السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3080. -- باب: ما جاء في التمليك
-- باب: تملیک (عورت کو طلاق کا مالک بنا دینے) کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 15047
وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ، أنا أَبُو سَعِيدٍ، نا الزَّعْفَرَانِيُّ، نا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، نا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ:" إِذَا مَلَّكَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ مَرَّةً وَاحِدَةً فَإِنْ قَضَتْ فَلَيْسَ لَهُ مِنْ أَمْرِهَا شَيْءٌ وَإِنْ لَمْ تَقْضِ فَهِيَ وَاحِدَةٌ وَأَمْرُهَا إِلَيْهِ" كَذَا وَجَدْتُهُ وَفِي إِسْنَادِهِ خَلَلٌ وَقَدِ اتَّفَقَ قَوْلُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي التَّخْيِيرِ وَالتَّمْلِيكِ وَكَذَا قَوْلُ عُمَرَ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِيهِمَا مُتَّفِقٌ، وَأَمَّا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَدِ اخْتَلَفَ قَوْلُهُ فِيهِمَا كَمَا رَوَيْنَا وَقَدْ رَوَى الثَّوْرِيُّ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنِ الشَّعْبِيِّ فِي اخْتَارِي وَأَمْرُكِ بِيَدِكِ سَوَاءٌ فِي قَوْلِ عَلِيٍّ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَكَأَنَّهُ عَلِمَ مِنْهُ قَوْلًا آخَرَ فِي إِحْدَى الْمَسْأَلَتَيْنِ يُوَافِقُ قَوْلَهُ فِي الْمَسْأَلَةِ الْأُخْرَى وَاللهُ أَعْلَمُ.
حارث حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب خاوند بیوی کو اپنا اختیار ایک مرتبہ سپرد کر دیتا ہے، اگر وہ کوئی فیصلہ کر دے تو خاوند کے پاس اس کے معاملے میں سے کچھ بھی (اختیار) باقی نہیں رہتا، اور اگر وہ فیصلہ نہ کرے تو یہ ایک طلاق ہے اور اس کا معاملہ خاوند کے سپرد ہو گا۔
اس کی سند میں خلل ہے۔
نوٹ: «التَّخْيِيرِ وَالتَّمْلِيكِ» میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ایک جیسا ہے، اسی طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول بھی دونوں میں ایک جیسا ہے، جبکہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا قول ان دونوں میں مختلف ہے جیسا کہ ہم نے روایت کیا، ثوری، ابن ابی لیلیٰ سے اور وہ شعبی سے نقل فرماتے ہیں کہ «اخْتَارِي» اور «أَمْرُكِ بِيَدِكِ» حضرت علی، حضرت زید بن ثابت اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہم کے قول میں برابر ہیں، گویا کہ انہیں ان سے ان دو مسئلوں میں سے ایک میں کوئی دوسرا قول معلوم تھا جو دوسرے مسئلہ میں ان کے قول کے موافق ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 15047]
اس کی سند میں خلل ہے۔
نوٹ: «التَّخْيِيرِ وَالتَّمْلِيكِ» میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ایک جیسا ہے، اسی طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول بھی دونوں میں ایک جیسا ہے، جبکہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا قول ان دونوں میں مختلف ہے جیسا کہ ہم نے روایت کیا، ثوری، ابن ابی لیلیٰ سے اور وہ شعبی سے نقل فرماتے ہیں کہ «اخْتَارِي» اور «أَمْرُكِ بِيَدِكِ» حضرت علی، حضرت زید بن ثابت اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہم کے قول میں برابر ہیں، گویا کہ انہیں ان سے ان دو مسئلوں میں سے ایک میں کوئی دوسرا قول معلوم تھا جو دوسرے مسئلہ میں ان کے قول کے موافق ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 15047]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15048
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، نا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ: قُلْتُ لِأَيُّوبَ: هَلْ تَعْلَمُ أَحَدًا قَالَ بِقَوْلِ الْحَسَنِ فِي:" أَمْرُكِ بِيَدِكِ" أَنَّهُ ثَلَاثٌ؟ فَقَالَ: لَا إِلَّا شَيْءٌ حَدَّثَنَا بِهِ قَتَادَةُ عَنْ كَثِيرٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ" قَالَ أَيُّوبُ: فَقَدِمَ عَلَيْنَا كَثِيرٌ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: مَا حَدَّثْتُ بِهِ قَطُّ فَذَكَرْتُهُ لِقَتَادَةَ فَقَالَ: بَلَى وَلَكِنْ قَدْ نُسِيَ كَثِيرٌ هَذَا لَمْ يَثْبُتْ مِنْ مَعْرِفَتِهِ مَا يُوجِبُ قَبُولَ رِوَايَتِهِ، وَقَوْلُ الْعَامَّةِ بِخِلَافِ رِوَايَتِهِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حماد بن زید کہتے ہیں کہ میں نے ایوب سے پوچھا: کیا آپ کسی کو جانتے ہیں جو حضرت حسن کے قول کے موافق کہتا ہو کہ جب خاوند اپنا اختیار بیوی کے سپرد کر دے تو اسے تین طلاقیں ہو جاتی ہیں؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ سوائے اس روایت کے جو قتادہ نے کثیر مولیٰ عبدالرحمن بن سمرہ سے، انہوں نے ابوسلمہ سے بیان کی کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح نقل فرماتے ہیں۔ ایوب کہتے ہیں کہ ہمارے پاس کثیر آئے تو میں نے ان سے سوال کیا، وہ فرمانے لگے: میں نے بیان ہی نہیں کیا۔ جب میں نے قتادہ سے تذکرہ کیا تو وہ فرمانے لگے: بیان تو کیا تھا لیکن وہ بھول گئے۔
کثیر کی حالت کے بارے میں کوئی ایسی بات ثابت نہیں جس سے اس کی روایت قبول کرنا لازم ہو، اور عام اہل علم کا قول اس کی روایت کے خلاف ہے، واللہ اعلم۔
(٢٤) «بَابُ الْمَرْأَةِ تَقُولُ فِي التَّمْلِيكِ طَلَّقْتُكَ وَهِيَ تُرِيدُ الطَّلَاقَ»
”عورت تملیک کے موقع پر «طَلَّقْتُكَ» کہہ کر طلاق کا ارادہ رکھتی ہے“
«قَدْ مَضَى حَدِيثُ الْأَسْوَدِ وَعَلْقَمَةَ فِي الرَّجُلِ الَّذِي قَالَ لِامْرَأَتِهِ: الَّذِي بِيَدِي مِنْ أَمْرِكِ بِيَدِكِ قَالَتْ: فَإِنِّي قَدْ طَلَّقْتُكَ ثَلَاثًا فَسَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ فَقَالَ: أُرَاهَا وَاحِدَةً وَأَنْتَ أَحَقُّ بِهَا وَسَأَلَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: وَأَنَا أَرَى ذَلِكَ»
”اسود اور علقمہ کی احادیث میں گزر گیا کہ وہ ایسے شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جس نے اپنا اختیار بیوی کو سونپ دیا، پھر بیوی نے تین طلاق کے بارے میں کہہ دیا تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا تو انہوں نے فرمایا: میرے خیال میں ایک طلاق ہوئی ہے اور خاوند رجوع کا زیادہ حق رکھتا ہے اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرا بھی یہی خیال ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 15048]
کثیر کی حالت کے بارے میں کوئی ایسی بات ثابت نہیں جس سے اس کی روایت قبول کرنا لازم ہو، اور عام اہل علم کا قول اس کی روایت کے خلاف ہے، واللہ اعلم۔
(٢٤) «بَابُ الْمَرْأَةِ تَقُولُ فِي التَّمْلِيكِ طَلَّقْتُكَ وَهِيَ تُرِيدُ الطَّلَاقَ»
”عورت تملیک کے موقع پر «طَلَّقْتُكَ» کہہ کر طلاق کا ارادہ رکھتی ہے“
«قَدْ مَضَى حَدِيثُ الْأَسْوَدِ وَعَلْقَمَةَ فِي الرَّجُلِ الَّذِي قَالَ لِامْرَأَتِهِ: الَّذِي بِيَدِي مِنْ أَمْرِكِ بِيَدِكِ قَالَتْ: فَإِنِّي قَدْ طَلَّقْتُكَ ثَلَاثًا فَسَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ فَقَالَ: أُرَاهَا وَاحِدَةً وَأَنْتَ أَحَقُّ بِهَا وَسَأَلَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: وَأَنَا أَرَى ذَلِكَ»
”اسود اور علقمہ کی احادیث میں گزر گیا کہ وہ ایسے شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جس نے اپنا اختیار بیوی کو سونپ دیا، پھر بیوی نے تین طلاق کے بارے میں کہہ دیا تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا تو انہوں نے فرمایا: میرے خیال میں ایک طلاق ہوئی ہے اور خاوند رجوع کا زیادہ حق رکھتا ہے اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرا بھی یہی خیال ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 15048]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف