🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

2837. -- باب: ما جاء في قبلة الجسد
-- باب: جسم کو چومنے کے متعلق جو مروی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13586
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، ثنا خَالِدٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَمَا هُوَ يُحَدِّثُ الْقَوْمَ، وَكَانَ فِيهِ مِزَاحٌ بَيْنَا يُضْحِكُهُمْ، فَطَعَنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَاصِرَتِهِ بِعُودٍ، فَقَالَ:" أَصْبِرْنِي" قَالَ: اصْطَبِرْ قَالَ:" إِنَّ عَلَيْكَ قَمِيصًا وَلَيْسَ عَلَيَّ قَمِيصٌ"، فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَمِيصٍ، فَاحْتَضَنَهُ، وَجَعَلَ يُقَبِّلُ كَشْحَهُ قَالَ: إِنَّمَا أَرَدْتُ هَذَا يَا رَسُولَ اللهِ قَوْلُهُ أَصْبِرْنِي يُرِيدُ أَقِدْنِي مِنْ نَفْسِكَ، وَقَوْلُهُ اصْطَبِرْ مَعْنَاهُ اسْتَقِدْ".
سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جو انصار کے ایک آدمی تھے، کہ وہ ایک دن لوگوں سے باتیں کر رہے تھے اور ان میں مزاح تھا، لوگوں کو ہنسا رہے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لکڑی کے ساتھ ان کے پہلو میں کچوکا لگایا تو انہوں نے کہا: ”کیا میں اس کا بدلہ لوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بدلہ لے لو۔“ انہوں نے کہا: ”آپ کے بدن پر قمیص ہے اور میرا بدن بغیر قمیص کے تھا“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قمیص اٹھا دی تو انہوں نے آپ کو پکڑ لیا اور آپ کے پہلو کو چومنے لگے اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! میرا تو صرف یہی (آپ کا بدن چومنے کا) ارادہ تھا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13586]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13587
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، ثنا مَطَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْنَقُ قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ أَبَانَ بِنْتُ الْوَازِعِ بْنِ زَارِعٍ، عَنْ جَدِّهَا زَارِعٍ، فَكَانَ فِي وَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ قَالَ: فَجَعَلْنَا نَتَبَادَرُ مِنْ رَوَاحِلِنَا، فَنُقَبِّلُ يَدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِجْلَهُ، وَانْتَظَرَ الْمُنْذِرُ الْأَشَجُّ حَتَّى أَتَى عَيْبَتَهُ، فَلَبِسَ ثَوْبَيْهِ، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ:" إِنَّ فِيكَ خَلَّتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللهُ الْحِلْمُ، وَالْأَنَاةُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَنَا أَتَخَلَّقُ بِهِمَا أَمِ اللهُ جَبَلَنِي عَلَيْهِمَا؟ قَالَ: بَلْ جَبَلَكَ اللهُ عَلَيْهِمَا قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَبَلَنِي عَلَى خَلَّتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللهُ وَرَسُولُهُ" وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا زراع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ وفد عبد القیس میں شامل تھے، وہ کہتے ہیں کہ ہم اپنی سواریوں سے سبقت کرتے ہوئے اترے تاکہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ اور پاؤں کا بوسہ لیں۔ سیدنا منذر اشج رضی اللہ عنہ نے انتظار کیا، یہاں تک کہ وہ اپنے تھیلے کے پاس آئے تو انھوں نے (اس میں سے نکال کر) کپڑے پہنے، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھ میں دو خصلتیں ایسی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ پسند فرماتے ہیں، وہ «الْحِلْمُ» ”حلم“ اور «الْأَنَاةُ» ”اناۃ“ ہیں۔“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا مجھے وہ دونوں (اب) عطا ہوں گی یا اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ خصلتیں عادتاً عطا کی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ تجھے اللہ تعالیٰ نے وہ دونوں جبلتاً دی ہیں۔“ وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ تعالیٰ کا ان دو اچھی صفات کے عطا کرنے پر شکر ادا کیا کہ وہ دونوں خصلتیں اللہ اور اس کے رسول کو پسند ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13587]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں