السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2915. -- باب: من أباح الخطبة على خطبة أخيه إذا لم يوجد من المخطوبة ولا من أبي البكر رضى بالأول
-- باب: اس شخص کا قول جس نے اپنے بھائی کے پیغامِ نکاح پر پیغام بھیجنے کو اس وقت مباح قرار دیا ہے جب اس عورت کی طرف سے یا کنواری لڑکی کے باپ کی طرف سے پہلے شخص کے لیے رضامندی نہ پائی گئی ہو۔
حدیث نمبر: 14038
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ، مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا فِي عِدَّتِهَا مِنْ طَلَاقِ زَوْجِهَا:" إِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِينِي" قَالَتْ: فَلَمَّا حَلَلْتُ أَخْبَرْتُهُ أَنَّ مُعَاوِيَةَ، وَأَبَا جَهْمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا خَطَبَانِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا مُعَاوِيَةُ فَصُعْلُوكٌ لَا مَالَ لَهُ، وَأَمَّا أَبُو جَهْمٍ، فَلَا يَضَعُ عَصَاهُ عَنْ عَاتِقِهِ انْكِحِي أُسَامَةَ" قَالَتْ: فَكَرِهْتُهُ، فَقَالَ:" انْكِحِي أُسَامَةَ" فَنَكَحْتُهُ، فَجَعَلَ اللهُ فِيهِ خَيْرًا وَاغْتَبَطْتُ بِهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ.
ابو سلمہ بن عبدالرحمن سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو طلاق کی عدت میں فرمایا تھا: ”جب تو حلال ہو جائے تو مجھے اطلاع دینا۔“ وہ فرماتی ہیں: جب میں حلال ہوئی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ مجھے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابو جہم رضی اللہ عنہ نے نکاح کا پیغام دیا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معاویہ کنگال آدمی ہے اور ابو جہم اپنے کندھے سے لاٹھی نہیں رکھتا، تو اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے نکاح کر لے۔“ وہ فرماتی ہیں: میں نے اس کو ناپسند کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسامہ سے نکاح کر لو۔“ میں نے نکاح کر لیا تو اللہ تعالیٰ نے اس میں برکت ڈال دی اور میں رشک کی جانے لگی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 14038]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14039
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الْجَهْمِ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فِي مِلْكِ آلِ الزُّبَيْرِ، فَسَأَلْنَاهَا عَنِ الْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثًا هَلْ لَهَا نَفَقَةٌ؟ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي قِصَّةِ طَلَاقِهَا إِلَى أَنْ قَالَتْ: فَلَمَّا انْقَضَتْ عِدَّتِي خَطَبَنِي أَبُو الْجَهْمِ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ، وَمُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا أَبُو الْجَهْمِ، فَهُوَ رَجُلٌ شَدِيدٌ عَلَى النِّسَاءِ، وَأَمَّا ⦗٢٩٤⦘ مُعَاوِيَةُ فَرَجُلٌ لَا مَالَ لَهُ" قَالَتْ: ثُمَّ خَطَبَنِي تَعْنِي عَلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، فَتَزَوَّجْتُهُ، فَبَارَكَ اللهُ لِي فِي أُسَامَةَ" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ، وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ قَالَ فِيهِ: أَمَّا مُعَاوِيَةُ فَرَجُلٌ تَرِبٌ لَا مَالَ لَهُ، وَأَمَّا أَبُو الْجَهْمِ فَرَجُلٌ ضَرَّابٌ لِلنِّسَاءِ، وَلَكِنْ أُسَامَةَ.
ابوبکر بن ابی جہم فرماتے ہیں کہ میں اور ابوسلمہ بن عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ، فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے پاس آلِ زبیر رضی اللہ عنہم کی حکومت میں آئے۔ ہم نے ان سے مطلقہ ثلاثہ کے خرچہ کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے اپنی طلاق والے قصے کی حدیث کو ذکر کیا اور فرمایا: جب میری عدت ختم ہوئی تو ابوجہم قریشی اور معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے نکاح کا پیغام دیا، کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تذکرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابو جہم عورتوں پر سختی کرتا ہے اور معاویہ کے پاس مال نہیں ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اسامہ رضی اللہ عنہ کے متعلق نکاح کا پیغام دیا، میں نے ان سے شادی کر لی تو اللہ تعالیٰ نے اس نکاح میں برکت ڈال دی۔
(ب) ابوبکر بن ابی جہم کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معاویہ کے پاس مال نہیں ہے اور ابو جہم عورتوں کو بہت زیادہ مارتا ہے لیکن اسامہ سے نکاح کر لو“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 14039]
(ب) ابوبکر بن ابی جہم کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معاویہ کے پاس مال نہیں ہے اور ابو جہم عورتوں کو بہت زیادہ مارتا ہے لیکن اسامہ سے نکاح کر لو“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 14039]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح