السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3040. -- باب: ما جاء في وعظها
-- باب: عورت کو نصیحت کرنے کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 14771
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، نا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، حَدَّثَنِي أَبُو هَاشِمٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ كَثِيرٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كُنْتُ وَفْدَ بَنِي الْمُنْتَفِقِ أَوْ فِي وَفْدِ بَنِي الْمُنْتَفِقِ فَأَتَيْنَاهُ فَلَمْ نُصَادِفْهُ وَصَادَفْنَا عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَأُتِينَا بِقِنَاعٍ فِيهِ تَمْرٍ وَالْقِنَاعُ الطَّبَقُ وَأَمَرَتْ لَنَا بِخَزِيرَةٍ فَصُنِعَتْ ثُمَّ أَكَلْنَا فَلَمْ نَلْبَثْ أَنْ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:"" هَلْ أَكَلْتُمْ شَيْئًا هَلْ أُمِرَ لَكُمْ بِشَيْءٍ؟"" قُلْنَا: نَعَمْ، فَلَمْ نَلْبَثْ أَنْ دَفَعَ الرَّاعِي غَنَمَهُ فَإِذَا بِسَخْلَةٍ تَيْعَرُ فَقَالَ:"" هِيهِ يَا فُلَانُ مَا وَلَدَتْ"" قَالَ: بَهْمَةً قَالَ:"" فَاذْبَحْ لَنَا مَكَانَهَا شَاةً"" ثُمَّ انْحَرَفَ إِلِيَّ وَقَالَ"" لَا تَحْسَبَنَّ"" وَلَمْ يَقُلْ لَا تَحْسَبَنَّ أَنَّا مِنْ أَجْلِكَ ذَبَحْنَاهَا"" لَنَا غَنَمٌ مِائَةٌ لَا نُرِيدُ أَنْ تَزِيدَ فَإِذَا وَلَدَ الرَّاعِي بَهْمَةً ذَبَحْنَا مَكَانَهَا شَاةً"" قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ: إِنَّ لِيَ امْرَأَةً فِي لِسَانِهَا شَيْءٌ يَعْنِي الْبَذَاءَ قَالَ:"" طَلِّقْهَا""، قُلْتُ: إِنَّ لِي مِنْهَا وَلَدًا وَلَهَا صُحْبَةٌ قَالَ:"" فَمُرْهَا"" يَقُولُ:"" عِظْهَا فَإِنْ يَكُ فِيهَا خَيْرٌ فَسَتَقْبَلْ وَلَا تَضْرِبْنَ ظَعِينَتَكَ ضَرْبَكَ أُمَيَّتَكَ"" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَخْبِرْنِي عَنِ الْوُضُوءِ قَالَ: أَسْبِغِ الْوُضُوءَ وَخَلِّلْ بَيْنَ الْأَصَابِعِ وَبَالِغْ فِي الِاسْتِنْشَاقِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا"".
عاصم بن لقیط بن صبرہ اپنے والد (سیدنا لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ میں بنی منتفق کے وفد میں تھا، ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات نہ ہو سکی اور ہماری ملاقات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہوئی۔ ہمارے سامنے پلیٹ میں کھجوریں لائی گئیں اور انہوں نے ہمارے لیے خزیدہ بنوانے کا حکم دیا (خزیدہ وہ سالن ہے جو قیمہ اور آٹا ملا کر بنایا جاتا ہے)۔ کھانا تیار کیا گیا، ہم نے کھانا کھایا تو اتنی دیر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے اور دریافت فرمایا: ”کیا تم نے کچھ کھایا ہے؟ یا تمہارے لیے کچھ بنوانے کا حکم دیا گیا ہے؟“ ہم نے عرض کیا: جی ہاں۔ اتنی دیر میں چرواہا بھی بکریاں لے کر آگیا، اچانک ایک بکری نے بچہ جنا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اے چرواہے! کیا جنا ہے؟“ اس نے عرض کیا: بچہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی جگہ ایک بکری ذبح کر دو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”تم یہ گمان نہ کرنا اور یہ نہ کہنا کہ ہم نے تمہاری خاطر ذبح کی ہے، اصل میں ہمارے پاس سو بکریاں ہیں، ہم نہیں چاہتے کہ ان کی تعداد سو سے بڑھے، اس لیے جب بھی کوئی بکری بچہ جنتی ہے تو ہم اس کی جگہ ایک بکری ذبح کر دیتے ہیں۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میری بیوی بدزبان ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے طلاق دے دو۔“ میں نے عرض کیا: اس سے میری اولاد ہے اور مجھے اس سے محبت بھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے نصیحت کرو، اگر اس میں کچھ بھلائی ہوئی تو وہ اسے قبول کر لے گی، اور اپنی بیوی کو لونڈی کی طرح نہ مارو۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے وضو کے بارے میں بتائیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وضو کامل طریقے سے کرو، انگلیوں کا خلال کرو اور ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ کرو سوائے اس کے کہ تم روزے سے ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ القَسْمِ وَالنُّشُوزِ/حدیث: 14771]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح