السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2783. -- باب: كان ينام ولا يتوضأ
-- باب: آپ ﷺ سو جاتے اور (بیدار ہونے پر نیا) وضو نہیں فرماتے تھے
حدیث نمبر: 13385
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ حَسَنِ بْنِ مُهَاجِرٍ، ثنا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ: بِتُّ عِنْدَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ، فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَنِي، فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَصَلَّى فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، ثُمَّ نَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى نَفَخَ، وَكَانَ إِذَا نَامَ نَفَخَ، ثُمَّ أَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ فَخَرَجَ، فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ قَالَ عَمْرٌو: فَحَدَّثْتُ بِهَا بُكَيْرَ بْنَ الْأَشَجِّ فَقَالَ: حَدَّثَنِي كُرَيْبٌ بِذَلِكَ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَحْمَدَ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ هَارُونَ بْنِ سَعِيدٍ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رات گزاری اور اس رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پکڑا اور دائیں طرف کھڑا کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات تیرہ رکعات نماز پڑھیں، پھر سو گئے یہاں تک کہ سانس کی آواز آنے لگی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب سوتے تو سانس کی آواز آتی تھی، پھر مؤذن آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور نماز پڑھی، لیکن وضو نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13385]
تخریج الحدیث: «بخاري، مسلم 763»
الحكم على الحديث: بخاري، مسلم 763
حدیث نمبر: 13386
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، نا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ؟ فَقَالَتْ: مَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ، وَلَا فِي غَيْرِهِ عَلَى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يُصَلِّي أَرْبَعًا، فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا، فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ ثُمَّ يُصَلِّي ثَلَاثًا قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ أَتَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوتِرَ؟ فَقَالَ:" يَا عَائِشَةُ إِنَّ" عَيْنِيَّ تَنَامَانِ، وَلَا يَنَامُ قَلْبِي" لَفْظُ حَدِيثِ الْقَعْنَبِيِّ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْقَعْنَبِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
ابو سلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز رمضان میں کیسی تھی؟ تو انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم چار رکعت پڑھتے، نہ سوال کر ان کی خوبصورتی اور لمبائی کا، پھر چار رکعات پڑھتے اور نہ سوال کر ان کی خوبصورتی اور لمبائی کا، پھر تین رکعت پڑھتے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم وتر پڑھنے سے پہلے سوتے نہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن دل جاگتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13386]
تخریج الحدیث: «بخاري 1147۔ مسلم 738»
الحكم على الحديث: بخاري 1147
حدیث نمبر: 13387
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبِ بْنِ مُسْلِمٍ الْقُرَشِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، ثنا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يُحَدِّثُنَا عَنْ لَيْلَةِ أُسْرِيَ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَسْجِدِ الْكَعْبَةِ، أَنَّهُ جَاءَهُ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ قَبْلَ أَنْ يُوحَى إِلَيْهِ وَهُوَ نَائِمٌ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فَقَالَ أَوَّلُهُمْ: هُوَ هُوَ وَقَالَ أَوْسَطُهُمْ: هُوَ خَيْرُهُمْ وَقَالَ آخِرُهُمْ: خُذُوا خَيْرَهُمْ، ⦗١٠٠⦘ فَكَانَتْ تِلْكَ فَلَمْ يَرَهُمْ حَتَّى جَاءُوهُ لَيْلَةً أُخْرَى، فِيمَا يَرَى قَلْبُهُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَنَامُ عَيْنُهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ وَكَذَلِكَ الْأَنْبِيَاءُ عَلَيْهِمُ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ تَنَامُ أَعْيُنُهُمْ وَلَا تَنَامُ قُلُوبُهُمْ"، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ سُلَيْمَانَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ هَارُونَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
شریک بن عبداللہ بن ابی نمر کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا، وہ ہمیں معراج کی رات والی حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرما رہے تھے کہ تین بندے وحی کے نازل ہونے سے پہلے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد حرام میں سوئے ہوئے تھے۔ پہلے نے کہا: ”یہ وہی ہے۔“ درمیانے نے کہا: ”یہ ان میں سب سے بہتر ہے۔“
آخری نے کہا: ”اس بہترین کو پکڑ لو“، یہ اس رات کا واقعہ تھا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو نہیں دیکھا یہاں تک کہ وہ دوسری رات پھر آئے، اس حالت میں جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل دیکھ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں سوتی تھیں اور دل جاگتا تھا، اسی طرح تمام انبیاء کی آنکھیں سوتی اور دل جاگتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13387]
آخری نے کہا: ”اس بہترین کو پکڑ لو“، یہ اس رات کا واقعہ تھا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو نہیں دیکھا یہاں تک کہ وہ دوسری رات پھر آئے، اس حالت میں جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل دیکھ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں سوتی تھیں اور دل جاگتا تھا، اسی طرح تمام انبیاء کی آنکھیں سوتی اور دل جاگتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13387]
تخریج الحدیث: «بخاري 3570۔ مسلم 3570»
الحكم على الحديث: بخاري 3570