السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2894. -- باب: ما جاء في قول الله عز وجل: وحلائل أبنائكم الذين من أصلابكم
-- باب: اللہ عزوجل کے اس فرمان ”اور تمہارے ان بیٹوں کی بیویاں جو تمہارے صلب سے ہوں“ کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 13912
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِ اللهِ تَعَالَى: {وَلَا تَنْكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُمْ مِنَ النِّسَاءِ} [النساء: ٢٢] ، وَقَوْلِهِ: {وَحَلَائِلُ أَبْنَائِكُمْ} [النساء: ٢٣] يَقُولُ:" كُلُّ امْرَأَةٍ تَزَوَّجَهَا أَبُوكَ أَوِ ابْنُكَ دَخَلَ بِهَا أَوْ لَمْ يَدْخُلْ بِهَا فَهِيَ حَرَامٌ عَلَيْكَ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے قول: ﴿وَلَا تَنْكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُمْ﴾ [سورة النساء: 22] ”اور تم نکاح نہ کرو جن سے تمہارے باپوں نے شادی کی ہو۔“
﴿وَحَلَائِلُ أَبْنَائِكُمُ﴾ [سورة النساء: 23] ”اور تمہارے بیٹوں کی بیویاں۔“ ہر وہ عورت جس سے تیرے باپ یا تیرے بیٹے نے نکاح کیا ہو، مجامعت کی ہو یا نہیں، یہ تیرے اوپر حرام ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13912]
﴿وَحَلَائِلُ أَبْنَائِكُمُ﴾ [سورة النساء: 23] ”اور تمہارے بیٹوں کی بیویاں۔“ ہر وہ عورت جس سے تیرے باپ یا تیرے بیٹے نے نکاح کیا ہو، مجامعت کی ہو یا نہیں، یہ تیرے اوپر حرام ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13912]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13913
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، عَنْ أَبِي حُرَّةَ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً، فَطَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا أَيَتَزَوَّجُهَا أَبُوهُ؟ قَالَ الْحَسَنُ:" لَا" قَالَ اللهُ تَعَالَى: {وَحَلَائِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ} [النساء: ٢٣] ، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَإِنَّمَا قَالَ، وَاللهُ أَعْلَمُ مِنْ أَصْلَابِكُمْ لِئَلَّا يَدْخُلَ فِيهِ أَزْوَاجُ الْأَدْعِيَاءِ وَهُوَ مِثْلُ قَوْلِهِ تَعَالَى لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {فَلَمَّا قَضَى زَيْدٌ مِنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاكَهَا لِكَيْلَا يَكُونَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ حَرَجٌ فِي أَزْوَاجِ أَدْعِيَائِهِمْ}، فَحَلِيلَةُ ابْنِ الْوَلَدِ، وَإِنْ سَفَلَ وَحَلِيلَةُ الِابْنِ مِنَ الرَّضَاعِ دَاخِلَتَانِ فِي التَّحْرِيمِ، وَهَذَا مَعْنَى قَوْلِ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ فِي كِتَابِ الرَّضَاعِ.
سیدنا حسن رحمہ اللہ سے ایسے شخص کے بارے میں سوال ہوا جس نے شادی کے بعد مجامعت سے پہلے اپنی بیوی کو طلاق دے دی، کیا اس کا والد اس عورت سے شادی کر سکتا ہے؟ تو سیدنا حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نہیں۔ اللہ کا فرمان ہے: ﴿وَحَلَائِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ﴾ [سورة النساء: 23] ”اور تمہارے حقیقی بیٹوں کی بیویاں۔“
شیخ فرماتے ہیں کہ اللہ نے «مِنْ أَصْلَابِكُمْ» (تمہاری پشت سے) صرف اس لیے فرمایا، واللہ اعلم، تاکہ منہ بولے بیٹوں کی بیویاں اس میں شامل نہ ہوں۔ جیسے اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا تھا: ﴿فَلَمَّا قَضَى زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاكَهَا﴾ [سورة الأحزاب: 37] ”جب زید نے اپنی ضرورت پوری کر لی ہم نے آپ کا نکاح کر دیا تاکہ مومنوں پر کوئی حرج نہ ہو ان کے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں میں۔“ تو پوتے کی بیوی یا اس سے بھی نیچے کا رشتہ اور رضاعی بیٹے کی بیوی یہ بھی حرمت میں شامل ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13913]
شیخ فرماتے ہیں کہ اللہ نے «مِنْ أَصْلَابِكُمْ» (تمہاری پشت سے) صرف اس لیے فرمایا، واللہ اعلم، تاکہ منہ بولے بیٹوں کی بیویاں اس میں شامل نہ ہوں۔ جیسے اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا تھا: ﴿فَلَمَّا قَضَى زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاكَهَا﴾ [سورة الأحزاب: 37] ”جب زید نے اپنی ضرورت پوری کر لی ہم نے آپ کا نکاح کر دیا تاکہ مومنوں پر کوئی حرج نہ ہو ان کے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں میں۔“ تو پوتے کی بیوی یا اس سے بھی نیچے کا رشتہ اور رضاعی بیٹے کی بیوی یہ بھی حرمت میں شامل ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13913]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف