السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2931. -- باب: نكاح المتعة
-- باب: نکاح متعہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 14161
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَحْمَدَ الْفَامِيُّ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي دَاوُدَ الْمُنَادِي، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُؤَدِّبُ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا أَبُو عُمَيْسٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: رَخَّصَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فِي مُتْعَةِ النِّسَاءِ عَامَ أَوْطَاسٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ثُمَّ نَهَى عَنْهَا بَعْدُ"، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ يُونُسَ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَعَامُ أَوْطَاسٍ، وَعَامُ الْفَتْحِ وَاحِدٌ، فَأَوْطَاسٌ، وَإِنْ كَانَتْ بَعْدَ الْفَتْحِ فَكَانَتْ فِي عَامِ الْفَتْحِ بَعْدَهُ بِيَسِيرٍ، فَمَا نَهَى عَنْهُ لَا فَرْقَ بَيْنَ أَنْ يُنْسَبَ إِلَى عَامِ أَحَدِهِمَا أَوْ إِلَى الْآخَرِ، وَفِي رِوَايَةِ سَبْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ مَا دَلَّ ⦗٣٣٣⦘ عَلَى أَنَّ الْإِذْنَ فِيهِ كَانَ ثَلَاثًا، ثُمَّ وَقَعَ التَّحْرِيمُ كَهُوَ فِي رِوَايَةِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، فَرِوَايَتُهُمَا تَرْجِعُ إِلَى وَقْتٍ وَاحِدٍ، ثُمَّ إِنْ كَانَ الْإِذْنُ فِي رِوَايَةِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ بَعْدَ الْفَتْحِ فِي غَزْوَةِ أَوْطَاسٍ فَقَدْ نُقِلَ نَهْيُهُ عَنْهَا بَعْدَ الْإِذْنِ فِيهَا وَلَمْ يَثْبُتِ الْإِذْنُ فِيهَا بَعْدَ غَزْوَةِ أَوْطَاسٍ، فَبَقِيَ تَحْرِيمُهَا إِلَى الْأَبَدِ، وَاللهُ أَعْلَمُ، فَإِنْ زَعَمَ زَاعِمٌ أَنَّهُ نُهِيَ بِضَمِّ النُّونِ وَكَسْرِ الْهَاءِ، وَأَنَّ الْمُرَادَ بِالنَّاهِي فِي حَدِيثِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَالْمَحْفُوظُ عِنْدَنَا ثُمَّ نَهَى بِفَتْحِ الْهَاءِ وَالنُّونِ، وَرَأَيْتُهُ فِي كِتَابِ بَعْضِهِمْ بِالْأَلِفِ، ثُمَّ نَهَى عَنْهَا بَعْدُ عَلَى أَنَّهَا إِنْ كَانَتِ الرِّوَايَةُ نُهِيَ بِضَمِّ النُّونِ وَكَسْرِ الْهَاءِ فَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ الْمُرَادُ بِالنَّاهِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُحْتَمَلُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَرِوَايَةُ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَاطِعَةٌ بِأَنَّ النَّاهِيَ عَنْهَا فِي هَذَا الْعَامِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَكُونُ أَوْلَى مِنْ رِوَايَةِ مَنْ أَبْهَمَهُ.
ایاس بن سلمہ بن اکوع رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوطاس والے سال ”نکاحِ متعہ کی تین دن کے لیے اجازت دی، پھر اس کے بعد منع فرما دیا“۔
(ب) عامِ اوطاس اور عامِ فتحِ مکہ ایک ہی سال ہے۔ اوطاس اگرچہ فتح کے بعد تھا لیکن فتح ہی کے سال اس کے تھوڑا عرصہ بعد تھا، تو کوئی حرج نہیں کہ ممانعت کو ان دونوں میں سے کسی ایک کے سال کی طرف منسوب کیا جائے۔ سبرہ بن معبد رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ ”تین دن کی اجازت کے بعد پھر ابدی حرمت ہے“، تو سبرہ بن معبد اور سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہما کی روایات ایک ہی وقت کا تقاضا کرتی ہیں۔ اگر سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کی روایت میں اجازت فتح کے بعد ہے غزوہ اوطاس میں، تو ان سے نہی اجازت کے بعد منقول ہے، لیکن غزوہ اوطاس کے بعد اجازت منقول نہیں ہے۔ بہرکیف مبہم روایت سے واضح روایات کی زیادہ اہمیت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 14161]
(ب) عامِ اوطاس اور عامِ فتحِ مکہ ایک ہی سال ہے۔ اوطاس اگرچہ فتح کے بعد تھا لیکن فتح ہی کے سال اس کے تھوڑا عرصہ بعد تھا، تو کوئی حرج نہیں کہ ممانعت کو ان دونوں میں سے کسی ایک کے سال کی طرف منسوب کیا جائے۔ سبرہ بن معبد رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ ”تین دن کی اجازت کے بعد پھر ابدی حرمت ہے“، تو سبرہ بن معبد اور سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہما کی روایات ایک ہی وقت کا تقاضا کرتی ہیں۔ اگر سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کی روایت میں اجازت فتح کے بعد ہے غزوہ اوطاس میں، تو ان سے نہی اجازت کے بعد منقول ہے، لیکن غزوہ اوطاس کے بعد اجازت منقول نہیں ہے۔ بہرکیف مبہم روایت سے واضح روایات کی زیادہ اہمیت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 14161]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1405»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14162
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ" سُئِلَ عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ"، فَقَالَ مَوْلًى لَهُ:" إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ فِي الْجِهَادِ وَالنِّسَاءُ قَلِيلٌ" قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا:" صَدَقَ".
ابو جمرہ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ان سے نکاحِ متعہ کے بارے میں سوال ہوا تو ان کے غلام نے کہا: یہ جہاد میں تھا، جب عورتوں کی قلت ہوئی، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اس نے سچ کہا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 14162]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14163
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو، أنبأ أَبُو بَكْرٍ، ثنا عِمْرَانُ، وَابْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا مُحَمَّدٌ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ وَسُئِلَ عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ،" فَرَخَّصَ فِيهَا"، فَقَالَ لَهُ مَوْلًى لَهُ:" إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ وَفِي النِّسَاءِ قِلَّةٌ، وَالْحَالُ شَدِيدٌ"، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" نَعَمْ"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ.
ابو جمرہ کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نکاحِ متعہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے اس کی رخصت دی، تو ان کے غلام نے کہا: یہ تو صرف اس وقت تھا جب عورتیں کم اور حالات سخت تھے، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہاں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 14163]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14164
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، ثنا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا" قَامَ بِمَكَّةَ فَقَالَ: إِنَّ نَاسًا أَعْمَى اللهُ قُلُوبَهُمْ كَمَا أَعْمَى أَبْصَارَهُمْ يُفْتُونَ بِالْمُتْعَةِ" وَيُعَرِّضُ بِالرَّجُلِ فَنَادَاهُ، فَقَالَ:" إنك جِلْفٌ جَافٍ، فَلَعَمْرِي لَقَدْ كَانَتِ الْمُتْعَةُ تُفْعَلُ فِي عَهْدِ إِمَامِ الْمُتَّقِينَ، يُرِيدُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ فَجَرِّبْ بِنَفْسِكَ، فَوَاللهِ لَئِنْ فَعَلْتَهَا لَأَرْجُمَنَّكَ بِأَحْجَارِكَ" قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَأَخْبَرَنِي خَالِدُ بْنُ الْمُهَاجِرِ بْنِ سَيْفِ اللهِ أَنَّهُ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ عِنْدَ رَجُلٍ جَاءَهُ رَجُلٌ فَاسْتَفْتَاهُ فِي الْمُتْعَةِ فَقَالَ لَهُ ابْنُ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيُّ: مَهْلًا مَا هِيَ وَاللهِ، لَقَدْ فُعِلَتْ فِي عَهْدِ إِمَامِ الْمُتَّقِينَ، قَالَ ابْنُ أَبِي عَمْرَةَ: إِنَّهَا كَانَتْ رُخْصَةً فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ لِمَنْ يُضْطَرُّ ⦗٣٣٤⦘ إِلَيْهَا كَالْمَيْتَةِ، وَالدَّمِ، وَلَحْمِ الْخِنْزِيرِ، ثُمَّ أَحْكَمَ اللهُ الدِّينَ وَنَهَى عَنْهَا، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَأَخْبَرَنِي الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ أَنَّ أَبَاهُ قَالَ: قَدْ كُنْتُ اسْتَمْتَعْتُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ بِبُرْدَيْنِ أَحْمَرَيْنِ ثُمَّ" نَهَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُتْعَةِ"، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَسَمِعْتُ الرَّبِيعَ بْنَ سَبْرَةَ يُحَدِّثُ ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَأَنَا جَالِسٌ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ حَرْمَلَةَ بْنِ يَحْيَى..
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے مکہ میں کھڑے ہو کر فرمایا: کچھ لوگ ایسے ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے اسی طرح اندھا کر دیا ہے جیسے ان کی آنکھوں کو اندھا کر دیا ہے، وہ نکاحِ متعہ کے جواز کا فتویٰ دیتے ہیں، اور وہ ایک شخص کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔ اس شخص نے انہیں پکارا اور کہا: آپ بڑے سخت مزاج اور اکھڑ ہیں۔ میری عمر کی قسم! یہ نکاحِ متعہ امام المتقین یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں کیا جاتا تھا، تو ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے کہا: اپنے اوپر تجربہ کر لو۔ اللہ کی قسم! اگر تو نے ایسا کیا تو میں تجھے تیرے پتھروں کے ذریعے رجم کر دوں گا۔
(ب) خالد بن مہاجر بن سیف اللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ ایک شخص کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو ایک شخص نے آکر نکاحِ متعہ کے بارے میں سوال کیا تو ابن ابی عمرہ انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا: ذرا ٹھہرو۔ فرمانے لگے: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں تھا تو ابن ابی عمرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ رخصت ابتدائے اسلام میں تھی، جب انسان مردار، خون، خنزیر کے گوشت کو مجبوری کی حالت میں کھا سکتا ہے، پھر اللہ نے دین کو مکمل کر دیا تو اس سے منع فرما دیا۔
(ج) ربیع بن سبرہ جہنی رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں بنو عامر کی ایک عورت سے دو سرخ چادروں کے عوض نکاحِ متعہ کیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاحِ متعہ سے منع فرما دیا۔
(د) ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ربیع بن سبرہ رحمہ اللہ سے سنا، وہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو بیان کر رہے تھے اور میں بیٹھا ہوا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 14164]
(ب) خالد بن مہاجر بن سیف اللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ ایک شخص کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو ایک شخص نے آکر نکاحِ متعہ کے بارے میں سوال کیا تو ابن ابی عمرہ انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا: ذرا ٹھہرو۔ فرمانے لگے: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں تھا تو ابن ابی عمرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ رخصت ابتدائے اسلام میں تھی، جب انسان مردار، خون، خنزیر کے گوشت کو مجبوری کی حالت میں کھا سکتا ہے، پھر اللہ نے دین کو مکمل کر دیا تو اس سے منع فرما دیا۔
(ج) ربیع بن سبرہ جہنی رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں بنو عامر کی ایک عورت سے دو سرخ چادروں کے عوض نکاحِ متعہ کیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاحِ متعہ سے منع فرما دیا۔
(د) ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ربیع بن سبرہ رحمہ اللہ سے سنا، وہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو بیان کر رہے تھے اور میں بیٹھا ہوا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 14164]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1406»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14165
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ أَبُو الشَّيْخِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: يُعَرِّضُ بِابْنِ عَبَّاسٍ، وَزَادَ فِي آخِرِهِ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَأَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ يُفْتِي بِالْمُتْعَةِ، وَيَغْمِصُ ذَلِكَ عَلَيْهِ أَهْلُ الْعِلْمِ، فَأَبَى ابْنُ عَبَّاسٍ أَنْ يَنْتَكِلَ عَنْ ذَلِكَ حَتَّى طَفِقَ بَعْضُ الشُّعَرَاءِ يَقُولُ:.
ابن وہب رحمہ اللہ بھی اس کی مانند ذکر کرتے ہیں کہ وہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو نشانہ بناتے تھے اور اس کے آخر میں زیادتی کی کہ ابن شہاب رحمہ اللہ نے کہا: مجھے عبیداللہ رحمہ اللہ نے خبر دی کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما جوازِ متعہ کا فتویٰ دیا کرتے تھے، جب اہل علم نے اس پر طعن کیا تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انکار کر دیا کہ اپنے اس فتویٰ سے رجوع کریں۔ حتیٰ کہ بعض شعراء ان کے متعلق یہ اشعار پڑھنے لگے: اے صاحب! کیا تجھے ابن عباس کی نوجوان عورتوں میں کوئی حاجت ہے؟ کیا تجھے ناز و نعمت والی تر و تازہ میں حاجت ہے جو لوگوں کے کھیلنے تک تیرا ٹھکانا ہو؟ فرماتے ہیں: پھر اہل علم کا اس کی گندگی اور ان عورتوں سے بغض مزید بڑھ گیا حتیٰ کہ یہ اشعار کہے گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 14165]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14166
قَالَ: وَحَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: مَاذَا صَنَعْتَ؟ ذَهَبَتِ الرَّكَائِبُ بِفُتْيَاكَ، وَقَالَ فِيهِ الشُّعَرَاءُ، فَقَالَ: وَمَا قَالُوا؟ قَالَ: قَالَ الشَّاعِرُ:.
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: آپ نے کیا کیا کہ سواریاں آپ کے فتویٰ کی وجہ سے چلی گئیں۔ اور شعراء نے بات کی تو فرماتے ہیں: شعراء نے کیا کہا ہے؟ فرمانے لگے کہ شعراء کہتے ہیں:
”میں نے شیخ سے کہا، جب مجلس لمبی ہوگئی، اے آواز دینے والے! کیا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے فتویٰ میں تیرے لیے کچھ ہے۔“
”اے چیخنے والے! کیا تیرے لیے سفید رنگ کی نازک اندام عورت ہے کہ تو لوگوں کے چلنے تک اس کے پاس جگہ پکڑے۔“
(ب) ابو خالد منہال سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے شیخ سے کہا جب مجلس لمبی ہوئی اور دوسرے شعر میں کہا کہ کیا آپ نے قریبی رشتہ دار جوان لڑکی میں اجازت دی ہے؟ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میرا تو یہ ارادہ ہی نہ تھا اور نہ ہی میں نے متعہ کا فتویٰ دیا ہے۔ متعہ تو صرف مجبور آدمی کے لیے حلال ہے، اس کی حیثیت تو مردار، خون اور خنزیر کے گوشت کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 14166]
”میں نے شیخ سے کہا، جب مجلس لمبی ہوگئی، اے آواز دینے والے! کیا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے فتویٰ میں تیرے لیے کچھ ہے۔“
”اے چیخنے والے! کیا تیرے لیے سفید رنگ کی نازک اندام عورت ہے کہ تو لوگوں کے چلنے تک اس کے پاس جگہ پکڑے۔“
(ب) ابو خالد منہال سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے شیخ سے کہا جب مجلس لمبی ہوئی اور دوسرے شعر میں کہا کہ کیا آپ نے قریبی رشتہ دار جوان لڑکی میں اجازت دی ہے؟ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میرا تو یہ ارادہ ہی نہ تھا اور نہ ہی میں نے متعہ کا فتویٰ دیا ہے۔ متعہ تو صرف مجبور آدمی کے لیے حلال ہے، اس کی حیثیت تو مردار، خون اور خنزیر کے گوشت کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 14166]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً»
الحكم على الحديث: ضعيف جداً
حدیث نمبر: 14167
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ شَيْبَانَ الْبَغْدَادِيُّ ثُمَّ الْهَرَوِيُّ، أنبأ مُعَاذُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ خَتَنَةَ، عَنْ ⦗٣٣٥⦘ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ فِي الْمُتْعَةِ:" هِيَ حَرَامٌ كَالْمَيْتَةِ وَالدَّمِ وَلَحْمِ الْخِنْزِيرِ"، وَرُوِيَ ذَلِكَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ الْوَلِيدِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
سعید بن جبیر رحمہ اللہ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے متعہ کے بارے میں فرمایا کہ یہ حرام ہے جیسے مردار، خون اور خنزیر کا گوشت۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 14167]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14168
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِيُّ، ثنا ابْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي اللَّيْثِ، ثنا الْأَشْجَعِيُّ، قَالَ سُلَيْمَانُ: وَحَدَّثَنَا الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُقْبَةَ أَخُو قَبِيصَةَ بْنِ عُقْبَةَ قَالَا: ثنا الثَّوْرِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:" كَانَتِ الْمُتْعَةُ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ وَكَانُوا يَقْرَءُونَ هَذِهِ الْآيَةَ {فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ} [النساء: ٢٤] بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ الْآيَةَ، فَكَانَ الرَّجُلُ يَقْدَمُ الْبَلْدَةَ لَيْسَ لَهُ بِهَا مَعْرِفَةٌ فَيَزَّوَّجُ بِقَدْرِ مَا يَرَى أَنَّهُ يَفْرُغُ مِنْ حَاجَتِهِ لِتَحْفَظَ مَتَاعَهُ، وَتُصْلِحُ لَهُ شَأْنَهُ حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ} [النساء: ٢٣] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، فَنَسَخَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ الْأُولَى فَحُرِّمَتِ الْمُتْعَةُ، وَتَصْدِيقُهَا مِنَ الْقُرْآنِ {إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ} [المؤمنون: ٦] وَمَا سِوَى هَذَا الْفَرْجِ فَهُوَ حَرَامٌ".
محمد بن کعب، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ متعہ اسلام کی ابتدا میں تھا اور وہ یہ آیت تلاوت فرماتے: ﴿فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ﴾ [سورة النساء: 24] ، جب کوئی شخص ایسے شہر میں آتا جہاں پر اس کی پہچان نہ ہوتی تو وہ اپنی ضرورت سے فراغت تک وہاں شادی کر لیتا تاکہ اس کے سامان کی حفاظت بھی رہے اور اپنی حالت بھی درست رہے، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی: ﴿حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ﴾ [سورة النساء: 23] ، اللہ نے پہلے حکم کو منسوخ کر دیا تو اس سے متعہ خارج ہو گیا اور اس کی تصدیق قرآن میں ہے: ﴿إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ﴾ [سورة المؤمنون: 6] ، اس کے علاوہ تمام شرمگاہیں حرام ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 14168]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14169
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَأَتَاهُ آتٍ فَقَالَ: ابْنُ عَبَّاسٍ، وَابْنُ الزُّبَيْرِ اخْتَلَفَا فِي الْمُتْعَتَيْنِ، فَقَالَ جَابِرٌ: فَعَلْنَاهُمَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ نَهَانَا عَنْهُمَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَلَمْ نَعُدْ لَهُمَا"، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ حَامِدِ بْنِ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيِّ.
ابو نضرہ کہتے ہیں: میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھا کہ کسی آنے والے نے کہا کہ ابن عباس اور ابن زبیر رضی اللہ عنہما دونوں متعہ کے بارے میں اختلاف رکھتے تھے، تو حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں متعہ کرتے تھے، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے منع فرما دیا، اس کے بعد ہم نے نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 14169]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1217۔1249»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14170
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ إِنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ" يَنْهَى عَنِ الْمُتْعَةِ"، وَإِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ" يَأْمُرُ بِهَا" قَالَ: عَلَى يَدِيَّ جَرَى الْحَدِيثُ، تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَلَمَّا وُلِّيَ عُمَرُ خَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ:" إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الرَّسُولُ، وَإِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ هَذَا الْقُرْآنُ، وَإِنَّهُمَا كَانَتَا مُتْعَتَانِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا أَنْهَى عَنْهُمَا وَأُعَاقِبُ عَلَيْهِمَا، إِحْدَاهُمَا مُتْعَةُ النِّسَاءِ وَلَا أَقْدِرُ عَلَى رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً إِلَى أَجَلٍ إِلَّا غَيَّبْتُهُ بِالْحِجَارَةِ، وَالْأُخْرَى مُتْعَةُ الْحَجِّ افْصِلُوا حَجَّكُمْ مِنْ عُمْرَتِكُمْ فَإِنَّهُ أَتَمُّ لِحَجِّكُمْ وَأَتَمُّ لِعُمْرَتِكُمْ"، أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ هَمَّامٍ، قَالَ الشيخُ: وَنَحْنُ لَا نَشُكُّ فِي كَوْنِهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكِنَّا وَجَدْنَاهُ نَهَى عَنْ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ عَامَ الْفَتْحِ بَعْدَ الْإِذْنِ فِيهِ ثُمَّ لَمْ نَجِدْهُ أَذِنَ فِيهِ بَعْدَ النَّهْيِ عَنْهُ حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ نَهْيُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ مُوَافِقًا لِسُنَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ⦗٣٣٦⦘ فَأَخَذْنَا بِهِ وَلَمْ نَجِدْهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ مُتْعَةِ الْحَجِّ فِي رِوَايَةٍ صَحِيحَةٍ عَنْهُ، وَوَجَدْنَا فِي قَوْلِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَا دَلَّ عَلَى أَنَّهُ أَحَبَّ أَنْ يَفْصِلَ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ لِيَكُونَ أَتَمَّ لَهُمَا فَحَمَلْنَا نَهْيَهُ عَنْ مُتْعَةِ الْحَجِّ عَنِ التَّنْزِيهِ، وَعَلَى اخْتِيَارِ الْأَفْرَادِ عَلَى غَيْرِهِ لَا عَلَى التَّحْرِيمِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما متعہ سے منع کرتے جبکہ ابن عباس رضی اللہ عنہما متعہ کا حکم فرماتے، وہ کہتے ہیں: میرے سامنے حدیث تھی کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ متعہ کیا، لیکن جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو انہوں نے لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا کہ یقیناً یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور یہ قرآن ہے، متعہ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں اجازت تھی لیکن میں ان دونوں متعوں سے منع کرتا ہوں اور ان کی وجہ سے سزا بھی دیتا ہوں: (1) عورتوں سے متعہ کرنا، میں نے جس آدمی کو بھی پکڑ لیا، پتھر مار مار کر رجم کر دوں گا۔ (2) اور دوسرا متعہ یعنی حج میں فائدہ اٹھانا، تم اپنے حج کو عمرہ سے جدا کرو، یقیناً تمہارا حج کو پورا کرنے والا عمرہ کو زیادہ احسن انداز سے پورا کرنے والا ہے۔
نوٹ: شیخ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ان کے جواز میں کوئی شک نہیں ہے، لیکن نکاحِ متعہ سے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے سال اجازت کے بعد منع فرما دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات تک اس کی اجازت نہ دی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی موافقت کی بنا پر منع فرمایا۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج تمتع سے منع نہ فرمایا تھا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حج تمتع سے منع فرمایا، ان کے نزدیک حج و عمرہ کو الگ الگ کرنا افضل ہے تاکہ حج و عمرہ کو مکمل طور پر احسن انداز سے ادا کیا جائے، لیکن حج تمتع سے ممانعت تنزیہی ہے نہ کہ تحریمی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 14170]
نوٹ: شیخ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ان کے جواز میں کوئی شک نہیں ہے، لیکن نکاحِ متعہ سے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے سال اجازت کے بعد منع فرما دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات تک اس کی اجازت نہ دی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی موافقت کی بنا پر منع فرمایا۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج تمتع سے منع نہ فرمایا تھا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حج تمتع سے منع فرمایا، ان کے نزدیک حج و عمرہ کو الگ الگ کرنا افضل ہے تاکہ حج و عمرہ کو مکمل طور پر احسن انداز سے ادا کیا جائے، لیکن حج تمتع سے ممانعت تنزیہی ہے نہ کہ تحریمی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 14170]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح