🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

2875. -- باب: لا نكاح لمن لم يولد
-- باب: اس بیان میں کہ جو ابھی پیدا نہیں ہوا اس کا کوئی نکاح نہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13824
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا مَالِكُ بْنُ يَحْيَى، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ مِقْسَمٍ وَهُوَ ابْنُ ضَبَّةَ قَالَ: حَدَّثَتْنِي عَمَّتِي سَارَةُ بِنْتُ مِقْسَمٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ كَرْدَمٍ قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ، وَهُوَ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ، وَأَنَا مَعَ أَبِي، وَبِيَدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِرَّةٌ كَدِرَّةِ الْكُتَّابِ، فَسَمِعْتُ الْأَعْرَابَ وَالنَّاسَ يَقُولُونَ: الطَّبْطَبِيَّةَ الطَّبْطَبِيَّةَ، فَدَنَا مِنْهُ أَبِي، فَأَخَذَ بِقَدَمِهِ وَأَقَرَّ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: فَمَا نَسِيتُ طُولَ أُصْبُعِ قَدَمِهِ السَّبَّابَةِ عَلَى سَائِرِ أَصَابِعِهِ قَالَ: فَقَالَ لَهُ: إِنِّي شَهِدْتُ جَيْشَ عَثْرَانَ قَالَتْ: فَعَرَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ الْجَيْشَ، فَقَالَ طَارِقُ بْنُ الْمُرَقَّعِ: مَنْ يُعْطِينِي رُمْحًا بِثَوَابِهِ قَالَ: فَقُلْتُ: وَمَا ثَوَابُهُ قَالَ: أُزَوِّجُهُ أَوَّلَ ابْنَةٍ تَكُونُ لِي قَالَ: فَأَعْطَيْتُهُ رُمْحِي، ثُمَّ تَرَكْتُهُ حَتَّى وُلِدَ لَهُ ابْنَةٌ وَبَلَغَتْ، فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: جَهِّزْ إِلِيَّ أَهْلِي، قَالَ: لَا وَاللهِ لَا أُجَهِّزُهَا حَتَّى تُحْدِثَ صَدَاقًا غَيْرَ ذَلِكَ، فَحَلَفْتُ أَنْ لَا أَفْعَلَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَبِقَرْنِ أِيِّ النِّسَاءِ هِيَ؟" قُلْتُ: قَدْ رَأَتِ الْقَتِيرَ قَالَ: فَنَظَرَ إِلِيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ:" دَعْهَا لَا خَيْرَ لَكَ فِيهَا" قَالَ: فَرَاعَنِي ذَلِكَ وَنَظَرَ إِلِيَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَأْثَمُ وَلَا يَأْثَمُ"، وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ".
سیدہ میمونہ بنت کردم رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ تھی کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ میں اپنی اونٹنی پر سوار دیکھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں مکتب کے استاد کے درے جیسا ایک درہ تھا۔ میں نے دیہاتیوں اور لوگوں کو سنا وہ کہہ رہے تھے: قدموں کی چاپ، قدموں کی چاپ۔ میرے والد نے قریب ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قدم پکڑ لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایسا کرنے دیا۔ میمونہ رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں کی سبابہ انگلی، جو پاؤں کی تمام انگلیوں سے زیادہ لمبی تھی، اس کو نہ بھولی۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: میں جیشِ عثران میں تھا۔ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس لشکر کو پہچانتے تھے تو طارق بن مرقع نے کہا: کون مجھے اچھے بدلے کے عوض نیزہ دے گا۔ میں نے کہا: اس کا بدلہ کیا ہوگا؟ اس نے کہا: جو میری پہلی بیٹی ہوگی اس کا نکاح دے دوں گا۔ کردم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اس کو اپنا نیزہ دے دیا، اس کے ہاں بیٹی پیدا ہو کر بالغ ہوگئی۔ میں نے آکر کہہ دیا کہ میری گھر والی کو میرے لیے تیار کرو تو طارق کہنے لگے: اس کے علاوہ حق مہر دو تو تیار کر دیتا ہوں وگرنہ اللہ کی قسم! ایسا نہ کروں گا۔ میں نے بھی قسم اٹھا کر کہا: ایسا نہ کروں گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”یہ عورتوں میں سے کس کے مماثل ہے؟“ میں نے عرض کیا: اس نے بڑھاپے کی ابتدا کو دیکھ لیا ہے۔ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف دیکھا اور فرمایا: ”اس کو چھوڑ دو، آپ کے لیے اس میں بھلائی نہیں ہے“۔ کہتے ہیں: اس نے مجھے ڈرایا اور میری طرف دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ آپ گناہ گار ہوں گے اور نہ وہ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13824]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13825
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ، أَنَّ خَالَتَهُ، أَخْبَرَتْهُ عَنِ امْرَأَةٍ قَالَ: هِيَ مُصَدَّقَةٌ امْرَأَةُ صِدْقٍ قَالَتْ:" بَيْنَا أَنَا فِي غَزَاةٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذْ رَمِضُوا، فَقَالَ رَجُلٌ: مَنْ يُعْطِينِي نَعْلَيْهِ وَأُنْكِحَهُ أَوَّلَ بِنْتٍ تُولَدُ لِي؟ فَخَلَعَ أَبِي نَعْلَيْهِ، فَأَلْقَاهُمَا إِلَيْهِ فَوُلِدَتْ لَهُ جَارِيَةٌ فَبَلَغَتْ ذَكَرَ نَحْوَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ قِصَّةَ الْقَتِيرِ وَالْقَتِيرُ الشَّيْبُ.
ابراہیم بن میسرہ اپنی خالہ سے، جو ایک سچی عورت سے نقل کرتی ہیں، کہتی ہیں: ہم دورِ جاہلیت میں سخت گرمی میں ایک غزوہ میں تھے تو ایک شخص نے کہا: جو مجھے اپنے جوتے دے میں اس کو اپنی پہلی پیدا ہونے والی بیٹی کا نکاح دوں گا، تو میرے والد نے اپنے جوتے اتار کر دے دیے۔ اس کے ہاں بچی پیدا ہو کر بلوغت کی عمر کو پہنچی۔ اس طرح انہوں نے ذکر کیا لیکن «قَتِير» یعنی ”بڑھاپے“ کا تذکرہ نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13825]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں