السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2913. جماع أبواب الخطبة -- باب: التعريض بالخطبة
یہ جامع ابواب ہیں جن میں منگنی (پیغامِ نکاح) کے مسائل کا بیان ہے۔ -- باب: اشارے کنائے میں نکاح کا پیغام دینے کے متعلق بیان۔
حدیث نمبر: 14024
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ:" يُقَاطِعُهَا عَلَى كَذَا وَكَذَا أَنْ لَا تَزَوَّجَ غَيْرَهُ: {إِلَّا أَنْ تَقُولُوا قَوْلًا مَعْرُوفًا} [البقرة: ٢٣٥] قَالَ: يَقُولُ: إِنِّي فِيكِ لَرَاغِبٌ وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ نَجْتَمِعَ".
سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ کہے کہ وہ اس بات کا تعین کرتا ہے کہ کسی دوسرے سے شادی نہ کرے، ﴿إِلَّا أَنْ تَقُولُوا قَوْلًا مَعْرُوفًا﴾ [سورة البقرة: 235] کے متعلق بیان کرتے ہیں کہ وہ کہے: ”مجھے تیرے لیے رغبت ہے، میں امید کرتا ہوں کہ ہم جمع ہو جائیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 14024]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14025
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ، ثنا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ قَالَ: ذُكِرَ عَنِ الشَّعْبِيِّ، فِي هَذِهِ الْآيَةِ: {وَلَكِنْ لَا تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا} [البقرة: ٢٣٥] قَالَ:" لَا يَأْخُذُ مِيثَاقَهَا أَنْ لَا تَنْكِحَ غَيْرَهُ".
شعبی رحمہ اللہ نے اس آیت ﴿وَلٰكِنْ لَا تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا﴾ [سورة البقرة: 235] کے بارے میں بیان کیا ہے کہ وہ اس سے پختہ وعدہ نہ لے کہ وہ کسی دوسرے سے شادی نہ کرے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 14025]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14026
قَالَ: وَثَنَا إِبْرَاهِيمُ، ثنا عُمَرُ بْنُ حَبِيبٍ الْقَاضِي، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُدَيْرٍ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، {وَلَكِنْ لَا تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا إِلَّا أَنْ تَقُولُوا قَوْلًا مَعْرُوفًا} [البقرة: ٢٣٥] قَالَ:" السِّرُّ هُوَ الزِّنَا" قَالَ: ثُمَّ سَأَلْتُ عَنْهَا الْحَسَنَ أَيْضًا، فَقَالَ:" هُوَ الزِّنَا".
ابو مجلز رحمہ اللہ ﴿وَلٰكِنْ لَّا تُوَاعِدُوْهُنَّ سِرًّا اِلَّآ اَنْ تَقُوْلُوْا قَوْلًا مَّعْرُوْفًا﴾ [سورة البقرة: 235] کے متعلق فرماتے ہیں: ”اس سے مراد زنا ہے،“ (راوی) کہتے ہیں: پھر میں نے حضرت حسن رحمہ اللہ سے اس کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: ”اس سے مراد زنا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 14026]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14027
قَالَ: وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، {وَلَكِنْ لَا تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا} [البقرة: ٢٣٥] قَالَ:" الزِّنَا".
سدی، ابراہیم سے نقل فرماتے ہیں کہ ﴿وَلَٰكِن لَّا تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا﴾ [سورة البقرة: 235] سے مراد زنا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 14027]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14028
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ الْكَعْبِيُّ قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ مَعْرُوفٍ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ قَالَ: بَلَغَنَا وَاللهُ أَعْلَمُ أَنَّ مَعْنَى: {لَا تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا} [البقرة: ٢٣٥] " الرَّفَثُ مِنَ الْكَلَامِ أَيْ لَا يُوَاجِهُهَا الرَّجُلُ فِي تَعْرِيضِ الْجِمَاعِ مِنْ نَفْسِهِ وَيَقُولُ آخَرُونَ: هُوَ الزِّنَا وَاللهُ أَعْلَمُ"، وَرُوِّينَا عَنِ الْحَسَنِ أَنَّهُ قَالَ فِي التَّعْرِيضِ: يُرْسِلُ إِلَيْهَا فِي عِدَّتِهَا يَقُولُ: إِنِّي فِيكِ لَرَاغِبٌ وَإِنِّي عَلَيْكِ لَحَرِيصٌ فَأَحْبَبْتُ أَنْ أُعْلِمَكِ فَإِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُكِ رَأَيْتُ رَأْيَكِ، وَعَنْ عَطَاءٍ قَالَ: يُعَرِّضُ فَلَا يَبُوحُ، يَقُولُ: إِنَّ لِي حَاجَةً وَأَبْشِرِي فَأَنْتِ بِحَمْدِ اللهِ ⦗٢٩١⦘ نَافِقَةٌ، وَتَقُولُ هِيَ: قَدْ أَسْمَعُ مَا تَقُولُ، وَعَنْ عَطَاءٍ قَالَ: إِنْ وَاعَدَتْ رَجُلًا فِي عِدَّتِهَا ثُمَّ نَكَحَهَا بَعْدُ لَمْ يُفَرَّقْ بَيْنَهُمَا.
مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ﴿وَلَكِنْ لَا تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا﴾ [سورة البقرة: 235] سے مراد بےہودہ کلام ہے، یعنی مرد اس کے سامنے اپنی طرف سے جماع کا اشارہ نہ کرے اور دوسرے کہتے ہیں کہ زنا مراد ہے۔
(ب) حضرت حسن رحمہ اللہ عدت کے اندر عورت کو نکاح کا اشارہ دینے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ اس کی طرف پیغام بھیجے اور کہے: میں تیرے بارے میں رغبت رکھتا ہوں، میں تیرے لیے حریص ہوں، میں نے چاہا کہ تجھے بتا دوں، جب تیری عدت ختم ہو جائے تو جو تیری رائے ہو۔ حضرت عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ وہ اشارہ کرے، ظاہر نہ کرے۔ وہ کہے: مجھے بھی ضرورت ہے، تو خوش ہو جا، تو «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں“ بہت پسند کی جانے والی ہے، وہ کہہ دیتی ہے: میں نے سن لیا جو تو نے کہہ دیا، حضرت عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں: اگر اس نے کسی مرد کو عدت کے اندر وعدہ دے دیا، پھر نکاح کر لیا تو دونوں میں تفریق نہ کی جائے گی۔ [حسن] [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 14028]
(ب) حضرت حسن رحمہ اللہ عدت کے اندر عورت کو نکاح کا اشارہ دینے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ اس کی طرف پیغام بھیجے اور کہے: میں تیرے بارے میں رغبت رکھتا ہوں، میں تیرے لیے حریص ہوں، میں نے چاہا کہ تجھے بتا دوں، جب تیری عدت ختم ہو جائے تو جو تیری رائے ہو۔ حضرت عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ وہ اشارہ کرے، ظاہر نہ کرے۔ وہ کہے: مجھے بھی ضرورت ہے، تو خوش ہو جا، تو «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں“ بہت پسند کی جانے والی ہے، وہ کہہ دیتی ہے: میں نے سن لیا جو تو نے کہہ دیا، حضرت عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں: اگر اس نے کسی مرد کو عدت کے اندر وعدہ دے دیا، پھر نکاح کر لیا تو دونوں میں تفریق نہ کی جائے گی۔ [حسن] [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 14028]