السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2758. -- باب: فضل علمه على علم غيره
-- باب: آپ ﷺ کے علم کی دوسروں کے علم پر فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 13324
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ إِذْ رَأَيْتُ قَدَحًا أُتِيتُ بِهِ فِيهِ لَبَنٌ، فَشَرِبْتُ مِنْهُ حَتَّى أَنِّي لَأَرَى الرِّيَّ يَجْرِي فِي أَظْفَارِي، ثُمَّ أَعْطَيْتُ فَضْلِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالُوا: فَمَا أَوَّلْتَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:" الْعِلْمُ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ حَرْمَلَةَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ يُونُسَ.
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک دفعہ میں سویا ہوا تھا، میں نے ایک پیالہ دیکھا جس میں مجھے دودھ دیا گیا۔ میں نے اس میں سے پیا یہاں تک کہ مجھے ایسے محسوس ہوا کہ میرے ناخنوں میں سے دودھ نکل رہا ہے۔ پھر میرا بچا ہوا سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیا گیا۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے فرمایا کہ تاویل کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”علم۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13324]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 82۔ مسلم 2391»
الحكم على الحديث: صحيح