🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

2772. -- باب: ما أبيح له بتزويج الله وإذا جاز ذلك جاز أن يعقد على امرأة بغير استئمارها
-- باب: آپ ﷺ کے لیے اللہ کے نکاح پڑھانے سے مباح ہونے کا بیان، اور جب یہ جائز ہو گیا تو یہ بھی جائز ہو گیا کہ آپ کسی عورت سے اس کی اجازت کے بغیر نکاح کر لیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13360
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، ثنا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا انْقَضَتْ عِدَّةُ زَيْنَبَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِزَيْدٍ:" اذْهَبْ إِلَيْهَا فَاذْكُرْهَا عَلَيَّ" قَالَ زَيْدٌ: فَانْطَلَقْتُ، فَلَمَّا رَأَيْتُهَا وَجَدْتُهَا تُخَمِّرُ عَجِينَهَا، فَلَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ أَنْظُرَ إِلَيْهَا مِنْ عِظَمِهَا فِي صَدْرِي حِينَ عَرَفْتُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُهَا، فَقُلْتُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ⦗٩١⦘ يَذْكُرُكِ قَالَتْ: مَا أَنَا بِصَانِعَةٍ شَيْئًا حَتَّى أُؤَامِرَ رَبِّي، فَقَامَتْ إِلَى مَسْجِدِهَا وَنَزَلَ الْقُرْآنُ وَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهَا بِغَيْرِ إِذْنٍ قَالَ أَنَسٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَلَقَدْ رَأَيْتُنَا أَطْعَمْنَا عَلَيْهَا الْخُبْزَ وَاللَّحْمَ حَتَّى اشْتَدَّ النَّهَارُ، فَخَرَجَ النَّاسُ وَبَقِيَ رِجَالٌ يَتَحَدَّثُونَ فِي الْبَيْتِ بَعْدَ الطَّعَامِ قَالَ أَنَسٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاتَّبَعْتُهُ فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتْبَعُ حُجَرَ نِسَائِهِ وَيُسَلِّمُ عَلَيْهِنَّ فَيَقُلْنَ: يَا رَسُولَ اللهِ كَيْفَ وَجَدْتَ أَهْلَكَ؟ قَالَ: فَمَا أَدْرِي أَنَا أَخْبَرْتُهُ أَنَّ الْقَوْمَ قَدْ خَرَجُوا أَوْ أُخْبِرَ، فَانْطَلَقَ حَتَّى أَتَى الْبَيْتَ فَدَخَلَ، فَذَهَبْتُ أَدْخُلُ مَعَهُ فَأَلْقَى السِّتْرَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ وَنَزَلَ الْحِجَابُ وَوَعَظَ الْقَوْمَ بِمَا وُعِظُوا، فَقَالَ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ} [الأحزاب: ٥٣] حَتَّى بَلَغَ {إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللهِ عَظِيمًا} [الأحزاب: ٥٣] " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی عدت پوری ہو گئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زید رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”وہ زینب کے پاس جائے اور ان کے پاس میرا ذکر کرے۔“ زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں چلا، میں نے انہیں دیکھا کہ وہ اپنا آٹا خمیر کر رہی تھیں، پس میں ان کی طرف دیکھنے کی طاقت نہ رکھ سکا کیونکہ میرے دل میں ان کی عظمت بڑھ گئی تھی جب میں نے جان لیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ذکر کیا ہے، تو میں نے کہا: ”تجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یاد کیا ہے۔“ تو انہوں نے کہا: ”جب تک میں اپنے رب سے مشورہ نہ کر لوں، میں کچھ بھی نہیں کروں گی۔“ وہ اپنی نماز والی جگہ پر کھڑی ہو گئیں اور قرآن نازل ہوا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بغیر اجازت کے ان کے پاس داخل ہو گئے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے دیکھا کہ اس (ولیمے) پر ہمیں روٹی اور گوشت کھلایا گیا یہاں تک کہ دن چڑھ آیا، لوگ چلے گئے اور کچھ آدمی کھانے کے بعد گھر میں باتیں کرتے رہ گئے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے حجروں میں جا کر انہیں سلام کرنے لگے اور وہ کہتیں: اے اللہ کے رسول! آپ نے اپنی اہلیہ کو کیسا پایا؟ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھے معلوم نہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ لوگ چلے گئے ہیں یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو (کسی اور نے) بتایا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلے یہاں تک کہ گھر آئے اور اندر داخل ہو گئے، میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ داخل ہونے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اور اپنے درمیان پردہ ڈال دیا اور پردے کا حکم نازل ہوا اور لوگوں کو جو نصیحت کی گئی وہ کی گئی، (اللہ تعالیٰ نے) فرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ﴾ [سورة الأحزاب: 53] یہاں تک کہ ﴿إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللَّهِ عَظِيمًا﴾ [سورة الأحزاب: 53] تک پہنچے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13360]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري، مسلم 1428»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13361
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعْدٍ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، أنبأ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَشْكُو زَيْنَبَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" اتَّقِ اللهَ وَأَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ" قَالَ أَنَسٌ: فَلَوْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَاتِمًا شَيْئًا لَكَتَمَ هَذِهِ قَالَ: فَكَانَتْ تَفْتَخِرُ عَلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ: زَوَّجَكُنَّ أَهَالِيكُنَّ وَزَوَّجَنِيَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ فَوْقِ سَبْعِ سَمَاوَاتٍ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی شکایت کر رہے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں فرما رہے تھے: ” ﴿أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ﴾ [سورة الأحزاب: 37] اللہ سے ڈرو اور اسے اپنی بیوی بنا کر رکھو۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی چیز چھپانے والے ہوتے تو وہ یہی بات تھی، اور سیدہ زینب رضی اللہ عنہا باقی بیویوں پر فخر کرتی تھیں کہ: ”تمہارا نکاح تمہارے گھر والوں نے کیا ہے اور میرا نکاح اللہ پاک نے سات آسمانوں کے اوپر کیا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13361]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13362
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عِيسَى بْنُ طَهْمَانَ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: كَانَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَفْتَخِرُ عَلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ: إِنَّ اللهَ أَنْكَحَنِي مِنَ السَّمَاءِ، وَفِيهَا نَزَلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ قَالَ: فَقَعَدَ الْقَوْمُ فِي بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ جَاءَ فَخَرَجَ، فَجَاءَ وَالْقَوْمُ كَمَا هُمْ، فَرُئِيَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ، فَنَزَلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ} [الأحزاب: ٥٣] رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ خَلَّادِ بْنِ يَحْيَى، عَنْ عِيسَى بْنِ طَهْمَانَ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا باقی بیویوں پر فخر کرتی تھیں کہ اللہ تعالیٰ نے میرا نکاح آسمان پر کیا ہے اور ان کے بارے میں پردے کی آیت نازل ہوئی۔ راوی کہتا ہے کہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے پھر واپس گئے، دوبارہ نکلے تو لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر ناگواری کے آثار دیکھے گئے، (اس وجہ سے) پردے کی آیت نازل ہوئی: ﴿یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُیُوتَ النَّبِیِّ إِلَّا أَنْ یُؤْذَنَ لَکُمْ﴾ [سورة الأحزاب: 53] ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13362]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں