السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2936. -- باب: لا عدوى على الوجه الذي كانوا في الجاهلية يعتقدونه من إضافة الفعل إلى غير الله تعالى
-- باب: اس بیان میں کہ زمانہ جاہلیت کے عقیدے کے مطابق، جس میں وہ فعل کی نسبت غیر اللہ کی طرف کرتے تھے، کوئی بیماری متعدی (اڑ کر نہیں لگتی) نہیں ہوتی۔
حدیث نمبر: 14232
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْبَغَوِيُّ، بِبَغْدَادَ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوْحٍ الْمَدَائِنِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ.
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیماری متعدی نہیں ہوتی اور بدشگونی جائز نہیں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 14232]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 2225»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14233
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا ⦗٣٥٢⦘ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلَانِيُّ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ، ثنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا عَدْوَى وَلَا هَامَةَ وَلَا صَفَرَ"، فَقَامَ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ الْإِبِلَ تَكُونُ فِي الرَّمْلِ كَأَنَّهَا الظِّبَاءُ فَيَرِدُ عَلَيْهَا الْبَعِيرُ الْجَرِبُ فَتَجْرَبُ كُلُّهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ؟"، لَفْظُ حَدِيثِ مَعْمَرٍ، وَفِي رِوَايَةِ يُونُسَ حِينَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا عَدْوَى وَلَا صَفَرَ وَلَا هَامَ"، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَمَا بَالُ الْإِبِلِ تَكُونُ فِي الرَّمْلِ كَأَنَّهَا الظِّبَاءُ فَيَجِيءُ الْبَعِيرُ الْأَجْرَبُ فَيَدْخُلُ فِيهَا فَيُجْرِبُهَا؟ قَالَ:" فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ؟"، أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیماری متعدی نہیں ہوتی اور الو منحوس نہیں اور صفر کا مہینہ بھی منحوس نہیں“ تو ایک اعرابی کھڑا ہوا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اونٹ ریت میں ہرن کی مانند ہوتے ہیں، ان میں خارش والا اونٹ لایا جاتا ہے تو سارے خارشی ہو جاتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”پہلے کو خارش والا کس نے کیا؟“
(ب) یونس کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیماری متعدی نہیں ہوتی اور صفر کا مہینہ منحوس نہیں ہوتا اور کوئی الو منحوس نہیں ہے“ تو ایک دیہاتی نے کہا: تو ان اونٹوں کی کیا حالت ہے جو تندرست ہرن کی مانند ہوتے ہیں ان میں خارش والا اونٹ آ جاتا ہے تو ان کو بھی خارش زدہ کر دیتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”پہلے کو کس نے خارش لگائی؟“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 14233]
(ب) یونس کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیماری متعدی نہیں ہوتی اور صفر کا مہینہ منحوس نہیں ہوتا اور کوئی الو منحوس نہیں ہے“ تو ایک دیہاتی نے کہا: تو ان اونٹوں کی کیا حالت ہے جو تندرست ہرن کی مانند ہوتے ہیں ان میں خارش والا اونٹ آ جاتا ہے تو ان کو بھی خارش زدہ کر دیتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”پہلے کو کس نے خارش لگائی؟“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 14233]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 2220»
الحكم على الحديث: صحيح