السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3071. -- باب: ما جاء في إمضاء الطلاق الثلاث وإن كن مجموعات
-- باب: تین طلاقوں کو نافذ کرنے کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان اگرچہ وہ بیک وقت دی گئی ہوں۔
حدیث نمبر: 14969
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، نا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ: طَلَّقْتُ امْرَأَتِي ثَلَاثًا وَهِيَ حَائِضٌ فَقَالَ:" عَصَيْتَ رَبَّكَ وَفَارَقْتَ امْرَأَتَكَ".
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ میں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں تین طلاقیں دے دی ہیں، وہ فرماتے ہیں: تو نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور اپنی بیوی کو جدا کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 14969]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 14970
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، نا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، نا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، نا أَبِي، نا شُعْبَةُ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ وَأَنَا شَاهِدٌ، عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ مِائَةً قَالَ:" ثَلَاثٌ تُحَرِّمُ وَسَبْعٌ وَتِسْعُونَ فَضْلٌ".
قیس بن ابی حازم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے میری موجودگی میں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے ایسے شخص کے بارے میں جس نے اپنی بیوی کو سو طلاقیں دے دیں، پوچھا تو انہوں نے فرمایا: تین طلاقیں تو بیوی کو حرام کر دیتی ہیں اور ٩٧ زیادہ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 14970]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14971
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا ⦗٥٥٠⦘ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، نا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ قَالَ: كَانَتْ عَائِشَةُ الْخَثْعَمِيَّةُ عِنْدَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَلَمَّا قُتِلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَتْ: لِتَهْنِئْكَ الْخِلَافَةُ، قَالَ: بِقَتْلِ عَلِيٍّ تُظْهِرِينَ الشَّمَاتَةَ اذْهَبِي فَأَنْتِ طَالِقٌ، يَعْنِي ثَلَاثًا قَالَ: فَتَلَفَّعَتْ بِثِيَابِهَا وَقَعَدَتْ حَتَّى قَضَتْ عِدَّتَهَا فَبَعَثَ إِلَيْهَا بِبَقِيَّةٍ بَقِيَتْ لَهَا مِنْ صَدَاقِهَا وَعَشَرَةِ آلَافٍ صَدَقَةً، فَلَمَّا جَاءَهَا الرَّسُولُ قَالَتْ: مَتَاعٌ قَلِيلٌ مِنْ حَبِيبٍ مَفَارِقٍ، فَلَمَّا بَلَغَهُ قَوْلُهَا بَكَى ثُمَّ قَالَ: لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ جَدِّي أَوْ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ سَمِعَ جَدِّي يَقُولُ:" أَيُّمَا رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا عِنْدَ الْأَقْرَاءِ أَوْ ثَلَاثًا مُبْهَمَةً لَمْ تَحِلَّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ" لَرَاجَعْتُهَا". وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شِمْرٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مُسْلِمٍ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ.
سوید بن غفلہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عائشہ خثعمیہ رضی اللہ عنہا حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے نکاح میں تھیں۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ شہید کر دیے گئے تو وہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے کہنے لگیں: آپ کو خلافت مبارک ہو۔ تو حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قتل پر خوشی کا اظہار کرتی ہو! جاؤ تجھے تین طلاقیں ہیں۔“ اس نے اپنے کپڑے لپیٹے اور بیٹھ گئی، یہاں تک کہ اس نے اپنی عدت پوری کی تو حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے اس کی جانب باقی ماندہ حق مہر بھیجا اور دس ہزار اضافی دیا۔ جب قاصد آیا تو عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: یہ قلیل مال ہے جدا ہونے والے محبوب کے مقابلے میں۔ جب عائشہ رضی اللہ عنہا کی بات حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو وہ رو پڑے، پھر فرمانے لگے: اگر میں نے اپنے نانا سے یا میرے باپ نے مجھے بیان نہ کیا ہوتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے اپنی عورت کو حیض کے موقع پر تین طلاقیں دیں یا پوشیدہ انداز سے تین طلاقیں دیں تو یہ عورت اس شخص کے لیے حلال نہیں یہاں تک کہ کسی دوسرے خاوند سے نکاح کر لے“ تو البتہ میں اس سے رجوع کر لیتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 14971]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف