السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3058. -- باب: الوجه الذي تحل به الفدية
-- باب: اس صورت کا بیان جس میں (خلع کے عوض) فدیہ لینا حلال ہے۔
حدیث نمبر: 14855
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، ح، وَأنا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ مَوْلَاةٍ لِصَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ، امْرَأَةِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ" أَنَّهَا اخْتَلَعَتْ مِنْ زَوْجِهَا بِكُلِّ شَيْءٍ لَهَا فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا".
نافع رحمہ اللہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی بیوی صفیہ بنت ابی عبید کی ایک لونڈی سے نقل فرماتے ہیں کہ اس نے اپنے خاوند سے اپنی ہر چیز کے بدلے خلع کیا تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کا انکار نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ القَسْمِ وَالنُّشُوزِ/حدیث: 14855]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14856
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْإِسْفِرَايِينِيُّ بِهَا، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، نا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ، نا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، نا رَوْحٌ، عَنْ ⦗٥١٦⦘ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ ابْنِ عَفْرَاءَ قَالَتْ: تَزَوَّجْتُ ابْنَ عَمٍّ لِي فَشَقِيَ بِي وَشَقِيتُ بِهِ وَعَنِيَ بِي، وَعَنَيْتُ بِهِ وَإِنِّي اسْتَأْدَيْتُ عَلَيْهِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَظَلَمَنِي وَظَلَمْتُهُ وَكَثُرَ عَلَيَّ وَكَثُرْتُ عَلَيْهِ، وَإِنَّهَا انْفَلَتَتْ مِنِّي كَلِمَةُ أَنَا أَفْتَدِي بِمَالِي كُلِّهِ، قَالَ: قَدْ قَبِلْتُ، فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: خُذْ مِنْهَا قَالَتْ: فَانْطَلَقْتُ فَدَفَعْتُ إِلَيْهِ مَتَاعِي كُلَّهُ إِلَّا ثِيَابِي وَفِرَاشِي وَأَنَّهُ قَالَ لِي: لَا أَرْضَى وَأَنَّهُ اسْتَأْدَانِي عَلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْهُ قَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ الشَّرْطُ أَمْلَكُ قَالَ: أَجَلْ فَخُذْ مِنْهَا مَتَاعَهَا كُلَّهُ حَتَّى عِقَاصَهَا قَالَتْ: فَانْطَلَقْتُ فَدَفَعْتُ إِلَيْهِ كُلَّ شَيْءٍ حَتَّى أَجَفْتُ بَيْنِي وَبَيْنَهُ الْبَابَ.
سیدہ ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اپنے چچا زاد سے شادی کی، اس نے مجھے مشقت میں ڈالا اور میں نے اس کو مشقت میں ڈالا، اس نے مجھے تکلیف میں ڈالا اور میں نے اس کو تکلیف میں ڈالا، میں اس کی شکایت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس لے گئی، اس نے مجھ پر زیادتی کی اور میں نے اس پر زیادتی کی، اس نے میرے ساتھ بہت سختی کی اور میں نے بھی اس کے ساتھ، اور میری زبان سے ایک کلمہ نکل گیا کہ میں اپنا تمام مال فدیہ میں دیتی ہوں۔ اس نے کہہ دیا: میں نے قبول کیا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: لے لو۔ کہتی ہیں: میں نے اپنا تمام سامان اس کو دے دیا سوائے اپنے کپڑوں اور بستر کے۔ اس نے کہا: میں راضی نہیں ہوں۔ پھر وہ میری شکایت لے کر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا۔ جب ہم ان کے قریب ہوئے تو وہ کہنے لگا: اے امیر المومنین! شرط زیادہ لازم ہے، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں، اس کا تمام سامان لے لو حتیٰ کہ بال باندھنے کا بند بھی۔ کہتی ہیں: میں نے جا کر ہر چیز اس کو دے دی یہاں تک کہ میں نے اپنے اور اس کے درمیان دروازہ بند کر لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ القَسْمِ وَالنُّشُوزِ/حدیث: 14856]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف