🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

2840. -- باب: لا نكاح إلا بولي
-- باب: اس فرمانِ نبوی ﷺ ”ولی (سرپرست) کے بغیر کوئی نکاح درست نہیں“ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13636
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ أَبُو الشَّيْخِ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَاوُدَ مِنْ لَفْظِهِ ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ يَحْيَى، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا عَنْبَسَةُ، جَمِيعًا عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ عَنْبَسَةَ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ قَالَ: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ شِهَابٍ، ⦗١٧٩⦘ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ:" أَنَّ النِّكَاحَ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ عَلَى أَرْبَعَةِ أَنْحَاءٍ، فَنِكَاحٌ مِنْهَا نِكَاحُ النَّاسِ الْيَوْمَ يَخْطُبُ الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ وَلِيدَتَهُ - وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ وَهْبٍ: وَلِيَّتَهُ - فَيُصْدِقُهَا ثُمَّ يَنْكِحُهَا، وَنِكَاحٌ آخَرُ كَانَ الرَّجُلُ يَقُولُ لِامْرَأَتِهِ: إِذَا طَهُرَتْ مِنْ طَمَثِهَا أَرْسِلِي إِلَى فُلَانٍ اسْتَبْضِعِي مِنْهُ، وَيَعْتَزِلُهَا زَوْجُهَا، وَلَا يَمَسُّهَا أَبَدًا حَتَّى يَتَبَيَّنَ حَمْلُهَا مِنْ ذَلِكَ الرَّجُلِ الَّذِي يَسْتَبْضِعُ مِنْهُ، فَإِذَا تَبَيَّنَ حَمْلَهَا أَصَابَهَا زَوْجُهَا إِنْ أَحَبَّ، وَإِنَّمَا يَصْنَعُ ذَلِكَ رَغْبَةً فِي نَجَابَةِ الْوَلَدِ، فَكَانَ هَذَا النِّكَاحُ نِكَاحَ الِاسْتِبْضَاعِ، وَنِكَاحٌ آخَرُ يَجْتَمِعُ فِيهِ الرَّهْطُ دُونَ الْعَشَرَةِ، فَيَدْخُلُونَ عَلَى الْمَرْأَةِ كُلُّهُمْ يُصِيبُهَا، فَإِذَا حَمَلَتْ وَوَضَعَتْ وَمَرَّ لَيَالِي بَعْدَ أَنْ تَضَعَ حَمْلَهَا أَرْسَلَتْ إِلَيْهِمْ، فَلَمْ يَسْتَطِعْ رَجُلٌ مِنْهُمْ أَنْ يَمْتَنِعَ حَتَّى يَجْتَمِعُوا عِنْدَهَا، فَتَقُولُ لَهُمْ: قَدْ عَرَفْتُمُ الَّذِي كَانَ مِنْ أَمْرِكُمْ وَقَدْ وَلَدْتُ وَهَذَا ابْنُكَ يَا فُلَانُ، فَتُسَمِّي مَنْ أَحَبَّتْ مِنْهُمْ بِاسْمِهِ، فَيَلْحَقُ بِهِ وَلَدُهَا، وَالنِّكَاحُ الرَّابِعُ يَجْتَمِعُ النَّاسُ الْكَثِيرُ، فَيَدْخُلُونَ عَلَى الْمَرْأَةِ، لَا تَمْتَنِعُ مِمَّنْ جَاءَهَا، وَهُنَّ الْبَغَايَا هُنَّ يَنْصِبْنَ عَلَى أَبْوَابِهِنَّ رَايَاتٍ يَكُنَّ عَلَمًا لِمَنْ أَرَادَهُنَّ دَخَلَ عَلَيْهِنَّ، فَإِذَا حَمَلَتْ، فَوَضَعَتْ حَمْلَهَا جَمَعُوا لَهَا، وَدَعُوا لَهُمُ الْقَافَةَ، ثُمَّ أَلْحَقُوا وَلَدَهَا بِالَّذِي يَرَوْنَ، فَالْتَطَاهُ وَدَعِيُّ ابْنِهِ، لَا يَمْتَنِعُ مِنْ ذَلِكَ، فَلَمَّا بَعَثَ اللهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ أَبْطَلَ وَهَدَمَ نِكَاحَ الْجَاهِلِيَّةِ، إِلَّا نِكَاحَ الْإِسْلَامِ الْيَوْمَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَنْبَسَةَ، قَالَ: وَقَالَ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ فَذَكَرَهُ.
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں نکاح چار طرح ہوتے تھے: ایک صورت تو یہی تھی جیسے آج کل لوگ کرتے ہیں، ایک شخص دوسرے کے پاس اس کی زیرِ پرورش لڑکی یا اس کی بیٹی کے ہاں نکاح کا پیغام بھیجتا اور اس کا مہر دے کر اس سے نکاح کرتا۔ دوسرا نکاح یہ تھا کہ کوئی شوہر اپنی بیوی سے کہتا جب وہ حیض سے پاک ہو جاتی کہ: ”تو فلاں کے پاس چلی جا اور اس سے وطی کر۔“ اس مدت میں شوہر اس سے جدا رہتا اور اسے ہاتھ تک نہ لگاتا، پھر جب اس غیر مرد سے اس کا حمل ظاہر ہو جاتا جس سے وہ عارضی طور پر محبت کرتی تو حمل کے ظاہر ہونے کے بعد اس کا شوہر اگر چاہتا تو اس سے صحبت کرتا، ایسا اس لیے کرتے تھے تاکہ ان کا بچہ شریف اور عمدہ پیدا ہو۔ یہ نکاح «نِکَاحُ الِاسْتِبْضَاعِ» ”نکاح استبضاع“ کہلاتا تھا۔ تیسری قسم نکاح کی یہ تھی کہ چند آدمی جو تعداد میں دس سے کم ہوتے کسی ایک عورت کے پاس آنا جانا رکھتے اور اس سے صحبت کرتے، پھر جب وہ عورت حاملہ ہوتی اور بچہ جنتی تو وضعِ حمل پر چند دن گزرنے کے بعد وہ عورت اپنے ان عام مردوں کو بلاتی۔ اس موقع پر ان میں سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا تھا، چنانچہ وہ سب اس عورت کے پاس جمع ہو جاتے، وہ کہتی: ”اے فلاں! یہ بچہ تمہارا ہے“، وہ جس کا چاہتی نام لے دیتی اور وہ لڑکا اسی کا سمجھا جاتا۔ وہ شخص اس (بات) سے انکار کی جرات نہیں کر سکتا تھا۔ چوتھا نکاح یوں تھا کہ بہت سی عورتیں (زنا کے عوض پیسے لینے والی) ہوتی تھیں، اس طرح کی عورتیں اپنے دروازوں پر جھنڈے لگائے رکھتی تھیں جو نشانی سمجھے جاتے تھے، جو بھی چاہتا ان کے پاس جاتا، اس طرح کی عورت جب حاملہ ہوتی اور بچہ جنتی تو اس کے پاس آنے جانے والے جمع ہوتے اور کسی قیافہ جاننے والے کو بلاتے اور بچے کا ناک نقشہ اور وضع قطع جس سے ملتا جلتا ہوتا اس عورت کے اس لڑکے کو اسی کے ساتھ منسوب کر دیتے اور وہ بچہ اس کا بیٹا کہا جاتا۔ اس سے کوئی انکار نہیں کرتا تھا، پھر جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم حق کے ساتھ رسول بن کر مبعوث ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جاہلیت کے تمام نکاحوں کو باطل قرار دے دیا اور صرف اس نکاح کو باقی رکھا جس کا آج کل رواج ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13636]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 5217»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13637
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنْ عِمْرَانَ الْقَصِيرِ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" أَيُّمَا امْرَأَةٍ لَمْ يُنْكِحْهَا الْوَلِيُّ، أَوِ الْوُلَاةُ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ".
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کوئی بھی عورت جس کا نکاح ولی نہ کریں (اور وہ اپنا نکاح خود کر لے) تو اس کا نکاح باطل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13637]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13638
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عُمَيْرٍ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" رَدَّ نِكَاحَ امْرَأَةٍ نُكِحَتْ بِغَيْرِ وَلِيٍّ".
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس عورت کا نکاح مردود قرار دیا، جس نے ولی کے بغیر نکاح کیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13638]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13639
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا رَوْحٌ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ قَالَ: جَمَعْتُ الطَّرِيقَ رَكْبًا،" فَجَعَلَتِ امْرَأَةٌ ثَيِّبٌ أَمْرَهَا بِيَدِ رَجُلٍ غَيْرِ وَلِيٍّ فَأَنْكَحَهَا، فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَجَلَدَ النَّاكِحَ وَالْمُنْكِحَ، وَرَدَّ نِكَاحَهَا".
عکرمہ بن خالد فرماتے ہیں کہ راستے میں کچھ سوار جمع ہوئے تو ان میں سے ایک بیوہ عورت نے اپنا ہاتھ ولی کے علاوہ دوسرے کو دیا کہ وہ اس کا نکاح کر دے تو اس نے اس کا نکاح کر دیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس واقعہ کا علم ہوا تو انہوں نے دونوں کو کوڑے لگائے اور دونوں کا نکاح مردود قرار دے دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13639]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13640
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا ⦗١٨٠⦘ يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، يَقُولُ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" لَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ، إِلَّا بِإِذْنِ وَلِيِّهَا أَوْ ذِي الرَّأْيِ مِنْ أَهْلِهَا أَوِ السُّلْطَانِ".
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عورت کا نکاح صرف اس کے ولی کی اجازت سے، یا اس کے خاندان کے کسی صاحبِ رائے کی اجازت سے، یا سلطان کی اجازت سے کیا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13640]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13641
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ مُقَرِّنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَكَحَتْ بِغَيْرِ إِذَنْ وَلِيِّهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، لَا نِكَاحَ إِلَّا بِإِذْنِ وَلِيٍّ" هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِأَسَانِيدَ أُخَرَ، وَإِنْ كَانَ الِاعْتِمَادُ عَلَى هَذَا دُونَهَا.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس عورت نے بھی اپنا نکاح ولی کی اجازت کے بغیر کیا اس کا نکاح باطل ہے، نکاح صرف ولی کی اجازت سے ہے۔
یہ سند صحیح ہے، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یہ دوسری اسانید سے بھی مروی ہے، اگرچہ اعتماد ان کے بجائے اسی (سند) پر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13641]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13642
مِنْهَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو إِسْحَاقَ بْنُ رَجَاءٍ الثَّرَارَنِيُّ، ثنا أَبُو الْحُسَيْنِ الْمُغَازِيُّ الطَّبَرِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ عُمَرَ، وَعَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَشُرَيْحًا، وَمَسْرُوقًا رَحِمَهُمَا اللهُ، قَالُوا:" لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ".
شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما، شریح اور مسروق رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13642]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13643
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْإِسْفِرَايِينِيُّ، أنبأ زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ زِيَادٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَفَّانُ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا مُجَالِدٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ وَعَبْدُ اللهِ، وَشُرَيْحٌ:" لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ".
شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا علی اور عبداللہ رضی اللہ عنہما اور شریح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13643]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13644
وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ أَنَّهُ قَالَ:" مَا كَانَ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ فِي النِّكَاحِ بِغَيْرِ وَلِيٍّ مِنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَتَّى كَانَ يَضْرِبُ فِيهِ"، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو خَالِدٍ، ثنا مُجَالِدٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ فَذَكَرَهُ.
ایک دوسری سند سے شعبی سے روایت ہے کہ اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں سے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر ”ولی کے بغیر نکاح نہیں“ میں کوئی سخت نہ تھا، یہاں تک کہ وہ اس معاملے میں حد نافذ کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13644]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13645
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الرَّيِّسُ بِالرِّيِّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ ⦗١٨١⦘ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، وَعُبَيْدُ بْنُ زِيَادٍ الْفَرَّاءُ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ، وَلَا نِكَاحَ إِلَّا بِشُهُودٍ" رَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ حَجَّاجٍ، وَقَالَ:" لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ وَشَاهِدَيْ عَدْلٍ" وَهَذَا شَاهِدٌ لِرِوَايَةِ مُجَالِدٍ، وَرُوِّينَاهُ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ عَلِيٍّ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ولی اور گواہوں کی غیر موجودگی میں نکاح نہیں ہوتا۔ ہارون والی روایت میں ہے کہ ولی کی اجازت کے بغیر اور دو عادل گواہوں کی موجودگی کے بغیر نکاح نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13645]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره دون قول (وَلاَ نِكَاحَ إِلاَّ بِشُهُودٍ)»

الحكم على الحديث: حسن لغيره دون قول (وَلاَ نِكَاحَ إِلاَّ بِشُهُودٍ)
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں