السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2829. -- باب: ما جاء في النظر إلى الغلام الأمرد بالشهوة
-- باب: بے ریش لڑکے کی طرف شہوت سے دیکھنے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: Q13567
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ} [النور: 30] .
اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ﴾ ”مومن مردوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔“ [سورة النور: 30] [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: Q13567]
حدیث نمبر: 13567
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا ⦗١٦٠⦘ الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ شَمَّاسٍ، ثنا بَقِيَّةُ، عَنِ الْوَضِينِ، عَنْ بَعْضِ الْمَشْيَخَةِ قَالَ:" كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يُحَدَّ النَّظَرُ إِلَى الْغُلَامِ الْأَمْرَدِ الْجَمِيلِ الْوَجْهِ" وَقَدْ رُوِيَ هَذَا عَنْ بَقِيَّةَ، عَنِ الْوَزَّاعِ بْنِ نَافِعٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَرْفُوعًا بِبَعْضِ مَعْنَاهُ، وَالْمَشْهُورُ عَنْ بَقِيَّةَ مَا ذَكَرْنَاهُ، وَرَوَى أَبُو حَفْصٍ عُمَرُ الطَّحَّانُ فِي مَعْنَاهُ حَدِيثًا مَوْضُوعًا، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَرْفُوعًا، وَفِيمَا ذَكَرْنَا مِنَ الْآيَةِ غُنْيَةٌ عَنْ غَيْرِهَا وَفِتْنَتُهُ ظَاهِرَةٌ لَا تَحْتَاجُ إِلَى خَبَرٍ يُبَيِّنُهَا، وَبِاللهِ تَعَالَى التَّوْفِيقُ، وَاللهُ سُبْحَانَهُ أَعْلَمُ.
وضین رحمہ اللہ بعض مشائخ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ خوبصورت چہرے والے بے ریش لڑکے کی طرف ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے کو مکروہ سمجھتے تھے۔
یہ روایت بقیہ سے، وہ وزاع بن نافع سے (اور وہ ضعیف ہے)، وہ ابوسلمہ سے اور وہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً اس کے بعض معنی کے ساتھ بھی مروی ہے، لیکن بقیہ سے مشہور وہی ہے جو ہم نے ذکر کیا۔ اور ابوحفص عمر طحان نے اسی معنی میں ایک موضوع (من گھڑت) حدیث ثوری سے، انہوں نے اعمش سے، انہوں نے ابوصالح سے اور انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کی ہے۔ اور جو آیت ہم نے ذکر کی ہے وہ دوسری چیزوں سے بے نیاز کر دیتی ہے، اور اس کا فتنہ ظاہر ہے جسے واضح کرنے کے لیے کسی روایت کی ضرورت نہیں۔ و باللہ التوفیق، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13567]
یہ روایت بقیہ سے، وہ وزاع بن نافع سے (اور وہ ضعیف ہے)، وہ ابوسلمہ سے اور وہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً اس کے بعض معنی کے ساتھ بھی مروی ہے، لیکن بقیہ سے مشہور وہی ہے جو ہم نے ذکر کیا۔ اور ابوحفص عمر طحان نے اسی معنی میں ایک موضوع (من گھڑت) حدیث ثوری سے، انہوں نے اعمش سے، انہوں نے ابوصالح سے اور انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کی ہے۔ اور جو آیت ہم نے ذکر کی ہے وہ دوسری چیزوں سے بے نیاز کر دیتی ہے، اور اس کا فتنہ ظاہر ہے جسے واضح کرنے کے لیے کسی روایت کی ضرورت نہیں۔ و باللہ التوفیق، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13567]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف