🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

2808. -- باب: من تخلى لعبادة الله إذا لم تتق نفسه إلى النكاح
-- باب: اس شخص کے لیے اللہ کی عبادت کے لیے یکسو ہو جانے کا بیان جس کا نفس نکاح کی طرف مائل نہ ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13482
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثنا بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَسَيِّدًا وَحَصُورًا} [آل عمران: ٣٩] قَالَ:" الْحَصُورُ الَّذِي لَا يَقْرَبُ النِّسَاءَ".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿وَسَيِّدًا وَحَصُورًا﴾ [سورة آل عمران: 39] کے بارے میں فرماتے ہیں کہ «الْحَصُورُ» وہ ہوتا ہے جو عورتوں کے قریب نہ جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13482]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13483
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ:" الْحَصُورُ الَّذِي لَا يَأْتِي النِّسَاءَ"، وَرُوِّينَا ذَلِكَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَعَنْ عِكْرِمَةَ.
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «الْحَصُورُ» وہ ہوتا ہے جو عورتوں کے پاس نہ آئے۔ اور یہی بات ابن عباس رضی اللہ عنہما اور عکرمہ سے بھی مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13483]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13484
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، مِنْ أَصْلِهِ ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ، ثنا مُجَاهِدٌ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: وَاللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ إِنْ كُنْتُ لَأَعْتَمِدُ بِكَبِدِي عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْجُوعِ، وَإِنْ كُنْتُ لَأَشُدُّ الْحَجَرَ عَلَى بَطْنِي مِنَ الْجُوعِ، وَلَقَدْ قَعَدْتُ يَوْمًا عَلَى طَرِيقِهِمُ الَّذِي يَخْرُجُونَ مِنْهُ فَمَرَّ بِي أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا سَأَلْتُهُ إِلَّا لِيَسْتَتْبِعَنِي، فَمَرَّ بِي وَلَمْ يَفْعَلْ، ثُمَّ مَرَّ بِي عُمَرُ فَسَأَلْتُهُ عَنْ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا سَأَلْتُهُ إِلَّا لِيَسْتَتْبِعَنِي، فَمَرَّ بِي وَلَمْ يَفْعَلْ، ثُمَّ مَرَّ بِي أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَبَسَّمَ حِينَ رَآنِي وَعَرَفَ مَا فِي نَفْسِي، وَمَا فِي وَجْهِي، ثُمَّ قَالَ:" يَا أَبَا هُرَيْرَةَ" فَقُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ:" الْحَقْ" وَمَضَى، فَاتَّبَعْتُهُ، فَدَخَلَ فَاسْتَأْذَنْتُ فَأَذِنَ لِي، فَدَخَلْتُ، فَوَجَدْتُ لَبَنًا فِي قَدَحٍ، فَقَالَ:" مِنْ أَيْنَ هَذَا اللَّبَنُ؟" قَالُوا: أَهْدَاهُ لَكَ فُلَانٌ أَوْ فُلَانَةُ قَالَ:" يَا أَبَا هُرَيْرَةَ"، فَقُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ:" الْحَقْ إِلَى أَهْلِ الصُّفَّةِ فَادْعُهُمْ لِي" قَالَ: وَأَهْلُ الصُّفَّةِ أَضْيَافُ الْإِسْلَامِ لَا يَأْوُونَ إِلَى أَهْلٍ، وَلَا مَالٍ، إِذَا أَتَتْهُ صَدَقَةٌ بَعَثَ بِهَا إِلَيْهِمْ، وَلَمْ يَتَنَاوَلْ مِنْهَا شَيْئًا، وَإِذَا أَتَتْهُ هَدِيَّةٌ أَرْسَلَ إِلَيْهِمْ، فَأَصَابَ مِنْهَا وَأَشْرَكَهُمْ فِيهَا، فَسَاءَنِي ذَلِكَ قُلْتُ: وَمَا هَذَا اللَّبَنُ فِي أَهْلِ الصُّفَّةِ؟ كُنْتُ أَرْجُو أَنْ أُصِيبَ مِنْ هَذَا اللَّبَنِ شَرْبَةً أَتَقَوَّى بِهَا وَأَنَا الرَّسُولُ، فَإِذَا جَاءُوا أَمَرَنِي أَنْ أُعْطِيَهُمْ، وَمَا عَسَى أَنْ يَبْلُغَنِي مِنْ هَذَا اللَّبَنِ، وَلَمْ يَكُنْ مِنْ طَاعَةِ اللهِ وَطَاعَةِ رَسُولِهِ بُدٌّ، فَأَتَيْتُهُمْ فَدَعَوْتُهُمْ، فَأَقْبَلُوا حَتَّى اسْتَأْذَنُوا فَأُذِنَ لَهُمْ وَأَخَذُوا مَجَالِسَهُمْ مِنَ الْبَيْتِ، فَقَالَ:" يَا أَبَا هُرَيْرَةَ" فَقُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ:" خُذْ فَأَعْطِهِمْ"، فَأَخَذْتُ الْقَدَحَ، فَجَعَلْتُ أُعْطِيهِ الرَّجُلَ، فَيَشْرَبُ حَتَّى يَرْوَى، ثُمَّ يَرِدُ عَلَى الْقَدَحِ فَأُعْطِيهِ الْآخَرَ، فَيَشْرَبُ حَتَّى يَرْوَى، ثُمَّ يَرِدُ عَلَى الْقَدَحِ حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ رَوِيَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ، فَأَخَذَ الْقَدَحَ، فَوَضَعَهُ عَلَى يَدِهِ وَنَظَرَ إِلِيَّ وَتَبَسَّمَ وَقَالَ:" يَا أَبَا هُرَيْرَةَ" فَقُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ:" بَقِيتُ أَنَا وَأَنْتَ"، قُلْتُ: صَدَقْتَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ:" اقْعُدْ فَاشْرَبْ"، فَقَعَدْتُ، فَشَرِبْتُ، فَقَالَ:" اشْرَبْ"، فَشَرِبْتُ، ثُمَّ قَالَ:" اشْرَبْ" فَشَرِبْتُ، فَمَا زَالَ يَقُولُ:" اشْرَبْ"، فَأَشْرَبُ حَتَّى قُلْتُ: لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَجِدُ لَهُ مَسْلَكًا قَالَ:" فَادْنُ"، فَأَعْطَيْتُهُ الْقَدَحَ، فَحَمِدَ اللهَ وَسَمَّى وَشَرِبَ الْفَضْلَةَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَالْمَوْضِعُ الْمَقْصُودُ مِنْ هَذَا الْخَبَرِ فِي هَذَا الْبَابِ قَوْلُهُ: وَأَهْلُ الصُّفَّةِ أَضْيَافُ الْإِسْلَامِ لَا يَأْوُونَ إِلَى أَهْلٍ وَلَا مَالٍ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! میں بھوک کی وجہ سے اپنا پیٹ زمین سے لگا دیتا تھا اور بھوک کی وجہ سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھ لیتا تھا، ایک دن میں اس راستے پر بیٹھ گیا جہاں سے لوگ نکل رہے تھے، ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گزرے۔ میں نے اللہ کی کتاب کی ایک آیت کے بارے میں سوال کیا تاکہ وہ مجھے کچھ دیں تو وہ گزر گئے اور انہوں نے کچھ بھی نہ کہا۔ عمر رضی اللہ عنہ گزرے، میں نے ان سے سوال کیا وہ بھی گزر گئے اور کچھ نہ دیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے جب مجھے دیکھا اور فرمایا: ”آؤ۔“ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم داخل ہوئے میں نے بھی اجازت طلب کی اور اجازت مل گئی۔ میں نے دودھ کا ایک پیالہ پایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ پیالہ کہاں سے آیا ہے؟“ جواب ملا کہ فلاں مرد یا عورت نے تحفہ بھیجا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوہریرہ! جاؤ اہل صفہ کو بلا کر لاؤ۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اہل صفہ اسلام کے مہمان تھے، ان کا نہ کوئی گھر تھا اور نہ مال۔ جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صدقہ آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے ان کی طرف بھیج دیتے اور خود اس میں سے کچھ نہ لیتے، اور جب ہدیہ آتا تو ان کی طرف پیغام بھیجتے، خود بھی اس میں سے لیتے اور ان کو بھی شریک کرتے۔ یہ بات مجھ پر گراں گزری، یہ ایک پیالہ ہے، مجھے تو اس میں سے صرف ایک گھونٹ ملے گا۔ میں ان کو بلا کر لے آیا، جب وہ آ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں ان میں سے ہر ایک کو دودھ پیش کروں۔ مجھے یہ لگتا تھا کہ مجھے نہیں ملے گا لیکن اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ماننا بھی ضروری تھا، جب وہ آئے انہوں نے اجازت طلب کی، اجازت دے دی گئی اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں مجلس بنا کر بیٹھ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوہریرہ!“ میں نے عرض کیا: حاضر اے اللہ کے رسول! فرمایا: ”پکڑو اور ان کو دو۔“ میں نے پیالہ پکڑا اور آدمی کو دے دیا، اس نے پیا یہاں تک کہ وہ سیر ہو گیا، پھر میں نے دوسرے کو پیالہ دیا وہ بھی سیر ہو گیا۔ پھر میں پیالہ لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تمام لوگ سیر ہو چکے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالہ پکڑا، اس کو اپنے ہاتھ پر رکھا اور میری طرف دیکھ کر مسکرانے لگے اور فرمایا: ”اے ابوہریرہ!“ میں نے عرض کیا: حاضر اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! فرمایا: ”میں اور تم باقی رہ گئے ہیں۔“ میں نے عرض کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ اور پینا شروع کرو۔“ فرماتے ہیں کہ میں بیٹھ گیا اور پینا شروع کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور پیو۔“ میں نے پیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”اور پیو۔“ میں پیتا گیا یہاں تک کہ میں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق دے کر بھیجا ہے، میں اس کی مزید جگہ نہیں پاتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو قریب آ جاؤ۔“ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیالہ دے دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی تعریف بیان کی اور «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام سے“ پڑھی اور بچا ہوا دودھ پی لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13484]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 5375»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13485
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ ⦗١٣٥⦘ الْمُغِيرَةِ السُّكَّرِيُّ، بِهَمَذَانَ ثنا الْقَاسِمُ بْنُ الْحَكَمِ الْعُرَنِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْيَمَامِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ أَنَا فُلَانَةُ بِنْتُ فُلَانٍ قَالَ:" قَدْ عَرَفْتُكِ فَمَا حَاجَتُكِ؟" قَالَتْ: حَاجَتِي إِلَى ابْنِ عَمِّي فُلَانٍ الْعَابِدِ قَالَ:" قَدْ عَرَفْتُهُ" قَالَتْ: يَخْطُبُنِي فَأَخْبِرْنِي مَا حَقُّ الزَّوْجِ عَلَى الزَّوْجَةِ، فَإِنْ كَانَ شَيْئًا أُطِيقُهُ تَزَوَّجْتُهُ، وَإِنْ لَمْ أُطِقْ لَا أَتَزَوَّجُ قَالَ:" مِنْ حَقِّ الزَّوْجِ عَلَى الزَّوْجَةِ أَنْ لَوْ سَالَ مَنْخِرَاهُ دَمًا وَقَيْحًا وَصَدِيدًا، فَلَحَسَتْهُ بِلِسَانِهَا مَا أَدَّتْ حَقَّهُ لَوْ كَانَ يَنْبَغِي لِبَشَرٍ أَنْ يَسْجُدَ لِبَشَرٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا إِذَا دَخَلَ عَلَيْهَا؛ لِمَا فَضَّلَهُ اللهُ عَلَيْهَا" قَالَتْ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَتَزَوَّجُ مَا بَقِيتُ فِي الدُّنْيَا.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں فلاں کی بیٹی فلاں ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تجھے پہچان لیا ہے، کیا کام ہے؟“ عرض کیا: میرے چچا کے بیٹے نے مجھے منگنی کا پیغام دیا ہے۔ مجھے یہ بتائیے کہ خاوند کا بیوی پر کیا حق ہے؟ اگر تو میں اس کی طاقت رکھتی ہوں گی تو میں شادی کروں گی وگرنہ نہیں کروں گی۔ فرمایا: ”خاوند کا حق بیوی کے ذمے ہے کہ اگر اس سے خون، الٹی یا پیپ وغیرہ بہہ رہی ہو اور عورت اس کو اپنی زبان سے چاٹ لے تو پھر بھی اپنے خاوند کا حق ادا نہیں کرسکتی۔ اگر کسی انسان کو سجدہ لائق ہوتا تو میں بیوی کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔ جب وہ اس پر داخل ہوتا۔ جس کی وجہ سے اللہ نے اس کو عورت پر افضل کیا ہے۔“ تو اس عورت نے کہا: مجھے اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے میں کبھی بھی شادی نہیں کروں گی۔ [صحیح لغیرہ] [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13485]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں