السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2978. -- باب: يجيب المدعو صائما كان أو مفطرا وما يفعل كل واحد منهما
-- باب: مدعو (جسے بلایا گیا ہو) دعوت قبول کرے خواہ وہ روزے سے ہو یا روزے سے نہ ہو، اور ان میں سے ہر ایک کیا کرے، اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 14532
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْقَطَّانُ النَّيْسَابُورِيُّ ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ الْأَخْرَمِ ثنا حَامِدُ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ، ثنا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَا: ثنا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى طَعَامٍ فَلْيُجِبْ فَإِنْ كَانَ مُفْطِرًا فَلْيَطْعَمْ وَإِنْ كَانَ صَائِمًا فَلْيُصَلِّ" يَعْنِي الدُّعَاءَ هَذِهِ رِوَايَةُ رَوْحٍ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، مِنْ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ⦗٤٣٠⦘.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تمہیں کھانے کی دعوت دی جائے تو اسے قبول کرو، اگر بے روزہ ہو تو کھانا کھاؤ اور اگر روزہ دار ہو تو دعا کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14532]
حدیث نمبر: 14533
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ يَعْنِي بِمَعْنَى حَدِيثِ مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ فِي الْوَلِيمَةِ زَادَ:" فَإِنْ كَانَ مُفْطِرًا فَلْيَطْعَمْ، وَإِنْ كَانَ صَائِمًا فَلْيَدْعُ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، مالک نے جو نافع سے بیان کی ہے، وہ اس کے ہم معنی ہے، لیکن کچھ اضافہ ہے: ”اگر روزہ دار ہے تو دعا کرے اگر بےروزہ ہے تو کھانا کھائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14533]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه السجستاني 3736»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14534
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ كَانَ إِذَا دُعِيَ إِلَى وَلِيمَةِ عُرْسٍ أَجَابَ صَائِمًا كَانَ أَوْ مُفْطِرًا فَإِنْ كَانَ صَائِمًا دَعَا وَبَرَّكَ، وَإِنْ كَانَ مُفْطِرًا أَكَلَ.
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا معمول تھا کہ جب انہیں شادی کے ولیمہ کی دعوت دی جاتی تو روزے سے ہوتے یا بےروزہ، دعوت قبول کرتے، اگر روزہ دار ہوتے تو برکت کی دعا کرتے، اگر بےروزہ ہوتے تو کھانا کھاتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14534]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14535
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، سَمِعَ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ أَبِي يَزِيدَ، يَقُولُ: دَعَا أَبِي عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ فَأَتَاهُ فَجَلَسَ وَوُضِعَ الطَّعَامُ فَمَدَّ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ يَدَهُ وَقَالَ:" خُذُوا بِسْمِ اللهِ" وَقَبَضَ عَبْدُ اللهِ يَدَهُ وَقَالَ:" إِنِّي صَائِمٌ".
عبیداللہ بن ابی یزید کہتے ہیں کہ میرے والد نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دعوت دی تو وہ آئے اور بیٹھے، کھانا رکھا گیا تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنا ہاتھ کھانے میں رکھا اور فرمایا: ” «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام کے ساتھ“ پڑھ کر شروع کرو۔“ اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما نے اپنا ہاتھ اٹھا لیا اور فرمایا: ”میں روزے سے ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14535]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14536
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، ثنا الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، أَنَّ أَبَاهُ دَعَا نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَوْهُ فِيهِمْ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَحْسَبُهُ قَالَ:" فَبَارَكَ وَانْصَرَفَ" قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ رَوَيْنَا فِيمَا تَقَدَّمَ أَنَّهُ كَانَ صَائِمًا فَصَلَّى يَقُولُ: دَعَا بِالْبَرَكَةِ ثُمَّ خَرَجَ.
محمد بن سیرین فرماتے ہیں کہ ان کے والد نے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ایک گروہ کو دعوت دی۔ میرا خیال ہے ان میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بھی تھے، تو انہوں نے برکت کی دعا کی اور چلے گئے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پہلے روایتوں میں گزر گیا ہے کہ وہ روزے سے تھے، انہوں نے دعا کی اور چلے گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14536]
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پہلے روایتوں میں گزر گیا ہے کہ وہ روزے سے تھے، انہوں نے دعا کی اور چلے گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14536]