السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2708. -- باب: لا يسع أهل الأموال حبسه عمن أمروا بدفعه إليه
-- باب: مالداروں کے لیے جائز نہیں کہ جنہیں مال دینے کا حکم دیا گیا ہے ان سے اسے روکے رکھیں
حدیث نمبر: 13113
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَاجِيَةَ، ثنا ابْنُ أَبِي النَّضْرِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَأَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ⦗٤⦘ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ آتَاهُ اللهُ مَالًا، فَلَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهُ مُثِّلَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعٌ أَقْرَعُ لَهُ زَبِيبَتَانِ يُطَوَّقُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ثُمَّ يَأْخُذُ بِلِهْزِمَتَيْهِ يَعْنِي شِدْقَيْهِ يَقُولُ: أَنَا مَالُكَ، أَنَا كَنْزُكَ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ {لَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللهُ مِنْ فَضْلِهِ هُوَ خَيْرًا لَهُمْ} [آل عمران: ١٨٠] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور اس نے اس کی زکوٰۃ نہ دی تو قیامت والے دن اس کو «أَقْرَعُ» سانپ کی شکل دی جائے گی، جس کے سر پر دو سیاہ نقطے ہوں گے، وہ قیامت کے دن اس سے لپٹ کر اس کی باچھوں کو پکڑ کر کہے گا: میں تیرا مال ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں،“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: ﴿وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ هُوَ خَيْرًا لَّهُمْ﴾ [سورة آل عمران: 180] ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الصَّدَقَاتِ/حدیث: 13113]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1402، 1403۔ مسلم 987»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13114
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْجُويْنِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رَجَاءٍ السِّنْدِيُّ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغَوِيُّ قَالَا: ثنا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ أَبَا صَالِحٍ ذَكْوَانَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ صَاحِبِ ذَهَبٍ، وَلَا فِضَّةٍ لَا يُؤَدِّي مِنْهَا حَقَّهَا، إِلَّا إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ صُفِّحَتْ لَهُ صَفَائِحُ مِنْ نَارٍ، فَأُحْمِيَ عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ، فَيُكْوَى بِهَا جَنْبُهُ وَجَبِينُهُ وَظَهْرُهُ، كُلَّمَا بَرَدَتْ أُعِيدَتْ لَهُ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ الْعِبَادِ، فَيَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى جَنَّةٍ وَإِمَّا إِلَى نَارٍ"، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ فَالْإِبِلُ؟ قَالَ": وَلَا صَاحِبَ إِبِلٍ لَا يُؤَدِّي حَقَّهَا، وَمِنْ حَقِّهَا حَلْبُهَا يَوْمَ وِرْدِهَا، إِلَّا إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ بُطِحَ لَهُ بِقَاعٍ قَرْقَرٍ أَوْفَرَ مَا كَانَتْ لَا يَفْقِدُ مِنْهَا فَصِيلًا وَاحِدًا، تَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا، وَتَعَضُّهُ بِأَفْوَاهِهَا، كُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ أُولَاهَا رُدَّ عَلَيْهِ أُخْرَاهَا فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ الْعِبَادِ، فَيَرَى سَبِيلَهَ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ فَالْبَقَرُ وَالْغَنَمُ؟ قَالَ: وَلَا صَاحِبَ غَنَمٍ وَلَا بَقَرٍ لَا يُؤَدِّي مِنْهَا حَقَّهَا، إِلَّا إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ بُطِحَ لَهُ بِقَاعٍ قَرْقَرٍ لَا يَفْقِدُ مِنْهَا شَيْئًا، لَيْسَ فِيهَا عَقْصَاءُ، وَلَا جَلْحَاءُ، وَلَا عَضْبَاءُ تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا، وَتَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا كُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ أُولَاهَا رُدَّ عَلَيْهِ أُخْرَاهَا فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ الْعِبَادِ، فَيَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِمَّا إِلَى النَّارِ"، ثُمَّ ذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ قَدْ أَخْرَجْتُهُ فِي كِتَابِ الزَّكَاةِ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ سَعِيدٍ، وَقَولُهُ:" وَمِنْ حَقِّهَا حَلْبُهَا يَوْمَ وِرْدِهَا" يُشْبِهُ أنْ يَكُونَ مِنْ قَوْلِ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَقَدْ رَوَيْنَا فِي كِتَابِ الزَّكَاةِ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ:" وَمَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهَا إِلَّا بُطِحَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بندہ سونے یا چاندی والا اپنے مال کا حق (زکوۃ) ادا نہیں کرتا اس کے لیے آگ کی تختیاں بنائی جائیں گی۔ پھر ان کو آگ پر گرم کیا جائے گا، پھر اس کا ماتھا (پیشانی) اس کا پہلو اور اس کی پیٹھ کو ان سے داغا جائے گا، جب بھی وہ ٹھنڈی ہوجائیں گی تو ان کو پھر گرم کردیا جائے گا۔ یہ سزا اس کے لیے اس دن تک جاری رہے گی، جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے، یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کیا جائے۔ پھر وہ اپنا ٹھکانا جنت میں یا جہنم میں دیکھے گا“، پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! اگر کسی نے اونٹوں کی زکوۃ نہیں دی تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اونٹوں والا ان کا حق ادا نہیں کرتا اور اس کے پانی پلانے کے دن اس کا دودھ نہیں دوہتا تو قیامت کے دن اس کو ایک ہموار زمین پر اوندھے منہ لٹا دیا جائے گا اور ان میں سے ایک اونٹ بھی وہ کم نہ پائے گا مگر وہ اس کو اپنے کھروں سے روندیں گے اور مونہوں سے کاٹیں گے، جب پہلا جائے گا تو دوسرا آجائے گا، یہ سارا دن ہوتا رہے گا، جس دن کی مقدار پچاس ہزار سال ہے، یہاں تک کہ بندوں کے درمیان فیصلہ کردیا جائے اور وہ اپنا راستہ جنت یا جہنم کی طرف دیکھ لے“، پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! گائے اور بکری کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی طرح گائے اور بکری کا مالک جو ان میں سے حق (زکوۃ) ادا نہیں کرتا تو جب قیامت کا دن ہوگا اسے ہموار زمین پر لٹا دیا جائے گا تو وہ کسی کو گم نہ پائے گا (یعنی سارے جانور موجود ہوں گے) اور ان میں کوئی بےسینگ نہ ہوگا، نہ ٹوٹے ہوئے سینگ والا اور نہ کوئی عیب دار، پھر وہ اپنے سینگوں سے اس کو نوچیں گے، اپنے کھروں سے اس کو روندیں گے۔ جب ان کا پہلا (جانور) گزر جائے گا تو دوسرا اس کی جگہ پر آجائے گا، یہ اس دن ہوگا جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے یہاں تک کہ بندوں کے درمیان فیصلہ کردیا جائے اور وہ اپنا راستہ جنت یا جہنم کی طرف دیکھ لے“۔ صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ «وَمِنْ حَقِّهَا حَلْبُهَا يَوْمَ وِرْدِهَا» سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے قول کے مشابہ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الصَّدَقَاتِ/حدیث: 13114]
تخریج الحدیث: «بخاري 140۔ مسلم 20»
الحكم على الحديث: بخاري 140