السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2884. جماع أبواب ما يحل من الحرائر، ولا يتسرى العبد وغير ذلك -- باب: عدد ما يحل من الحرائر والإماء
یہ جامع ابواب ہیں جن میں ان آزاد عورتوں کا بیان ہے جو حلال ہیں، اور یہ کہ غلام لونڈی نہیں رکھ سکتا، اور دیگر متعلقہ امور کا بیان ہے۔ -- باب: آزاد عورتوں اور لونڈیوں کی اس تعداد کا بیان جو حلال ہے۔
حدیث نمبر: Q13845
قَالَ اللهُ تَعَالَى: {قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَيْهِمْ فِي أَزْوَاجِهِمْ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ} [الأحزاب: 50] ، وَقَالَ: {فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ} [النساء: 3] قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" فَأَطْلَقَ اللهُ مَا مَلَكَتِ الْأَيْمَانُ فَلَمْ يَحُدَّ فِيهِنَّ حَدًّا يُنْتَهَى إِلَيْهِ وَانْتَهَى مَا أَحَلَّ اللهُ بِالنِّكَاحِ إِلَى أَرْبَعٍ" قَالَ الشَّيْخُ: وَيُذْكَرُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ أَنَّهُ قَالَ فِي قَوْلِهِ: {مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ} [النساء: 3] يَعْنِي مَثْنَى أَوْ ثُلَاثَ أَوْ رُبَاعَ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَدَلَّتْ سُنَّةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُبَيِّنَةُ عَنِ اللهِ أَنَّ انْتِهَاءَهُ إِلَى أَرْبَعٍ تَحْرِيمًا مِنْهُ لِأَنْ يَجْمَعَ أَحَدٌ غَيْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَكْثَرَ مِنْ أَرْبَعٍ.
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَيْهِمْ فِي أَزْوَاجِهِمْ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ﴾ ”یقیناً ہم جانتے ہیں جو ہم نے ان (مومنوں) پر ان کی بیویوں اور ان کی لونڈیوں کے بارے میں فرض کیا ہے۔“ [سورة الأحزاب: 50]
اور فرمایا: ﴿فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾ ”تو عورتوں میں سے جو تمہیں پسند ہوں ان سے نکاح کر لو، دو دو، تین تین اور چار چار، پھر اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم انصاف نہیں کر سکو گے تو ایک ہی (سے نکاح کرو) یا جو تمہاری لونڈیاں ہوں۔“ [سورة النساء: 3]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”تو اللہ تعالیٰ نے لونڈیوں (کے معاملے) کو مطلق رکھا اور ان میں کوئی ایسی حد مقرر نہیں فرمائی جس پر رکا جائے، اور جو (عورتیں) اللہ نے نکاح کے ذریعے حلال کی ہیں ان کی انتہا چار تک رکھی۔“
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور علی بن حسین (امام زین العابدین) رحمہ اللہ سے ذکر کیا جاتا ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: ﴿مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ﴾ ”دو دو، تین تین اور چار چار۔“ [سورة النساء: 3] کے بارے میں فرمایا: یعنی دو یا تین یا چار۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت نے، جو اللہ تعالیٰ کی مراد کو واضح کرنے والی ہے، اس بات پر دلالت کی کہ اس (تعداد) کا چار تک محدود ہونا اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس بات کی حرمت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کوئی شخص چار سے زیادہ (بیویوں) کو (بیک وقت اپنے نکاح میں) جمع کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: Q13845]
اور فرمایا: ﴿فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾ ”تو عورتوں میں سے جو تمہیں پسند ہوں ان سے نکاح کر لو، دو دو، تین تین اور چار چار، پھر اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم انصاف نہیں کر سکو گے تو ایک ہی (سے نکاح کرو) یا جو تمہاری لونڈیاں ہوں۔“ [سورة النساء: 3]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”تو اللہ تعالیٰ نے لونڈیوں (کے معاملے) کو مطلق رکھا اور ان میں کوئی ایسی حد مقرر نہیں فرمائی جس پر رکا جائے، اور جو (عورتیں) اللہ نے نکاح کے ذریعے حلال کی ہیں ان کی انتہا چار تک رکھی۔“
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور علی بن حسین (امام زین العابدین) رحمہ اللہ سے ذکر کیا جاتا ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: ﴿مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ﴾ ”دو دو، تین تین اور چار چار۔“ [سورة النساء: 3] کے بارے میں فرمایا: یعنی دو یا تین یا چار۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت نے، جو اللہ تعالیٰ کی مراد کو واضح کرنے والی ہے، اس بات پر دلالت کی کہ اس (تعداد) کا چار تک محدود ہونا اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس بات کی حرمت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کوئی شخص چار سے زیادہ (بیویوں) کو (بیک وقت اپنے نکاح میں) جمع کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: Q13845]
حدیث نمبر: 13845
فَذَكَرَ مَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُلَاعِبٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ، ثنا سَعِيدٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا كَانَ يُقَالُ لَهُ غَيْلَانُ بْنُ سَلَمَةَ الثَّقَفِيُّ كَانَ تَحْتَهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ عَشْرُ نِسْوَةٍ، فَأَسْلَمَ وَأَسْلَمْنَ مَعَهُ، فَأَمَرَهُ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ" يَتَخَيَّرَ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا".
سیدنا سالم بن عبداللہ بن عمر اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص جس کو غیلان بن سلمہ ثقفی رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا دورِ جاہلیت میں اس کے نکاح میں دس عورتیں تھیں، جب وہ مسلمان ہوئے تو وہ عورتیں بھی مسلمان ہو گئیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان میں سے چار کا انتخاب کر لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13845]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 13846
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ حُمَيْضَةَ بْنِ الشَّمَرْدَلِ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ قَيْسِ بْنِ ⦗٢٤٢⦘ عَمِيرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَسْلَمْتُ وَعِنْدِي ثَمَانِ نِسْوَةٍ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اخْتَرْ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا"، لَفْظُ مُسَدَّدٍ وَسَائِرُ الْأَحَادِيثِ الَّتِي رُوِيَتْ فِي هَذَا الْبَابِ مَذْكُورَةٌ فِي بَابِ الرَّجُلِ يُسْلِمُ وَعِنْدَهُ أَكْثَرُ مِنْ أَرْبَعِ نِسْوَةٍ.
حارث بن قیس بن عمیرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اسلام قبول کیا اور میرے پاس آٹھ بیویاں تھیں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تذکرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چار کا انتخاب کرلو۔“
(ب) اس باب میں جتنی بھی احادیث مذکور ہیں اس شخص کے بارے میں ہیں جس کے پاس چار سے زائد بیویاں تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13846]
(ب) اس باب میں جتنی بھی احادیث مذکور ہیں اس شخص کے بارے میں ہیں جس کے پاس چار سے زائد بیویاں تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13846]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13847
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، حَدَّثَهُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا} [النساء: ٣] فِي الْيَتَامَى قَالَ:" كَانُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ يَنْكِحُونَ عَشْرًا مِنَ النِّسَاءِ الْأَيَامَى، وَكَانُوا يُعَظِّمُونَ شَأْنَ الْيَتِيمِ، فَتَفَقَّدُوا أَمْرَ دِينِهِمْ بِشَأْنِ الْيَتَامَى، وَتَرَكُوا مَا كَانُوا يَنْكِحُونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَالَ اللهُ تَعَالَى: {وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى، فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ} [النساء: ٣] ، وَنَهَاهُمْ عَمَّا كَانُوا يَنْكِحُونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ کے اس قول: ﴿وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَىٰ فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾ [سورة النساء: 3] ”اگر تمہیں خوف ہو کہ یتیم بچیوں کے بارے میں تم انصاف نہ کر پاؤ گے پھر تم نکاح کرو جو عورتیں تمہیں اچھی لگیں دو دو اور تین تین اور چار چار۔ اگر تمہیں بےانصافی کا خوف ہو تو ایک ہی کافی ہے یا جو تمہاری لونڈیاں ہیں۔“ وہ دور جاہلیت میں دس بیوہ عورتوں سے شادی کرلیتے تھے اور یتیم بچی کی حالت کو بڑا خیال کرتے تھے تو انہوں نے یتیم بچیوں کے بارے میں اپنے دین کے معاملے کا خیال رکھا اور انہوں نے جو جاہلیت کے اندر بھی نکاح کرتے تھے چھوڑ دیا۔ اللہ کا فرمان ہے: ﴿وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَىٰ فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ﴾ [سورة النساء: 3] اور جو جاہلیت میں نکاح کرتے تھے ان سے بھی منع کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13847]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13848
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا أَبُو عَامِرٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: {وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ كِتَابَ اللهِ عَلَيْكُمْ} [النساء: ٢٤] قَالَ:" لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَتَزَوَّجَ فَوْقَ أَرْبَعٍ، فَإِنْ فَعَلَ فَهِيَ عَلَيْهِ مِثْلُ أُمِّهِ وَأُخْتِهِ"، وَرُوِّينَا عَنْ عُبَيْدَةَ السَّلْمَانِيِّ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {كِتَابَ اللهِ عَلَيْكُمْ} [النساء: ٢٤] قَالَ:" أَرْبَعُ نِسْوَةٍ"، وَكَذَلِكَ عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ.
سیدنا عکرمہ رحمہ اللہ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ كِتَابَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ﴾ [سورة النساء: 24] ”اور حرام کی گئی شادی شدہ عورتیں مگر جو تمہاری لونڈیاں ہیں، اللہ نے تمہارے اوپر لکھ دیا ہے۔“ کے متعلق نقل فرماتے ہیں کہ مسلمان کے لیے چار سے زائد کے ساتھ شادی کرنا جائز نہیں ہے، اگر کرے گا تو یہ اس کی ماں اور بہن کی طرح (حرام) ہے۔
عبیدہ سلمانی رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے اس قول: «كِتَابَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ» کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد چار عورتیں ہیں، اسی طرح حسن بصری رحمہ اللہ سے بھی منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13848]
عبیدہ سلمانی رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے اس قول: «كِتَابَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ» کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد چار عورتیں ہیں، اسی طرح حسن بصری رحمہ اللہ سے بھی منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13848]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13849
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ زَيْنَبَ، أَنَّ أُمَّ سَعِيدٍ أُمَّ وَلَدِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عنه حَدَّثَتْهَا قَالَتْ: كُنْتُ أَصُبُّ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْمَاءَ، وَهُوَ يَتَوَضَّأُ، فَقَالَ: يَا أُمَّ سَعِيدٍ" قَدِ اشْتَقْتُ أَنْ أَكُونَ عَرُوسًا" قَالَتْ: فَقُلْتُ: وَيْحَكَ مَا يَمْنَعُكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ:" أَبَعْدَ أَرْبَعٍ؟" قَالَتْ: فَقُلْتُ: تُطَلِّقُ وَاحِدَةً مِنْهُنَّ وَتَزَوَّجْ أُخْرَى قَالَ:" إِنَّ الطَّلَاقَ قَبِيحٌ أَكْرَهُهُ".
ام سعید رضی اللہ عنہا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ام ولد تھیں، وہ فرماتی ہیں کہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو وضو کروا رہی تھی تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: میں شادی کرنا چاہتا ہوں۔ ام سعید کہتی ہیں: میں نے کہا: اے امیر المومنین! کس چیز نے آپ کو روک رکھا ہے؟ فرمانے لگے: کیا چار کے بعد بھی؟ کہتی ہیں: میں نے کہا: ایک کو طلاق دیں اور کسی دوسری سے شادی کر لیں۔ فرمانے لگے: طلاق بری چیز ہے، میں اس کو ناپسند کرتا ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13849]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف