السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2962. -- باب: الشروط في النكاح
-- باب: نکاح میں شرائط عائد کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 14440
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ح وَأَخْبَرَنَا ابْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، وَأَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ قَالُوا: ثنا سَعْدَانُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ قَالَ:" هُوَ مَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا" قَالَ سُفْيَانُ: قَالَ الزُّهْرِيُّ وَغَيْرُهُ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ شَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللهِ فَلَيْسَ لَهُ ذَاكَ وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ".
ابو شعثاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں: (پورا کرنے کے قابل شرط) وہ ہے جس کے ذریعے اس کی شرمگاہ کو حلال کیا گیا۔
زہری وغیرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ایسی شرط لگائی جو کتاب اللہ میں نہیں تو اس کا کوئی اعتبار نہیں، اگرچہ سو شرطیں بھی ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14440]
زہری وغیرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ایسی شرط لگائی جو کتاب اللہ میں نہیں تو اس کا کوئی اعتبار نہیں، اگرچہ سو شرطیں بھی ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14440]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14441
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ سُئِلَ عَنِ الْمَرْأَةِ تَشْتَرِطُ عَلَى زَوْجِهَا أَنَّهُ لَا يَخْرُجُ بِهَا مِنْ بَلَدِهَا قَالَ: فَقَالَ سَعِيدٌ:" يَخْرُجُ بِهَا إِنْ شَاءَ" وَرُوِّينَا عَنِ الشَّعْبِيِّ فِي رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَشَرَطَ لَهَا دَارَهَا، فَقَالَ:" زَوْجُهَا دَارُهَا"، وَرُوِّينَا عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ:" أَرَى أَنْ يُوفِيَ لَهَا بِشَرْطِهَا"، وَقَوْلُ الْجَمَاعَةِ أَوْلَى.
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ جو عورت اپنے خاوند کے لیے شرط لگا دیتی ہے کہ وہ اسے اس شہر سے باہر لے کر نہ جائے گا تو سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر چاہے تو لے جا سکتا ہے۔
(ب) شعبی رحمہ اللہ اس مرد کے بارے میں فرماتے ہیں جس نے اپنی بیوی پر گھر رہنے کی شرط لگا دی تو وہ فرماتے ہیں کہ اس کا خاوند ہی اس کا گھر ہے۔
(ج) سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عورت کی شرط کو پورا کیا جائے گا۔
جمہور کا قول زیادہ بہتر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14441]
(ب) شعبی رحمہ اللہ اس مرد کے بارے میں فرماتے ہیں جس نے اپنی بیوی پر گھر رہنے کی شرط لگا دی تو وہ فرماتے ہیں کہ اس کا خاوند ہی اس کا گھر ہے۔
(ج) سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عورت کی شرط کو پورا کیا جائے گا۔
جمہور کا قول زیادہ بہتر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14441]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14442
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، أنبأ قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَقَالَ: إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً وَشَرَطْتُ لَهَا الْفُرْقَةَ وَالْجِمَاعَ بِيَدِهَا فَقَالَ:" خَالَفْتَ السُّنَّةَ وَوَلَّيْتَ الْأَمْرَ غَيْرَ أَهْلِهِ فَالصَّدَاقُ وَالْفِرَاقُ وَالْجِمَاعُ بِيَدِكَ"، قَالَ: وَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً وَشَرَطْتُ لَهَا إِنْ لَمْ أَجِيءْ بِكَذَا وَكَذَا إِلَى كَذَا وَكَذَا فَلَيْسَ لِي نِكَاحٌ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" النِّكَاحُ جَائِزٌ وَالشَّرْطُ لَيْسَ بِشَيْءٍ".
عطاء خراسانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک مرد حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں نے ایک عورت سے اس شرط پر شادی کی ہے کہ جدائی اور جماع اس کی مرضی سے ہوگا، فرماتے ہیں: تم نے سنت کی خلاف ورزی کی ہے اور معاملہ تم نے اس کے سپرد کر دیا جو اس کا اہل نہیں ہے، حق مہر، جدائی اور جماع یہ معاملات تمہارے ہاتھ میں ہیں۔ ایک دوسرا شخص ان کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں نے عورت سے نکاح کیا اور اس سے یہ شرط کی کہ اگر میں فلاں چیز فلاں وقت تک نہ لایا تو میرا کوئی نکاح نہیں ہے، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نکاح جائز ہے لیکن شرط درست نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14442]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14443
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا ⦗٤٠٩⦘ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ، أَنَّ رَجُلًا نَكَحَ امْرَأَةً فَأَصْدَقَتْهُ الْمَرْأَةُ وَشَرَطَتْ عَلَيْهِ أَنَّ بِيَدِهَا أَمْرَ الْجِمَاعِ وَالْفُرْقَةِ، فَقِيلَ لَهُ خَالَفْتَ السُّنَّةَ، وَوَلَّيْتَ الْحَقَّ غَيْرَ أَهْلِهِ فَقَضَى ابْنُ عَبَّاسٍ" أَنَّ عَلَيْهِ الصَّدَاقَ وَبِيَدِهِ الْجِمَاعُ وَالْفُرْقَةُ".
عطاء خراسانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے عورت سے نکاح کیا، حق مہر عورت نے ادا کیا اور شرط رکھی کہ جماع اور جدائی اس کے سپرد ہے، اس مرد سے کہا گیا: تو نے سنت کی خلاف ورزی کی ہے اور تو نے حق نااہل کو دے دیا ہے، تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فیصلہ دیا کہ حق مہر مرد کے ذمہ اور جماع اور فرقت مرد کی مرضی سے ہوگی۔
(ب) عطاء خراسانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے متعلق سوال کیا گیا جس نے کسی عورت سے شادی کی تو عورت نے مرد کے لیے شرط رکھی کہ جماع اور فرقت کا کام اس عورت کی مرضی پر منحصر ہے اور حق مہر عورت ادا کرے گی تو انہوں نے فرمایا: اس نے سنت کی خلاف ورزی کی ہے اور معاملہ غیر اہل کے سپرد کر دیا ہے۔ حق مہر مرد کے ذمہ لازم ہے اور جماع و فرقت کا معاملہ بھی مرد کے سپرد ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14443]
(ب) عطاء خراسانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے متعلق سوال کیا گیا جس نے کسی عورت سے شادی کی تو عورت نے مرد کے لیے شرط رکھی کہ جماع اور فرقت کا کام اس عورت کی مرضی پر منحصر ہے اور حق مہر عورت ادا کرے گی تو انہوں نے فرمایا: اس نے سنت کی خلاف ورزی کی ہے اور معاملہ غیر اہل کے سپرد کر دیا ہے۔ حق مہر مرد کے ذمہ لازم ہے اور جماع و فرقت کا معاملہ بھی مرد کے سپرد ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14443]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14444
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَعُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ ابْنُ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْقَاسِمِ، مَوْلَى خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" النِّسَاءُ مَعَ أَزْوَاجِهِنَّ حَيْثُ مَا كَانُوا، إِلَّا نِسَاءَ الْأَنْصَارِ لَا يَخْرُجْنَ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ" يَعْنِي مِنَ الْمَدِينَةِ جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ هَذَا ضَعِيفٌ جِدًّا.
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورتیں مردوں کے ساتھ ہی رہیں گی جہاں بھی ان کے مرد ہوں سوائے انصاری عورتوں کے کہ وہ مدینہ سے نہ نکالی جائیں گی۔“
یہ جعفر بن زبیر سخت ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14444]
یہ جعفر بن زبیر سخت ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14444]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف