السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3096. -- باب: الشك في الطلاق ومن قال: لا تحرم إلا بيقين تحريم
-- باب: طلاق میں شک پڑ جانے کا بیان اور اس شخص کا قول جس نے کہا کہ یقینی حرمت کے بغیر وہ (بیوی) حرام نہیں ہوتی۔
حدیث نمبر: Q15135
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: يَهْدِمُ الزَّوْجُ الْمُصِيبَهَا بَعْدَ الثَّلَاثِ وَلَا يَهْدِمُ الْوَاحِدَةَ وَلَا الثِّنْتَيْنِ وَاحْتَجَّ بِِمَا.
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”تین طلاقوں کے بعد اس سے ہمبستری کرنے والا (دوسرا) شوہر (پچھلی طلاقوں کو) ختم کر دیتا ہے، لیکن ایک یا دو طلاقوں کو ختم نہیں کرتا۔“ اور انہوں نے اس سے استدلال کیا جو... [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: Q15135]
حدیث نمبر: 15135
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، نا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدٍ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعُبَيْدِ اللهِ هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَأَلْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَحْرَيْنِ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَةً أَوِ اثْنَتَيْنِ فَنَكَحَتْ زَوْجًا ثُمَّ مَاتَ عَنْهَا أَوْ طَلَّقَهَا فَرَجَعَتْ إِلَى الزَّوْجِ الْأَوَّلِ، عَلَى كَمْ هِيَ عِنْدَهُ؟ قَالَ:" هِيَ عِنْدَهُ عَلَى مَا بَقِيَ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بحرین کے ایک شخص کے متعلق پوچھا جس نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دے دی تھیں، اس عورت نے کسی دوسرے خاوند سے نکاح کر لیا، وہ فوت ہو گیا یا اس نے طلاق دے دی۔ پھر وہ پہلے خاوند کی طرف واپس آ گئی تو اس کی کتنی طلاقیں باقی ہیں؟ فرمایا: جتنی طلاقیں پہلی مرتبہ بچی تھیں، وہی باقی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 15135]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15136
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، نا الْحُمَيْدِيُّ، نا سُفْيَانُ، نا الزُّهْرِيُّ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: ثُمَّ انْقَضَتْ عِدَّتُهَا فَتَزَوَّجَهَا رَجُلٌ غَيْرُهُ، قَالَ الْحُمَيْدِيُّ: وَكَانَ سُفْيَانُ قِيلَ لَهُ فِيهِمْ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ فَقَالَ: نا الزُّهْرِيُّ هَكَذَا لَمْ يَزِدْنَا عَلَى هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةِ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْهُ قَالَ: لَا أَحْفَظُ فِيهِ عَنِ الزُّهْرِيِّ سَعِيدًا وَلَكِنْ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ نَحْوَ ذَلِكَ وَكَانَ حَسْبُكَ بِهِ.
امام زہری رحمہ اللہ اپنی سند اور معنی کے ساتھ نقل فرماتے ہیں، مگر انہوں نے کہا: پھر اس عورت کی عدت ختم ہو گئی تو کسی دوسرے شخص نے اس سے نکاح کر لیا۔ حمیدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سفیان رحمہ اللہ سے کہا گیا کہ ان (راویوں) میں سعید بن مسیب رحمہ اللہ بھی ہیں، تو انہوں نے کہا: ہمیں زہری نے اسی طرح بیان کیا، انہوں نے ہمیں ان تین سے زیادہ نہیں بتایا۔ جب اس سے فارغ ہوئے تو کہا: مجھے اس میں زہری سے سعید کا نام یاد نہیں، لیکن یحییٰ بن سعید نے ہمیں سعید سے، انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح بیان کیا، اور تمہیں یہی کافی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 15136]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15137
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، نا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، نا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ هَجَرَ يُقَالُ لَهُ مَزِيدَةُ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" هِيَ عِنْدَهُ عَلَى مَا ⦗٥٩٨⦘ بَقِيَ مِنْ طَلَاقِهَا" قَالَ: قَالَ سَعِيدٌ: وَكَانَ قَتَادَةُ يَأْخُذُ بِهَذَا الْقَوْلِ يَعْنِي فِي الرَّجُلِ يُطَلِّقُ تَطْلِيقَةً أَوْ تَطْلِيقَتَيْنِ ثُمَّ تَزَوَّجُ ثُمَّ يُرَاجِعُهَا.
مزیدہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: وہ عورت اس کے پاس انھی طلاقوں کے حساب سے رہے گی جو اس کی باقی رہتی ہیں، سعید کہتے ہیں کہ قتادہ نے اسی قول کو قبول کیا ہے کہ آدمی نے بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دے دیں، پھر وہ شادی کر لیتی ہے، پھر وہ مرد اس کو اپنی طرف واپس لاتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 15137]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15138
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، نا الزَّعْفَرَانِيُّ، نا أَبُو عَبَّادٍ، نا شُعْبَةُ، نا الْحَكَمُ، عَنْ مَزِيدَةَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ:" هِيَ عِنْدَهُ عَلَى مَا بَقِيَ".
مزیدہ بن جابر رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ یہ عورت مرد کے پاس باقی ماندہ طلاقوں پر رہے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 15138]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15139
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مَطَرٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" هِيَ عَلَى مَا بَقِيَ مِنَ الطَّلَاقِ" يَعْنِي فِي الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ فَتَبِينُ مِنْهُ فَتَزَوَّجُ زَوْجًا فَيُطَلِّقُهَا فَيَتَزَوَّجُهَا الْأَوَّلُ قَالَ: هِيَ عَلَى مَا بَقِيَ مِنْ طَلَاقِهَا.
عبدالرحمن بن ابی لیلی رحمہ اللہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ یہ عورت باقی ماندہ طلاقوں پر اپنے خاوند کے پاس رہے گی، یعنی ایسا شخص جس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تو وہ اس سے الگ ہو گئی، اس نے کسی دوسرے خاوند سے نکاح کر لیا، تو اس نے بھی طلاق دے دی، پھر پہلے خاوند نے دوبارہ نکاح کر لیا تو یہ پہلے خاوند کے پاس باقی ماندہ طلاقوں کی بنیاد پر رہے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 15139]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15140
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، نا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، نا سُفْيَانُ، نا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ:" هِيَ عَلَى مَا بَقِيَ مِنَ الطَّلَاقِ" وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بِخِلَافِ ذَلِكَ.
ابن سیرین رحمہ اللہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ یہ عورت باقی ماندہ طلاقوں پر ہی اپنے پہلے خاوند کے پاس رہے گی۔
عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے برخلاف منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 15140]
عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے برخلاف منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 15140]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 15141
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ وَبَرَةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" إِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَةً أَوْ تَطْلِيقَتَيْنِ ثُمَّ تَزَوَّجَهَا رَجُلٌ آخَرُ ثُمَّ تَزَوَّجَهَا هُوَ بَعْدُ قَالَ: تَكُونُ عَلَى طَلَاقٍ مُسْتَقْبَلٍ".
وبرہ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دے دیتا ہے، پھر کوئی دوسرا شخص اس عورت سے شادی کر لیتا ہے، پھر پہلا خاوند دوبارہ شادی کر لیتا ہے تو وہ نئے سرے سے تین طلاق دینے کا مجاز ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 15141]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15142
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْمِهْرَجَانِيُّ الْفَقِيهُ أنا أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو عَبْدِ اللهِ نا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ، نا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، نا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي الرَّجُلِ" يُطَلِّقُ تَطْلِيقَتَيْنِ ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا رَجُلٌ آخَرُ فَيُطَلِّقُهَا أَوْ يَمُوتُ عَنْهَا فَيَتَزَوَّجُهَا زَوْجُهَا الْأَوَّلُ قَالَ: فَتَكُونُ عَلَى طَلَاقٍ جَدِيدٍ ثَلَاثٍ" وَرُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
طاؤس حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ایسے شخص کے بارے میں نقل فرماتے ہیں جو بیوی کو دو طلاقیں دے دیتا ہے، پھر اس عورت سے کوئی شخص شادی کر لیتا ہے، پھر وہ اسے طلاق دے دیتا ہے یا فوت ہو جاتا ہے، پھر اس عورت سے اس کا پہلا خاوند شادی کر لیتا ہے تو اب اس کو تین طلاق دینے کا اختیار ہو گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 15142]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15143
أَخْبَرَنَا الشَّريفُ أَبُو الْفَتْحِ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، نا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ مُحَمَّدٍ ابْنِ الْحَنِيفَةِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" فِي الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَةً أَوْ تَطْلِيقَتَيْنِ ثُمَّ تُزَوَّجُ فَيُطَلِّقُهَا زَوْجُهَا قَالَ: إِنْ ⦗٥٩٩⦘ رَجَعَتْ إِلَيْهِ بَعْدَمَا تَزَوَّجَتِ ائْتُنِفَ الطَّلَاقُ وَإِنْ تَزَوَّجَهَا فِي عِدَّتِهَا كَانَتْ عِنْدَهُ عَلَى مَا بَقِيَ" الرِّوَايَةُ الْأُولَى عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَصَحُّ وَرِوَايَاتُ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنِ ابْنِ الْحَنِيفَةِ ضَعِيفَةٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
محمد بن حنفیہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایسے شخص کے بارے میں نقل فرماتے ہیں جس نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دے دیں، پھر اس نے کسی دوسرے خاوند سے نکاح کیا تو اس نے بھی طلاق دے دی، پھر وہ پہلے خاوند کے پاس چلی آئی تو نکاح کے بعد وہ نئے سرے سے طلاق کا آغاز کرے گا، اگر اس کی عدت میں شادی کر لی تو پھر اس کے پاس رہے گی باقی ماندہ طلاقوں پر۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پہلی روایت زیادہ صحیح ہے، اور ابن حنفیہ سے عبدالاعلیٰ کی روایات محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 15143]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پہلی روایت زیادہ صحیح ہے، اور ابن حنفیہ سے عبدالاعلیٰ کی روایات محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 15143]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف