السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2794. -- باب: طعام الفجأة
-- باب: اچانک ملنے والے کھانے کا بیان
حدیث نمبر: Q13412
قَالَ أَبُو الْعَبَّاسِ: وَنَهَى عَنْ طَعَامِ الْفَجْأَةِ، وَلَقَدْ فَاجَأَ أَبُو الدَّرْدَاءِ عَلَى طَعَامِهِ، فَأَمَرَهُ بِأَكْلِهِ وَكَانَ ذَلِكَ لَهُ خَاصًّا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: أَنَا لَا أَحْفَظُ حَدِيثَ النَّهْيِ عَنْ طَعَامِ الْفَجْأَةِ هَكَذَا مِنْ وَجْهٍ يَثْبُتُ مِثْلُهُ وَالَّذِي أَحْفَظُهُ مِمَّا فِي بَعْضِ مَعْنَاهُ.
ابو العباس نے کہا: ”اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اچانک (بغیر دعوت کے) کھانے پر پہنچ جانے سے منع فرمایا، اور سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کھانے پر آ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کھانے کا حکم دیا، اور یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص تھا۔“
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ نے فرمایا: ”مجھے اچانک کھانے پر پہنچنے کی ممانعت والی حدیث اس طرح کسی ایسی سند سے یاد نہیں جس جیسی (سند) ثابت ہوتی ہو، اور جو مجھے یاد ہے وہ ان روایات میں سے ہے جو اس کے کچھ معنی میں ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: Q13412]
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ نے فرمایا: ”مجھے اچانک کھانے پر پہنچنے کی ممانعت والی حدیث اس طرح کسی ایسی سند سے یاد نہیں جس جیسی (سند) ثابت ہوتی ہو، اور جو مجھے یاد ہے وہ ان روایات میں سے ہے جو اس کے کچھ معنی میں ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: Q13412]
حدیث نمبر: 13412
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا دُرُسْتُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ طَارِقٍ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ دُعِيَ فَلَمْ يُجِبْ، فَقَدْ عَصَى اللهَ وَرَسُولَهُ، وَمَنْ دَخَلَ عَلَى غَيْرِ دَعْوَةٍ دَخَلَ سَارِقًا وَخَرَجَ مُغِيرًا" وَهَذَا وَرَدَ فِي الرَّجُلِ يَدْخُلُ عَلَى آخَرَ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ يَأْكُلُ لِيَأْكُلَ مَعَهُ، وَقَدْ رُوِيَ حَدِيثٌ بِنَفْيِ التَّخْصِيصِ الَّذِي تَوَهَّمَهُ أَبُو الْعَبَّاسِ فِي طَعَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قِصَّةِ أَبِي الدَّرْدَاءِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کو دعوت دی گئی اور اس نے قبول نہ کی، اس نے اللہ اور رسول کی نافرمانی کی ہے اور جو کوئی بغیر دعوت کے داخل ہو گیا وہ چور بن کر گیا اور ڈاکو بن کر نکلا۔“
یہ اس شخص کے بارے میں ہے جو کسی دوسرے کے پاس یہ جانتے ہوئے جاتا ہے کہ وہ کھانا کھا رہا ہے تاکہ اس کے ساتھ کھائے، اور ایک حدیث ایسی بھی روایت کی گئی ہے جو اس خصوصیت کی نفی کرتی ہے جس کا ابو العباس کو سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کے قصے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کھانے کے بارے میں وہم ہوا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13412]
یہ اس شخص کے بارے میں ہے جو کسی دوسرے کے پاس یہ جانتے ہوئے جاتا ہے کہ وہ کھانا کھا رہا ہے تاکہ اس کے ساتھ کھائے، اور ایک حدیث ایسی بھی روایت کی گئی ہے جو اس خصوصیت کی نفی کرتی ہے جس کا ابو العباس کو سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کے قصے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کھانے کے بارے میں وہم ہوا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13412]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13413
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ النَّسَوِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْعُكْبَرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ:" أَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا مِنْ شِعْبِ الْجَبَلِ، وَقَدْ قَضَى حَاجَتَهُ وَبَيْنَ أَيْدِينَا تَمْرٌ عَلَى تُرْسٍ أَوْ جَحْفَةٍ، فَدَعَوْنَاهُ إِلَيْهِ، فَأَكَلَ مَعَنَا وَمَا مَسَّ مَاءً" أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ.
جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم شعب جبل کی طرف گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قضائے حاجت کی اور ہماری لوہے یا چمڑے کی ڈھال پر کھجوریں پڑی ہوئی تھیں۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ساتھ کھایا اور پانی کو ہاتھ نہ لگایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13413]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13414
وَرُوِيَ ذَلِكَ أَيْضًا عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُمْ كَانُوا يَأْكُلُونَ تَمْرًا عَلَى تُرْسٍ قَالَ:" فَمَرَّ بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ جَاءَ مِنَ الْغَائِطِ، فَقُلْنَا: هَلُمَّ فَقَعَدَ فَأَكَلَ مَعَنَا مِنَ التَّمْرِ وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً" أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعِيدٍ الصَّيْرَفِيُّ، أنبأ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، نا سَعِيدُ بْنُ حَفْصٍ، ثنا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ فَذَكَرَهُ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ وہ لوگ ایک ڈھال پر کھجوریں کھا رہے تھے، انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس سے گزرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت سے آئے تھے، ہم نے عرض کیا: تشریف لائیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور ہمارے ساتھ کھجوریں کھائیں اور پانی کو ہاتھ نہ لگایا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13414]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13415
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، نا مُسَدَّدٌ، نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي زُبَيْدٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ السَّكَنِ، أَنَّ الْأَشْعَثَ بْنَ قَيْسٍ، دَخَلَ عَلَى عَبْدِ اللهِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَهُوَ يَأْكُلُ، فَقَالَ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ ادْنُهْ تَأْكُلْ، فَقَالَ:" إِنِّي صَائِمٌ قَالَ: كُنَّا نَصُومُهُ، ثُمَّ تُرِكَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرُهُ، عَنْ يَحْيَى وَفِي هَذَا أَخْبَارٌ كَثِيرَةٌ وَكُلُّ ذَلِكَ يَنْفِي التَّخْصِيصَ وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس عاشورا والے دن آئے اور وہ کھا رہے تھے، انہوں نے کہا: اے ابو محمد! قریب ہو اور کھاؤ، تو انہوں نے کہا: میں روزہ دار ہوں، انہوں نے فرمایا کہ ہم بھی (اس دن کا) روزہ رکھتے تھے، پھر چھوڑ دیا گیا۔
اس بارے میں بہت سی روایات ہیں اور وہ سب اس خصوصیت کی نفی کرتی ہیں، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13415]
اس بارے میں بہت سی روایات ہیں اور وہ سب اس خصوصیت کی نفی کرتی ہیں، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13415]