🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

2851. -- باب: النكاح وملك اليمين لا يجتمعان
-- باب: اس بیان میں کہ نکاح اور ملکِ یمین (حقِ ملکیت) دونوں بیک وقت ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13735
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْعَبْدَوِيُّ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ حَمْزَةَ الْهَرَوِيُّ، أنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا هُشَيْمٌ، نا حُصَيْنٌ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أُتِيَ بِامْرَأَةٍ تَزَوَّجَتْ عَبْدًا لَهَا، فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ: أَلَيْسَ اللهُ تَعَالَى يَقُولُ فِي كِتَابِهِ: {أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ} [النساء: ٣] ، فَضَرَبَهُمَا وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا وَكَتَبَ إِلَى أَهْلِ الْأَمْصَارِ:" أَيُّمَا امْرَأَةٍ تَزَوَّجَتْ عَبْدًا لَهَا أَوْ تَزَوَّجَتْ بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ أَوْ وَلِيٍّ فَاضْرِبُوهُمَا الْحَدَّ".
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت کو لایا گیا جس نے اپنے غلام سے شادی کر لی تھی، عورت نے کہا: کیا اللہ پاک نے قرآن مجید میں ارشاد نہیں فرمایا: ﴿أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾ [سورة النساء: 3] ”جو مالک ہوئے تمہارے دائیں ہاتھ کے۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں پر حد لگائی اور ان کے درمیان تفریق ڈال دی اور گورنروں کی طرف یہ خط لکھا کہ جو عورت بھی اپنے غلام سے شادی کرے یا بغیر دلیل کے شادی کرے یا ولی کے بغیر تو ان دونوں پر حد نافذ کرو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13735]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13736
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ، أنبأ أَحْمَدُ، ثنا سَعِيدٌ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" أُتِيَ بِامْرَأَةٍ قَدْ تَزَوَّجَتْ عَبْدَهَا فَعَاقَبَهَا وَفَرَّقَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ عَبْدِهَا وَحَرَّمَ عَلَيْهَا الْأَزْوَاجَ عُقُوبَةً لَهَا" وَهُمَا مُرْسَلَانِ يُؤَكِّدُ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ.
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت کو لایا گیا جس نے اپنے غلام سے شادی کر لی تھی، آپ رضی اللہ عنہ نے اسے سزا دی اور ان دونوں کے درمیان تفریق کر دی اور اس کو سزا دینے کے لیے اس پر (دوسرے) خاوندوں کو حرام قرار دے دیا۔
یہ دونوں روایتیں مرسل ہیں، ان میں سے ہر ایک دوسری کی تائید کرتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13736]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13737
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا ⦗٢٠٧⦘ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبَّادٌ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلَاسٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ امْرَأَةً وَرِثَتْ مِنْ زَوْجِهَا شِقْصًا، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ:" هَلْ غَشِيتَهَا؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" لَوْ كُنْتَ غَشِيتَهَا لَرَجَمْتُكَ بِالْحِجَارَةِ"، ثُمَّ قَالَ:" هُوَ عَبْدُكِ إِنْ شِئْتِ بِعْتِيهِ، وَإِنْ شِئْتِ وَهَبْتِيهِ، وَإِنْ شِئْتِ أَعْتَقْتِيهِ، وَتَزَوَّجْتِيهِ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت اپنے خاوند کے مال میں ایک غلام کی وارث بنی تو یہ معاملہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا گیا تو انہوں نے (اس غلام سے) کہا: کیا تو نے اس سے ہم بستری کی؟ اس نے کہا: نہیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تو نے ہم بستری کی ہوتی تو میں تجھ کو سنگسار کر دیتا، پھر اس عورت سے کہا: وہ تیرا غلام ہے اگر چاہے تو بیچ دے اگر چاہے ہبہ کر دے اگر چاہے تو اس کو آزاد کر کے اس سے شادی کر لے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13737]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں