السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3025. -- باب: ما جاء في عظم حق الزوج على المرأة
-- باب: عورت پر شوہر کے حق کی عظمت کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 14704
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْبَزَّازُ نا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا لِمَا عَظَّمَ اللهُ مِنْ حَقِّهِ عَلَيْهَا".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں کسی کو سجدے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے، اس وجہ سے کہ اللہ نے اس کا بہت زیادہ حق عورت پر رکھا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ القَسْمِ وَالنُّشُوزِ/حدیث: 14704]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 14705
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْمَشٍ الزِّيَادِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ نا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ النَّخَعِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، نا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ قَيْسٍ قَالَ: قَدِمْتُ الْحِيرَةَ فَرَأَيْتُ ⦗٤٧٦⦘ أَهْلَهَا يَسْجُدُونَ لِمَرْزُبَانَ لَهُمْ فَقُلْتُ نَحْنُ كُنَّا أَحَقَّ أَنْ نَسْجُدَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلَيْهِ أَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي رَأَيْتُ قُلْتُ: نَحْنُ كُنَّا أَحَقَّ أَنْ نَسْجُدَ لَكَ فَقَالَ:" لَا تَفْعَلُوا أَرَأَيْتَ لَوْ مَرَرْتَ بِقَبْرِي أَكُنْتَ سَاجِدًا؟" قُلْتُ: لَا قَالَ:" فَلَا تَفْعَلُوا فَإِنِّي لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ النِّسَاءَ أَنْ يَسْجُدْنَ لِأَزْوَاجِهِنَّ لِمَا جَعَلَ اللهُ مِنْ حَقِّهِمْ عَلَيْهِنَّ" وَرَوَاهُ غَيْرُهُ عَنْ شَرِيكٍ فَقَالَ عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ.
شعبی رحمہ اللہ، قیس رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں حیرہ شہر میں آیا تو وہاں کے لوگ اپنے سردار کو سجدہ کر رہے تھے۔ میں نے کہا کہ ہم زیادہ حق دار ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ کریں، میں نے واپس آکر جو دیکھا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا اور کہا کہ ہم زیادہ حق رکھتے ہیں کہ آپ کو سجدہ کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا نہ کرنا، کیا تم میری قبر کے پاس سے گزرو تو سجدہ کرو گے؟“ میں نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا نہ کرو۔ اگر میں کسی کو سجدے کا حکم دیتا تو عورتوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوندوں کو سجدہ کریں، کیونکہ ان کے حقوق اللہ رب العزت نے ان پر رکھے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ القَسْمِ وَالنُّشُوزِ/حدیث: 14705]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 14706
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، نا الْحُمَيْدِيُّ، نا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ مِحْصَنٍ قَالَ: حَدَّثَتْنِي عَمَّتِي قَالَتْ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ الْحَاجَةِ قَالَ:" أَيْ هَذِهِ أَذَاتُ بَعْلٍ أَنْتِ؟" قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ:" فَكَيْفَ أَنْتِ لَهُ؟" قَالَتْ: مَا آلُوهُ إِلَّا مَا عَجَزْتُ عَنْهُ، قَالَ:" فَأَيْنَ أَنْتِ مِنْهُ فَإِنَّمَا هُوَ جَنَّتُكِ وَنَارُكِ".
حصین بن محصن کہتے ہیں کہ میری پھوپھی رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کسی کام کے لیے گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تیرا خاوند ہے؟“ میں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیری کیا حالت ہے اس کے لیے؟“ اس نے کہا: میں کمی نہیں کرتی جب تک میں عاجز نہ آجاؤں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اس سے کہاں ہے؟ وہ تیری جنت اور جہنم ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ القَسْمِ وَالنُّشُوزِ/حدیث: 14706]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الحميدي 358»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14707
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، أنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، ثنا رَبِيعَةُ بْنُ عُثْمَانَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ نَهَارٍ الْعَبْدِيِّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنَةٍ لَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ هَذِهِ ابْنَتِي قَدْ أَبَتْ أَنْ تَتَزَوَّجَ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَطِيعِي أَبَاكِ"، فَقَالَتْ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَتَزَوَّجُ حَتَّى تُخْبِرَنِي مَا حَقُّ الزَّوْجِ عَلَى زَوْجَتِهِ قَالَ:" حَقُّ الزَّوْجِ عَلَى زَوْجَتِهِ أَنْ لَوْ كَانَتْ لَهُ قُرْحَةٌ فَلَحَسَتْهَا مَا أَدَّتْ حَقَّهُ".
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص اپنی بیٹی کو لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میری اس بیٹی نے شادی سے انکار کر دیا ہے،“ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے باپ کی اطاعت کرو۔“ وہ کہنے لگی: ”اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! جب تک آپ مجھے خاوند کا حق بیوی پر کیا ہے نہ بتائیں گے تو میں شادی نہ کروں گی۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خاوند کا حق بیوی پر اتنا ہے کہ اگر خاوند کو زخم ہو اور بیوی اس کے زخم کو چاٹ کر صاف کرے تب بھی خاوند کا حق ادا نہیں ہوتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ القَسْمِ وَالنُّشُوزِ/حدیث: 14707]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن