السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3003. -- باب: لا يتحرج من طعام أحله الله تعالى
-- باب: اس بیان میں کہ جسے اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا ہے اس کھانے سے پرہیز نہ کیا جائے۔
حدیث نمبر: 14622
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، نا زُهَيْرٌ، نا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، نا قَبِيصَةُ بْنُ هُلْبٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنَّ مِنَ الطَّعَامِ طَعَامًا أَتَحَرَّجُ مِنْهُ فَقَالَ:" لَا يَخْتَلِجَنَّ فِي نَفْسِكَ شَيْءٌ ضَارَعْتَ فِيهِ النَّصْرَانِيَّةَ"، وَرُوِيَ فِي ذَلِكَ أَيْضًا عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
قبیصہ بن ہلب اپنے والد (سیدنا ہلب رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک آدمی نے سوال کیا کہ میں بعض کھانوں میں حرج محسوس کرتا ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے دل میں کوئی ایسی چیز خلش پیدا نہ کرے جس میں تم عیسائیت کی مشابہت اختیار کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14622]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14623
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، نا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ الْقَيْسِيُّ، نا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ مُرِّيِّ بْنِ قَطَرِيٍّ، رَجُلٍ مِنْ طَيٍّ مِنْ بَنِي ثُعَلٍ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَبِي كَانَ يَصِلُ الرَّحِمَ وَيَفْعَلُ وَيَفْعَلُ وَإِنَّهُ مَاتَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَبَاكَ أَرَادَ أَمْرًا فَأَدْرَكَهُ" يَعْنِي الذِّكْرَ، قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكَ عَنْ طَعَامٍ لَا أَدَعُهُ إِلَّا تَحَرُّجًا قَالَ:" فَلَا تَحَرَّجْ مِنْ شَيْءٍ ضَارَعْتَ فِيهِ النَّصْرَانِيَّةَ" قَالَ: قُلْتُ ⦗٤٥٦⦘ أُرْسِلُ كَلْبِي فَيَأْخُذُ الصَّيْدَ فَلَا يَكُونُ مَعِي مَا أُذَكِّيهِ إِلَّا الْمَرْوَةَ وَالْعَصَا فَقَالَ:" أَمِرَّ الدَّمَ بِمَا شِئْتَ وَاذْكُرِ اسْمَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ".
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا باپ صلہ رحمی کرتا تھا اور فلاں فلاں کام، لیکن وہ جاہلیت میں فوت ہو گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے باپ نے جو ارادہ کیا پا لیا، یعنی شہرت۔“ وہ کہتے ہیں: میں تو کسی حرج کی وجہ سے کھانے کو چھوڑنے کے متعلق سوال کرنا چاہتا ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کسی چیز میں حرج محسوس نہ کرو، وگرنہ تم نصرانیت کی مشابہت اختیار کرنے والے ہو۔“ وہ کہنے لگے: میں اپنے کتے کو چھوڑتا ہوں وہ شکار پکڑ کر لاتا ہے تو میں اسے پتھر یا لاٹھی سے ذبح کر لیتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خون بہاؤ جس سے چاہو اور اللہ کا نام لو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14623]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف