالِ، أُعْطِيَ مِنْهُ أَوْ مُنِعَ، حَتَّى رَاعٍ بِعَدَنَ".
حضرت زید بن اسلم اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے کہا: میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے: اس مال کو جمع کرو، پس دیکھو کیسے تم اس کے اہل کا خیال کرتے ہو؟ پھر ان سے کہا: میں تم کو حکم دیتا ہوں، اس مال کو جمع کرو، پس دیکھو کیسے تم اس کا اہل خیال کرتے ہو؟ اور میں نے اللہ کی کتاب کی آیات پڑھی ہیں: ﴿مَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ﴾ سے ﴿أُولَٰئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ﴾ [سورة الحشر: 7-8] تک، اللہ کی قسم! وہ ان اکیلوں کے لیے نہیں ہے، ﴿وَالَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالْإِيمَانَ مِن قَبْلِهِمْ يُحِبُّونَ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِمْ وَلَا يَجِدُونَ فِي صُدُورِهِمْ حَاجَةً مِّمَّا أُوتُوا وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ﴾ [سورة الحشر: 9] ، اللہ کی قسم! ان اکیلوں کے لیے بھی نہیں، ﴿وَالَّذِينَ جَاءُوا مِن بَعْدِهِمْ﴾ [سورة الحشر: 10] ، اللہ کی قسم! مسلمانوں میں سے ہر ایک کا اس مال میں حق ہے اسے دیا جائے یا نہ دیا جائے، اگرچہ عدن کا چرواہا ہی کیوں نہ ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 13002]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13003
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي قِصَّةٍ ذَكَرَهَا، قَالَ:" ثُمَّ تَلَا {إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ} [التوبة: ٦٠] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ"، فَقَالَ:" هَذِهِ لِهَؤُلَاءِ، ثُمَّ تَلَا {وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ} [الأنفال: ٤١] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ"، ثُمَّ قَالَ:" هَذَا لِهَؤُلَاءِ، ثُمَّ تَلَا {مَا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى} [الحشر: ٧] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ"،" ثُمَّ قَرَأَ {لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ} [الحشر: ٨] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ"، ثُمَّ قَالَ:" هَؤُلَاءِ الْمُهَاجِرُونَ، ثُمَّ تَلَا {وَالَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالْإِيمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ} إِلَى آخِرِ الْآيَةِ"، فَقَالَ:" هَؤُلَاءِ الْأَنْصَارُ، قَالَ: وَقَرَأَ {وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ} إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، قَالَ:" فَهَذِهِ اسْتَوْعَبَتِ النَّاسَ، وَلَمْ يَبْقَ أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَّا وَلَهُ فِي هَذَا الْمَالِ حَقٌّ، إِلَّا مَا تَمْلِكُونَ مِنْ رَقِيقِكُمْ، فَإِنْ أَعِشْ إِنْ شَاءَ اللهُ لَمْ يَبْقَ أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَّا سَيَأْتِيهِ حَقُّهُ حَتَّى الرَّاعِي بِسُرَّ وَحِمْيَرَ يَأْتِيهِ حَقُّهُ، وَلَمْ يَعْرَقْ فِيهِ جَبِينُهُ" قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: هَذَا الْحَدِيثُ يَحْتَمِلُ مَعَانِيَ، مِنْهَا أَنْ يَقُولَ: لَيْسَ أَحَدٌ يُعْطِي، بِمَعْنَى حَاجَةٍ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ، أَوْ مَعْنَى أَنَّهُ مِنْ أَهْلِ الْفَيْءِ الَّذِينَ يَغْزُونَ، إِلَّا وَلَهُ حَقٌّ فِي هَذَا الْمَالِ؛ الْفَيْءِ أَوِ الصَّدَقَةِ، وَهَذَا كَأَنَّهُ أَوْلَى مَعَانِيهِ؛ فَقَدْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّدَقَةِ:" لَا حَظَّ فِيهَا لِغَنِيٍّ وَلَا لِذِي مَرَّةٍ مُكْتَسِبٍ"، وَالَّذِي أَحْفَظُ عَنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ الْأَعْرَابَ لَا يُعْطَوْنَ مِنَ الْفَيْءِ. ⦗٥٧٣⦘ قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ مَضَى هَذَا فِي حَدِيثِ بُرَيْدَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ حَكَى أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الشَّافِعِيُّ عَنِ الشَّافِعِيِّ أَنَّهُ قَالَ فِي كِتَابِ السِّيَرِ الْقَدِيمِ مَعْنَى هَذَا، ثُمَّ اسْتَثْنَى فَقَالَ: إِلَّا أَنْ لَا يُصَابَ أَحَدُ الْمَالَيْنِ، وَيُصَابَ الْآخَرُ بِالصِّنْفَيْنِ إِلَيْهِ حَاجَةٌ فَيُشْرِكُ بَيْنَهُمْ فِيهِ، قَالَ: وَقَدْ أَعَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي خُرُوجِهِ إِلَى أَهْلِ الرِّدَّةِ بِمَالٍ أَتَى بِهِ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ مِنْ صَدَقَةِ قَوْمِهِ، فَلَمْ يُنْكَرْ عَلَيْهِ ذَلِكَ؛ إِذْ كَانَتْ بِالْقَوْمِ إِلَيْهِ حَاجَةٌ، وَالْفَيْءُ مِثْلُ ذَلِكَ.
مالک بن اوس نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ایک قصہ بیان کیا، پھر تلاوت کی: ﴿إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ﴾ [سورة التوبة: 60] آخر تک، ”یہ ان کے لیے ہے۔“ پھر تلاوت کی: ﴿وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ﴾ [سورة الأنفال: 41] آخر تک، پھر کہا: ”یہ ان کے لیے ہے“ پھر تلاوت کی ﴿مَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى﴾ [سورة الحشر: 7] آخر تک، پھر کہا: ”یہ ان کے لیے ہے۔“ پھر پڑھا: ﴿لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ﴾ [سورة الحشر: 8] آخر تک، ”یہ مہاجرین ہیں۔“ پھر تلاوت کی: ﴿وَالَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالْإِيمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ﴾ [سورة الحشر: 9] آخر تک، پھر کہا: ”یہ انصار ہیں۔“ اور پڑھا: ﴿وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ﴾ [سورة الحشر: 10] آخر تک، پھر کہا: ”اس آیت نے تمام مسلمانوں کو شامل کر دیا ہے، مسلمانوں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں، جس کا اس مال میں حق نہ ہو سوائے غلاموں کے۔ پس اگر میں زندہ رہا تو مسلمانوں میں سے کوئی بھی ایسا نہ ہوگا کہ جسے اس کا حق نہ پہنچے، حتیٰ کہ ایک چرواہا سُر میں یا حمیر میں ہو تو اسے اس کا حق ملے گا اور اس کی پیشانی پر پسینہ بھی نہ آئے گا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اس حدیث میں کئی معنوں کا احتمال ہے، ہم کہہ سکتے ہیں کہ کوئی بھی ایسا نہیں کہ اسے ضرورت سے دیا جا سکتا ہے، اہل صدقہ میں سے اور اہل فئی میں سے۔ وہ لوگ جو غزوؤں پر جاتے ہیں مگر اس کے لیے اس مالِ فئی یا صدقہ میں اس کا حق ہے، یہ اس کے سب سے عمدہ معنیٰ ہیں۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کے بارے میں فرمایا: ”اس میں غنی اور کمانے والے کے لیے کوئی حق نہیں ہے“ اور جو میں نے اہل علم سے یاد کیا ہے کہ اعراب کو فئی میں سے نہیں دیا جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 13003]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں