السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3064. -- باب: ما يقع وما لا يقع على امرأته من طلاقه
-- باب: اس بیان میں کہ شوہر کی دی گئی طلاق میں سے عورت پر کیا واقع ہوتا ہے اور کیا واقع نہیں ہوتا۔
حدیث نمبر: 14868
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا أَبُو عُتْبَةَ، ثنا بَقِيَّةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي رَجُلٍ قَالَ لِامْرَأَتِهِ: إِذَا جَاءَ رَمَضَانُ فَأَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا وَبَيْنَهُ وَبَيْنَ رَمَضَانَ سِتَّةُ أَشْهُرٍ فَنَدِمَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" يُطَلِّقُ وَاحِدَةً فَتَقْضِي عِدَّتَهَا قَبْلَ أَنْ يَجِيءَ رَمَضَانُ فَإِذَا مَضَى خَطَبَهَا إِنْ شَاءَ" وَرُوِّينَا عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ فِيمَنْ قَالَ لِامْرَأَتِهِ: إِنْ كَلَّمَ أَخَاهُ فَامْرَأَتُهُ طَالِقٌ ثَلَاثًا، فَإِنْ شَاءَ طَلَّقَهَا وَاحِدَةً ثُمَّ تَرَكَهَا حَتَّى تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا فَإِذَا بَانَتْ كَلَّمَ أَخَاهُ ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا بَعْدُ إِنْ شَاءَ.
(١٤٨٦٨) حضرت مقسم عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے ایک شخص کے بارے میں نقل فرماتے ہیں جس نے اپنی بیوی سے کہا: جب رمضان آگیا تو تجھے تین طلاقیں اور رمضان کی آمد میں ابھی چھ ماہ باقی تھے وہ پریشان ہوا تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ وہ اپنی بیوی کو رمضان آنے سے پہلے ایک طلاق دے دے اور اس کی عدت گزر جائے اور رمضان گزر جانے کے بعد اگر چاہے تو نکاح کرلے۔
(ب) حضرت حسن بصری (رح) اس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جس نے اپنی عورت سے کہا: اگر اس نے اپنی بھائی سے بات کی تو اس کو تین طلاقیں۔ اگر وہ چاہے تو اپنی بیوی کو ایک طاق دے کر چھوڑ دے حتیٰ کہ اس کی عدت گزر جائے اور جب بھائی سے بات کرلینا واضح ہوجائے تو اس کے بعد چاہے تو اپنی بیوی سے نکاح کرلے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 14868]
(ب) حضرت حسن بصری (رح) اس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جس نے اپنی عورت سے کہا: اگر اس نے اپنی بھائی سے بات کی تو اس کو تین طلاقیں۔ اگر وہ چاہے تو اپنی بیوی کو ایک طاق دے کر چھوڑ دے حتیٰ کہ اس کی عدت گزر جائے اور جب بھائی سے بات کرلینا واضح ہوجائے تو اس کے بعد چاہے تو اپنی بیوی سے نکاح کرلے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 14868]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف