🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3129. -- باب: من يلاعن من الأزواج ومن لا يلاعن
-- باب: ان شوہروں کا بیان جو لعان کر سکتے ہیں اور جو لعان نہیں کر سکتے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15302
أَخْبَرَنَاه أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ قَالَا: نا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، نا أَحْمَدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الطَّبَرِيُّ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنَانِيُّ، نا عُمَرُ بْنُ هَارُونَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَالْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ:" أَرْبَعٌ لَيْسَ بَيْنَهُنَّ وَبَيْنَ أَزْوَاجِهِنَّ لِعَانٌ، الْيَهُودِيَّةُ تَحْتَ الْمُسْلِمِ، وَالنَّصْرَانِيَّةُ تَحْتَ الْمُسْلِمِ، وَالْحُرَّةُ تَحْتَ الْعَبْدِ، وَالْأَمَةُ تَحْتَ الْحُرِّ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ عَنْ عَمْرٍو.
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) سے نقل فرماتے ہیں کہ ”چار (قسم کی عورتوں) اور ان کے خاوندوں کے درمیان لعان نہیں ہوتا: 1 وہ یہودیہ جو مسلم کے نکاح میں ہو، 2 وہ عیسائی عورت جو مسلم کے نکاح میں ہو، 3 وہ آزاد عورت جو غلام کے نکاح میں ہو اور 4 وہ لونڈی جو آزاد مرد کے نکاح میں ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ اللِّعَانِ/حدیث: 15302]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15303
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ الصَّيْدَلَانِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولُ:" أَرْبَعٌ مِنَ النِّسَاءِ لَيْسَ بَيْنَهُنَّ وَبَيْنَ أَزْوَاجِهِنَّ مُلَاعَنَةٌ: النَّصْرَانِيَّةُ تَحْتَ الْمُسْلِمِ، وَالْأَمَةُ تَحْتَ الْعَبْدِ، وَالْأَمَةُ تَحْتَ الْحُرِّ، وَالْحُرَّةُ تَحْتَ الْعَبْدِ" قَالَ الشَّيْخُ: وَفِي ثُبُوتِ هَذَا مَوْقُوفًا أَيْضًا نَظَرٌ؛ فَرَاوِي الْأَوَّلِ عُمَرُ بْنُ هَارُونَ وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ وَرَاوِي الثَّانِي يَحْيَى بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَأَمَّا الَّذِي قَالَهُ الشَّافِعِيُّ مِنْ أَنَّهُ مُنْقَطِعٌ فَلَعَلَّهُ نُقِلَ إِلَى الشَّافِعِيِّ كَمَا حَكَاهُ عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو وَذَلِكَ مُنْقَطِعٌ لَا شَكَّ فِيهِ وَلَكِنْ مَنْ رَوَاهُ مَرْفُوعًا أَوْ مَوْقُوفًا إِنَّمَا رَوَاهُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ وَذَلِكَ مَوْصُولٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ، فَقَدْ سَمَّى بَعْضُهُمْ فِي هَذَا جَدَّهُ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو: وَسَمَاعُ شُعَيْبِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ صَحِيحٌ مِنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللهِ لَكِنْ يَجِبُ أَنْ يَكُونَ الْإِسْنَادُ إِلَى عَمْرٍو صَحِيحًا، وَلَمْ تَصِحَّ أَسَانِيدُ هَذَا الْحَدِيثِ إِلَى عَمْرٍو، وَاللهُ أَعْلَمُ.
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ چار قسم کی عورتوں اور ان کے خاوندوں کے درمیان لعان نہیں ہوتا: عیسائی عورت جو مسلم کے نکاح میں ہو، لونڈی جو غلام کے نکاح میں ہو، لونڈی جو آزاد کے نکاح میں ہو اور آزاد عورت جو غلام کے نکاح میں ہو۔
اس روایت کا موقوف ہونا بھی محل نظر ہے، کیونکہ پہلی روایت کا راوی عمر بن ہارون ہے جو قوی نہیں، اور دوسری کا راوی یحییٰ بن ابی انیسہ ہے جو متروک ہے۔ رہی امام شافعی کی یہ بات کہ یہ منقطع ہے، تو شاید ان تک یہ اسی طرح پہنچی جیسے عمرو بن شعیب نے عبداللہ بن عمرو سے بیان کی، اور یہ بلاشبہ منقطع ہے، لیکن جس نے بھی اسے مرفوع یا موقوف روایت کیا ہے اس نے اسے عمرو عن ابیہ عن جدہ ہی کے طریق سے روایت کیا ہے، اور یہ محدثین کے نزدیک موصول ہے، بعض راویوں نے اس میں ان کے دادا کا نام بھی لیا ہے اور کہا ہے: عبداللہ بن عمرو۔ اور شعیب بن محمد بن عبداللہ کا اپنے دادا عبداللہ سے سماع صحیح ہے، لیکن ضروری ہے کہ عمرو تک سند صحیح ہو، اور اس حدیث کی سندیں عمرو تک صحیح نہیں ہیں۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ اللِّعَانِ/حدیث: 15303]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15304
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، نا الْقَاسِمُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَوْهَرِيُّ، نا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، نا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْأَيْلِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عَتَّابُ بْنُ أَسِيدٍ إِنِّي قَدْ بَعَثْتُكَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ فَانْهَهُمْ عَنْ كَذَا"، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ" أَرْبَعَةٌ لَيْسَ بَيْنَهُمْ مُلَاعَنَةٌ: الْيَهُودِيَّةُ تَحْتَ الْمُسْلِمِ، وَالنَّصْرَانِيَّةُ تَحْتَ الْمُسْلِمِ، وَالْعَبْدُ عِنْدَهُ الْحُرَّةُ، وَالْحُرُّ عِنْدَهُ الْأَمَةُ" وَهَذَا الْحَدِيثُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ بَاطِلٌ، يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْأَيْلِيُّ أَحَادِيثُهُ غَيْرُ مَحْفُوظَةٍ، وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عتاب بن اسید! میں نے تجھے اہل مکہ کی طرف بھیجا ہے، انہیں فلاں فلاں کام سے منع کرنا۔“ اس نے حدیث کو ذکر کیا، اس میں ہے کہ ”چار کے درمیان لعان نہیں ہوتا: 1 یہودیہ مسلم کے نکاح میں ہو، 2 عیسائی عورت مسلم کے نکاح میں ہو، 3 آزاد عورت غلام کے نکاح میں ہو، 4 لونڈی آزاد مرد کے نکاح میں ہو۔“
یہ حدیث اس سند کے ساتھ باطل ہے، یحییٰ بن صالح ایلی کی احادیث غیر محفوظ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ اللِّعَانِ/حدیث: 15304]
تخریج الحدیث: «باطل»

الحكم على الحديث: باطل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں